جنگ جو جیتی نہیں جا سکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سی آئی اے کے ڈائرکٹر جارج ٹینیٹ کو بے چینی سے اپنے پاکستانی ہم منصب ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل محمود احمد کا انتظار تھا۔ یہ 9 / 11 کے دو دن بعد کا ذکر ہے جب امریکہ کو اپنی سر زمین پر ہونے والی بدترین دہشت گردی نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس روز لینگلے میں سی آئی اے کے ہیڈکوارٹرز کا تناؤ بھرا ماحول چند روز قبل جنرل محمود کی لینگلے آمد والے ماحول سے بالکل مختلف تھا۔“ جنرل، ہمیں تمہاری سپورٹ چاہیے ”ٹینیٹ نے جنرل کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔“ ہم پوری طرح تم پر انحصار کر رہے ہیں ”۔

زاہد حسین کی نئی کتاب No-Win War کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ آپ کو یقین آ جاتا ہے کہ حقیقت فکشن سے بڑھ کر پر تحیر ہوتی ہے۔ پہلے باب کا عنوان بھی بہت دلچسپ ہے ”تاریخ کا آغاز آج ہوتا ہے“ ۔ دو دن پہلے ہونے والی ملاقات میں گفتگو کا دائرہ القاعدہ اور اور افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی کے گرد گھومتا رہا تھا۔ نو ستمبر کو احمد شاہ مسعود کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کے باعث ماحول کشیدہ تھا۔ دو دن بعد یعنی گیارہ ستمبر کو وہ ہوا جو کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔

کتاب کا موضوع افغانستان کے سائے تلے پروان چڑھنے والے پاک امریکی تعلقات کی کہانی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے یہ بات بارہا دہرائی کہ جنرل پرویز مشرف بش کی ایک کال پر ڈھیر ہو گئے تھے لیکن زاہد بتاتے ہیں کہ جنرل محمود ستمبر کے پہلے ہفتے میں سرکاری دورے پر واشنگٹن گئے تھے اور سرکاری مصروفیات ختم ہونے کے بعد وہاں رک گئے تھے مگر اس دوران میں 9 / 11 ہو گیا۔ تیرہ ستمبر کو لینگلے سے ملاقات سے پہلے جنرل محمود کی ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ رچرڈ آرمیٹیج سے ملاقات ہوئی تھی۔

اور ”تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف ہو“ والا مشہور فقرہ آرمیٹیج نے جنرل محمود سے کہا تھا۔ کتاب میں اس طرح کے بہت سے حقائق اور انکشافات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ امریکہ پر القاعدہ کے دہشت گرد حملے کے دو ماہ بعد پرویز مشرف نیو یارک کے ایک ہوٹل میں صدر بش کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں موجود تھے جس میں بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور پہلے سے لگی ہوئی پابندیاں اٹھانے کی بات کی۔

زاہد حسین نے اس کتاب کے لئے بہت سے سول اور ملٹری حکام کے انٹرویوز کیے۔ اس کتاب کے لئے انہوں نے امریکی اور افغان حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے اس کتاب کا آغاز 2010۔ 2011 میں اس وقت کیا تھا جب وہ ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سنٹر واشنگٹن میں اسکالر کی حیثیت سے مقیم تھے۔ اب دس سال بعد یہ کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ ایک کتاب کے لئے حقائق اور معلومات حاصل کرنے کے لئے اگر دس سال تک محنت کی جائے تو یقیناً وہ قابل قدر اور قابل مطالعہ ہو گی۔

بہت عرصہ پہلے ریڈر ڈائجسٹ میں امریکیوں کے بارے میں پڑھی ہوئی ایک بات یاد آ رہی ہے۔ ’آپ کو ضرورت مند پا کے ایک امریکی اپنی قمیض بھی اتار کر آپ کو دے دے گا لیکن پھر اس کا اصرار ہو گا کہ آپ یہ قمیض اسی طرح پہنیں جس طرح وہ چاہتا ہے۔‘ پاک امریکی تعلقات کی نوعیت بھی کچھ اسی طرح کی رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا اہم حلیف تھا لیکن افغانستان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے امریکہ نے پاکستان کو سائیڈ لائن کر دیا تھا حالانکہ اس فیصلے کا پاکستان کی قومی سلامتی اور استحکام سے گہرا تعلق تھا۔

اس کتاب کو پڑھ کر افغانستان کے داخلی تضادات، مختلف گروہوں کی باہمی چپقلش اور ہمسایہ ممالک کے مفادات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ایران، ہندوستان اور پاکستان تینوں ممالک کے لئے افغانستان کیا اہمیت رکھتا ہے، اس کتاب کو پڑھ کر یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے۔ افغانستان میں ہندوستان کی کثیر سرمایہ کاری نے پاکستان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا، اسی لئے وہ حقانی، طالبان گروپ کی مدد کرتا رہا۔ 2006 میں بش کے ہندوستان کے ساتھ سویلین نیوکلیر ٹیکنالوجی کے غیر معمولی معاہدے نے بھی پاکستان کے عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ کیا۔

ساری کتاب اس طرح کی معلومات سے بھری ہوئی ہے جن سے بہت سے لوگ ابھی تک نا واقف ہیں۔ انیس سال تک افغانستان میں جنگ لڑنے کے بعد بالآخر امریکہ قیام امن کے لئے دوہا میں طالبان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہو گیا۔ امریکہ کی طرف سے زلمے خلیل زاد اور طالبان کی طرف سے ملا عبدالغنی بردار نے اس تاریخی امن معاہدے پر دستخط کیے۔ امریکی فوجوں کے انخلا کی مدت طے ہو جانے کو طالبان نے اپنی فتح گردانا۔ ایک طرح سے دوہا معاہدے نے ویت نام میں نصف صدی پہلے امریکہ کو جو ہزیمت اٹھانی پڑی تھی، اس کی یاد تازہ کر دی تھی۔ یہ ہتھیار ڈالنے کی دستاویز تو نہیں تھی مگر یہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کی طرف سے فتح کا اعلان بھی نہیں تھا۔

اسے قدرت کی ستم ظریفی ہی کہا جائے گا کی امریکی حکام اٹھارہ ماہ تک ان ہی طالبان رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے جنہیں وہ دہشت گرد قرار دے کر ان کا نام و نشان صفحہ ء ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ مذاکراتی ٹیم میں وہ طالبان بھی شامل تھے جو بدنام زمانہ گوانتانامو میں قید کاٹ چکے تھے۔ اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ تھی کہ ان ہی دنوں افغانستان سے آخری سوویت فوجی کے انخلا کی اکتیسویں سالگرہ منائی جا رہی تھی۔ روسی فوجیں تو افغانستان پر حملے کے ایک عشرے کے بعد 1989 میں واپس چلی گئی تھیں لیکن امریکہ دو عشروں تک ایک ایسی جنگ میں الجھا رہا جو جیتی نہیں جا سکتی تھی۔ زاہد حسین نے اپنی کتاب کا اختتام اسی امن معاہدے پر کیا ہے اور اسے دی اینڈ گیم کہا ہے۔ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پسند آئے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *