اہلخانہ کو دھمکیوں کے بعد کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں : حامد میر
پاکستان کے معروف صحافی، تجزیہ کار اور پروگرام ہوسٹ حامد میر نے کہا ہے کہ ان کے اہلخانہ کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
پیر کو انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک بیان میں کہا کہ ان کے لیے یہ سب نیا نہیں۔
’ماضی میں مجھ پر دو بار پابندی عائد کی گئی۔ دو بار ملازمت سے نکالا گیا۔ قاتلانہ حملے میں بچ نکلا اور یہ سب مجھے ان حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے نہ روک سکے جو آئین میں دیے گئے ہیں۔‘
اس سے قبل خبر آئی تھی کہ حامد میر کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر شو کیپیٹل ٹاک میں ان کو میزبانی سے روک دیا گیا ہے۔
Nothing new for me.I was banned twice in the past.Lost jobs twice.Survived assassination attempts but cannot stop raising voice for the rights given in the constitution.This time I m ready for any consequences and ready to go at any extent because they are threatening my family. https://t.co/82y1WdrP5S
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) May 31, 2021
سینیئر صحافی و اینکر عاصمہ شیرازی نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر حامد میر کو آف ائر کیا گیا یا ان پر پابندی عائد کی گئی تو انگلیاں طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی جانب اٹھیں گی اور ان الفاظ کی گونج سنائی دے گی جو انہوں نے کہے تھے۔
حامد میر نے عاصمہ شیرازی کے ٹویٹ پر لکھا کہ اس بار وہ کسی بھی قسم کے نتائج کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں کیونکہ ان کے خاندان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
بشکریہ پاکستان 24۔


