بیٹی کے خلاف بلیک میلنگ میں والد کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لڑکی نے انتہائی سہمی ہوئی آواز میں کونسلر کو بتایا کہ وہ اپنے ایک سیکنڈ کزن کے ساتھ دو تین دفعہ اکیلے میں ملی ہے اور ایک دفعہ چند گھنٹوں کے لیے گھر سے باہر بھی اس کے ساتھ گئی تھی۔ وہ کزن اس کو اچھا لگتا تھا اور اس سے پیار کا دعوی بھی کرتا تھا۔ ملاقات کے دوران اس کزن نے اپنے فون سے کچھ عام سے فوٹو بھی بنا لیے تھے۔ لڑکی کو گھر میں اپنا الگ موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں تھی لیکن اسی کزن نے اسے ایک چھوٹا سا فون بھی لے دیا جو اس نے گھر والوں سے چھپا کر اپنے پاس رکھا ہوا تھا اور اس کے ذریعے وہ آپس میں بات بھی کر لیتے تھے۔ لڑکی کی عمر بائیس تئیس برس ہو گی اور وہ کزن اس سے چھ سال بڑا تھا۔

لڑکی نے مزید بتایا کہ اب کزن کے مطالبات بڑھنا شروع ہو گئے اور انکار پر اس نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس کے گھر سے باہر بنے ہوئے فوٹو اس کے والد کو بھیج دے گا۔ لڑکی نے بتایا کہ اس کے والد بہت سخت آدمی ہیں اور سارے گھر والے ان سے بہت ڈرتے ہیں۔ وہ کہتی کہ اگر اس کے والد کو پتا چل گیا تو وہ ان کا سامنا نہیں کر سکے گی۔ ایسی صورت میں اس کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

یہ واقعہ چند سال پہلے کا ہے۔ لڑکی نے تشدد کا شکار عورتوں کی مدد کے لیے ٹیلی فون ہیلپ لائن پر کال کر کے مدد چاہی تھی۔ ہیلپ لائن پر کال ریسیو کرنے والی کونسلر نے اسے بتایا کہ بالکل مدد کی جا سکتی ہے۔ اس کزن کا نام، ایڈریس اور فون نمبر بتائیں تاکہ اس کی شکایت پولیس میں کی جا سکے۔ تو لڑکی نے کہا کہ نہیں وہ پولیس میں شکایت کرنے سے بہت ڈرتی ہے کیونکہ اس طرح سے تو بات اس کے والد تک پہنچ ہی جائے گی اور یہی تو وہ چاہتی نہیں ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم ہیلپ لائن سے آپ کے کزن کو فون کر کے کچھ سمجھانے بجھانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ آپ کو تنگ نہ کرے۔ تو اس بات سے بھی لڑکی ڈر گئی کہ کزن اگر غصے میں آ گیا اور اس نے سب کچھ اس کے والد کو بتا دیا تو پرابلم ہو جائے گا۔

کونسلر بھی بہت پریشان ہو گئی۔ کیونکہ ان دونوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کیا جائے کہ اس لڑکی کی جان اس کزن سے چھوٹ جائے اور بات اس کے والد صاحب تک نہ پہنچے۔ لڑکی نے یہ بھی کہا کہ ہیلپ لائن کبھی اسے کال نہ کرے کیونکہ یہ بھی اس کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ وہ جب بھی کال کر سکے گی خود ہی کرے گی۔ اسی پریشانی میں کال کٹ گئی۔ اس کے بعد بھی اس لڑکی نے دو تین کالیں کیں لیکن کوئی حل نہ نکل سکا۔ لڑکی نے بتایا کہ پرابلم بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

اس کے بعد خاموشی ہو گئی۔ یہ کیس اب بھی ہیلپ لائن کی ”کیسز۔ ان۔ پروسیس“ کی لسٹ میں موجود ہے۔ ہیلپ لائن کو نہیں معلوم کہ وہ لڑکی اس کزن کی سیکس سلیو کے طور پر ابھی زندہ ہے اور خود کشی کر چکی ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی اکیلی کہانی نہیں ہے۔

ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بلیک میل کرنا نہ تو نیا ہے اور نہ ہی اسے برا سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً اس کہانی میں معاشرے کے بہت لوگ لڑکی کو ہی گناہ گار ٹھہرائیں گے کہ اس نے کزن سے ملنے والی غلطی کی کیوں اور اگر کی ہے تو پھر بھگتے۔ یہ کوئی نہیں سمجھے گا کہ لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں اور ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ اور اس غلطی کی سزا یہ نہیں ہے جو اسے دی جا رہی ہے۔

انٹرنیٹ سے پہلے زمانے میں لڑکا لڑکی کو دھمکی دیتا تھا کہ وہ اس کے محبت نامے یعنی خطوط اس کے والد صاحب کو بھیج دے گا اب وہ کہتا ہے کہ وہ اس کے فوٹو اس کے گھر والوں کو بھیج دے گا۔ عورتوں کے خلاف ہونے والے باقی جرائم کی طرح اس پر بھی کوئی ڈیٹا تو موجود نہیں ہے لیکن اس شعبے میں کام کرنے والے خواتین و حضرات یہ بات جانتے ہیں کہ ہزاروں نہیں تو سیکڑوں پاکستانی لڑکیاں ہر روز اس بلیک میلنگ کا شکار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کسی نہ کسی طرح کسی مرد پر اعتبار کیا ہوتا ہے اور پھر اس کی قیمت چکاتی رہتی ہیں۔

میں یہ بھی ساتھ ہی بتا دوں کہ بہت تھوڑی تعداد ان خوش قسمت لڑکیوں کی بھی ہے جن کو دنیا کا کوئی مرد بلیک میل نہیں کر سکتا۔ یہ وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جن کے والدین، خاص طور پر والد، ان کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور بلیک میلر کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔

والدین کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ غلطی سے میری مراد کسی ایسے گھٹیا آدمی پر اعتبار کر لینا اور اس سے کوئی بھی رشتہ قائم ہو جانا جس کے وہ قابل نہ ہو۔ اس غلطی کا امکان اور بھی بڑھ جاتا ہے اگر آپ کی اپنی بیٹی کے ساتھ ایسی دوستی نہیں ہے کہ جس کے تحت جب وہ کسی مصیبت میں ہو تو سب سے پہلے آپ کو بتائے۔ یعنی جہاں باپ بیٹی کا اعتبار اور دوستی موجود ہو وہاں ایسی غلطی کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

اب چوائس آپ پر ہے۔ اگر آپ اپنے بچوں، خاص طور پر بیٹیوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں گے اور انہیں یقین دلائیں گے آپ ہر مشکل وقت میں آپ ان کا ساتھ دیں گے چاہے غلطی ان کی ہی کیوں نہ ہو تو جرائم پیشہ لوگ ان کو بلیک میل نہیں کر پائیں گے۔ اور اگر آپ ان کو خوفزدہ کر کے رکھیں گے تو وہ دوسروں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہیں گے اور آپ کا خاندان خدانخواستہ کسی بڑے حادثے کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 272 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *