پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: کیا پسند کی شادی نے ماں بیٹی کی جان لے لی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


قتل

Getty Images

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے متصل ضلع حویلی دو خواتین کو مبینہ طور پر بدلہ لینے کی غرض سے قتل کرنے کے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

سنیچر کے روز دونوں خواتین کی لاشیں ان کے گھر میں لٹکی ہوئی ملی تھیں اور لواحقین کی جانب سے سٹی تھانہ میں درج کروائی گئی قتل کی ایف آئی آر میں 14 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی حویلی شوکت مرزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

مقامی پولیس سٹیشن سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق مبینہ طور پر قتل ہونے والی خواتین میں سے ایک کی عمر 52 برس تھی جبکہ ان کی بیٹی کی عمر 25 برس تھی۔

دونوں کا تعلق گجر قبیلے سے تھا اور یہ ضلع حویلی کی تحصیل ممتاز آباد کے گاؤں گوگڈرا کی رہائشی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

غیرت کے نام پر قتل یا خودکشیاں ؟

’غیرت‘ کے نام پر قتل اور میڈیا

تین برس میں 2000 سے زیادہ خواتین ’غیرت‘ کے نام پر قتل

’غیرت‘ کے نام پر قتل ثقافت کا نہیں سماج کا حصہ

ان خواتین کا قتل ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب 52 سالہ مقتولہ خاتون کا ایک بیٹا (جس کے نام ظاہر نہیں کیا جا رہا) گذشتہ کئی مہینوں سے اپنے گھر سے غائب تھا اور ان کے مخالف راٹھور قبیلے کا ایک خاندان ان کے خلاف اپنی بیٹی کے اغوا کی ایف آئی آر درج کروا چکا تھا۔

اس واقعے کے بعد لواحقین سمیت مقامی افراد نے ضلع حویلی میں مختلف مقامات پر احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ سمیت رابطہ سڑکوں کو بند کر دیا تھا تاہم مقامی انتظامیہ کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا ہے۔

لواحقین کے مطابق دونوں خواتین کو پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کر کے انھیں دفن کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ‘واقعے کا تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔’

مخالف قبائل سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان پسند کی شادی

بی بی سی کی جانب سے اس واقعے کا پسِ منظر معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس حوالے سے دونوں قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد اور پولیس سے رہنمائی لی گئی ہے۔

یہ معاملہ دو قبائل یعنی راٹھور اور گجر قبیلے سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کا ہے۔ لڑکے کا تعلق گجر قبلیے سے ہے جبکہ لڑکی راٹھور قبیلے سے ہے۔ یہ دونوں قبائل سخت سیاسی حریف بھی ہیں اور ان کے ہاں آپس میں شادیاں کرنا بھی ناگوار سمجھا جاتا ہے۔

ایس ایس پی شوکت مرزا کے مطابق 24 مئی کو راٹھور قبیلے کے ایک خاندان کی جانب سے ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں 52 سالہ مقتولہ کے بیٹے پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے ان کے خاندان کی لڑکی کو 20 مئی کو اغوا کر لیا ہے۔

اس ایف آئی آر میں نامزد ہونے والے چھ افراد میں لڑکے کے والدین، ایک بہن اور بھائی شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تفتیش کا آغاز ہوا اور سب سے پہلے لڑکے کے موبائل کی لوکیشن کے ذریعے اس کا پتا لگانے کی کوشش کی گئی۔

ایس ایس پی مرزا شوکت کا کہنا ہے کہ انھیں ابتدائی طور پر تفتیش سے معلوم ہوا کہ لڑکی نے راولپنڈی میں ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں پسند کی شادی سے متعلق درخواست جمع کروائی تھی اور انھوں نے 26 تاریخ کو راولپنڈی کی مقامی عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے کورٹ میرج کے لیے حاضر ہونا تھا۔

مرزا شوکت بتاتے ہیں کہ پولیس نے اس وقت ان کی گرفتاری کے لیے تمام انتظامات کر لیے تھے تاہم وہ دونوں اس روز عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق مبینہ طور پر اغوا ہونی والی لڑکی کے گھر والوں نے ایف آئی آر میں درج کیا ہے کہ لڑکی شادی شدہ ہے مگر تاحال انھوں نے اس کے ثبوت پیش نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس بات کی سچائی اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتی کہ آیا لڑکی اغوا ہوئی یا وہ خود مرضی سے گئی جب تک وہ مل نہ جائے اور خود اس بات کا اقرار نہ کرے۔’

‘لڑکے اور لڑکی کی تلاش کے بعد جب واپس پہنچے تو قتل کی اطلاع ملی’

مبینہ طور پر قتل ہونے والی خواتین کے ایک رشتہ دار چوہدری نزاکت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ‘لڑکی کے گھر والوں کی جانب سے ایف آئی آر کے بعد لڑکے کے والد اور دو بھائیوں کو پولیس نے حراست میں لیا اور وہ لڑکے اور لڑکی کو تلاش کرنے میں ناکام ہونے کے بعد جب واپس راولاکوٹ پہنچے تو ان کو اس وقت اس افسوس ناک واقعہ کی اطلاع ملی۔’

ان کا کہنا ہے کہ ‘لڑکے کا ایک بھائی سرکاری ملازمت کرتا ہے اور وہ اس دوران گھر پر موجود نہیں تھا، جس بنا پر قتل ہونے والی خواتین گھر پر اکیلی تھیں۔’

انھوں نے کہا کہ ‘جب پولیس گھر کے مردوں کو اپنی تحویل میں رکھ کر لڑکے اور لڑکی کو تلاش کر رہی تھی تو ان کو چاہیے تھا کہ وہ خواتین کو تحفظ فراہم کرتے۔’

پولیس کے مطابق لڑکے کے والد نے، جو خود سابق پولیس افسر ہیں، اس دوران ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور اس وقت ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد پولیس کی تحویل میں نہیں ہے۔

تاہم دوسری جانب راٹھور قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم کے والد نے بی بی سی کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں نے بھی قبر میں جانا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سانحہ افسوس ناک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

تاہم انھوں نے اس قتل کو آئندہ الیکشنز کے ساتھ جوڑتے ہوئے اسے قبیلے کے خلاف ایک سازش قرار دیا اور کہا کہ ‘ایف آئی آر میں ہمارے قبیلے کے علاوہ دیگر قبیلوں کے افراد کا نام بھی ہے جو لڑکی کے والدین سے ہمدردی کر رہے تھے۔’

انھوں نے کہا ‘ہم تو پہلے دن سے اس بات پر متفق تھے کہ لڑکے کے قبیلے والے خاموشی سے لڑکی واپس کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اتنا بڑا معاملہ نہ تھا کہ قتل ہوتے مگر معلوم نہیں یہ کس نے ایسا کیا۔’

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ لڑکا اور لڑکی پسند کی شادی کرنے کی غرض سے بھاگے ہیں اور لڑکی غیر شادی شدہ ہے۔

‘دونوں قبائل کے درمیان کشیدگی اب ایک روایت بن چکی ہے’

پولیس کے مطابق دونوں قبائل کے درمیان مختلف نوعیت کی بنیاد پر ہر برس کشیدگی اب ایک روایت بن چکی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دونوں قبائل ایک دوسرے کے ساتھ عموماً شادیاں کم ہی کرتے ہیں اگر ہوئی بھی ہیں تو زیادہ تر پسند کی شادیا‍ں ہیں جس پر شادی کے بعد دونوں قبائل میں کشیدگی رہتی ہے۔

ایس ایس پی شوکت مرزا کا کہنا ہے کہ ‘گو کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنا باقی ہے جس سے قتل کی تصدیق ہو گی۔’

اس خطے میں سماجی ترقی اور صنفی امتیاز کے خلاف کام کرنی والی غیر تنظیم پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے سربراہ خواجہ ظفر نے کہا ہے کہ ‘پولیس کو دونوں قبیلوں کے درمیان ماضی کے واقعات کے پیش نظر مقتولین کے خاندان کو بروقت تحفظ دینا چاہے تھا تاکہ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے سے بچ جاتی۔’

انھوں نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس خطے کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ پر شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کے علاوہ قانون ساز اسمبلی میں خواتین کے قتل جیسے ایسے واقعات کے روک تھام کے لیے سخت سے سخت قانون سازی کریں.

انھوں نے کہا کہ ‘پسند کی شادی مذہب اسلام میں جائز ہے اور اس خطے میں سماجی ڈھانچے کو مساوی بنیادیو‍ں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے.’

خواجہ ظفر نے کہا کہ ‘اس خطے میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا رجحان ہے جس کے تدارک کے لیے ریاست موثر اقدامات اٹھائے۔’

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع حویلی میں پسند کی شادی پر آمنے سامنے ان دو قبائل کا مقامی سطح پر کئی برسوں سے سیاست میں بھی آمنے سامنے رہنے کا رجحان کافی حد تک ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp