’تو گویا اب بھونکنے پر بھی پابندی عائد ہے؟‘
پاکستان میں صحافت کی تاریخ تابناک نہیں بہت بھیانک ہے۔ آمرانہ نظام حکومت کے دیے گئے زخموں سے پاکستانی صحافت لہولہان ہے۔ 1947ء میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اسمبلی کے رکن میاں افتخار الدین نے لاہور میں پراگریسو پیپرز لمیٹڈ کے نام سے میڈیا ہاؤس کی بنیاد رکھی۔ اس میڈیا ہاؤس کے زیراہتمام ملک کے نامی گرامی شاعروں اور ادیبوں کی زیر ادارت انگریزی میں پاکستان ٹائمز اور اردو میں روزنامہ امروز پبلش ہوتے تھے۔ حکومت وقت پر سخت تنقید ہوتی جسے حکومت پسند نہیں کرتی تھی۔ 1951ء میں پاکستان ٹائمز کے مدیر عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد فیض کو اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت ختم کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر کے پس زنداں ڈال دیا جاتا ہے۔
وقت گزرتا ہے ایوب خان کی آمریت آتی ہے۔ ایوب خان نے اپنی حکومت کو دوام دینے کے لیے اظہار کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ’شہاب نامہ‘ میں لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب نے مارشل لا نافذ کیا تو ساتھ ہی اخبارات پر سنسر لگ گیا۔
’افواہیں پھیلانا بھی جرم قرار دیا گیا۔ مارشل لا لگتے ہی ایک روز صبح سویرے قرۃ العین حیدر میرے ہاں آئی اور آتے ہی بولی، اب کیا ہو گا؟‘
’کس بات کا؟ میں نے وضاحت طلب کی۔‘ عینی بولی: ’اب ادبی چانڈو خانوں میں بیٹھ کر گفتگو کرنا بھی جرم ٹھہرا۔‘ ہاں، میں نے کہا: ’گپ شپ بڑی آسانی سے افواہ سازی کے زمرے میں آ کر گردن زدنی قرار دی جا سکتی ہے۔‘
عینی بڑے کرب سے بولی: ’تو گویا اب بھونکنے پر بھی پابندی عائد ہے؟‘ میں نے مارشل لا کے ضابطے کے تحت بھونکنے کے خطرات و خدشات کی وضاحت کی تو عینی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کسی قدر لاپرواہی سے بولی: ’ارے بھئی! روز روز کون بھونکنا چاہتا ہے لیکن بھونکنے کی آزادی کا احساس بھی تو عجیب نعمت ہے۔
جنرل ایوب خان کی طویل آمریت کی رخصتی ہوتی ہے اقتدار کی باگیں ایک اور جنرل کے ہاتھ میں آ جاتی ہیں۔ تاریخ اسے جنرل یحییٰ کے نام سے جانتی ہے۔ جنرل سے پہاڑ سی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں ملک دولخت ہو جاتا ہے۔ جنرل کی اقتدار سے رخصتی ہوتی ہے۔
بھٹو جیسا زیرک، بلند قامت لیڈر ملک کا سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان کے منصب پر فائز ہوتا ہے۔ الطاف حسن قریشی اپنی کتاب ”ملاقاتیں کیا کیا“ میں رقمطراز ہیں کہ بھٹو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تنقیدی مضامین لکھنے پاداش میں راقم، ڈاکٹر اعجاز قریشی اور مجیب الرحمان شامی مارشل لاء کے تحت گرفتار کر لیے جاتے ہیں۔ اردو ڈائجسٹ اور زندگی کے ڈیکلریشن منسوخ ہوئے اور پریس ضبط کر لیا گیا۔ پنجاب پنج کے مدیر حسین نقی اور پبلشر مظفر قادر مارشل لا کی زد میں آ جاتے ہیں۔ مقدمہ چلتا ہے فوجی عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں ہمیں ایک سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔
بھٹو اپنے ہی لگائے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیاءالحق کے ہاتھوں اقتدار سے بے دخل ہوتے ہیں۔ فوجی حکومت پر اخبار نویسوں کی طرف سے لکھے گئے تنقیدی مضامین جنرل کی طبعیت پر گراں گزرتے ہیں۔ صحافیوں کو اوقات میں لانے کے لیے ان کی ننگی پیٹھ پر تازیانے برسائے جاتے ہیں۔ درجنوں قلم کاروں کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔ اخبارات کے ڈیکلریشن منسوخ ہوتے ہیں۔
سنہ 1992 میں نواز شریف اقتدار میں ہوتے ہیں دی نیوز کی ایڈیٹر ڈاکٹر ملیحہ لودھی ہوتی ہیں۔ ان کی ادارت میں احتساب سے متعلق مقامی اخبار میں ایک طنزیہ نظم شائع کی جاتی ہے جس میں ذو معنی انداز میں حاکم وقت کی ہنسی اڑائی جاتی ہے جو میاں صاحب کی طبعیت پر بھاری گزرتی ہے اخبار کی انتظامیہ کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے ازاں بعد صحافی برادری کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد واپس لے لیا جاتا ہے۔
میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت 1999 میں فرائڈے ٹائمز کے ایڈیٹر نجم سیٹھی کو گرفتار کر کے ان کے خلاف نقص امن کی فرد جرم عائد کی گئی۔ ایک ماہ تک حراست میں رکھا جاتا ہے پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انھیں رہائی کا پروانہ تھماتی ہے۔
جنرل مشرف کا دور بھی صحافت پر گراں گزرتا ہے۔ سلیم شہزاد کا قتل یوسف رضا گیلانی دور میں ہوتا ہے۔ پی پی دور حکومت میں جیو کے رپورٹر ولی خان کا قتل ہوتا ہے۔ نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں حامد میر کو کراچی میں گولیاں ماری جاتی ہیں۔ نواز شریف حامد میر کی عیادت کے لیے جاتے ہیں باقی تاریخ ہے۔ ڈان لیکس کے معاملے سے پہلے مرحوم مشاہد اللہ بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہیں۔ نواز شریف مشاہد اللہ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے بلکہ انھیں وزارت سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ ڈان لیکس کا معاملہ ہو تو پرویز رشید کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ نواز شریف قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے مصلحت پسندی سے کام لیتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کو قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔
عمران جب اپوزیشن میں تھے تو وہ آزاد میڈیا کی بات کرتے ہیں۔ صحافی خوش ہوتے ہیں کہ عمران اقتدار میں آ گئے تو وہ اظہار پر پابندیاں نہیں لگائیں گے۔ مگر ہوا سب کچھ اس کے برعکس، عمران اقتدار میں آتے ہیں تو دوسرے حکمرانوں کی طرح یہی میڈیا ان کی طبعیت پر گراں گزرتا ہے۔ ریاستی اداروں نے منصوبہ بندی سے میڈیا کو کنٹرول کر لیا۔ اخبارات کا گلا گھونٹنے کے لیے اشتہارات کی بندش کر دی گئی۔ اس حکومت نے میڈیا پر دباؤ کے طریقے بھی بدل دیے سوشل میڈیا پر حکومتی موقف سے اتفاق نہ کرنے والے میڈیا پرسنز کے خلاف مذموم پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے غلیظ گالیوں سے نوازا جاتا ہے۔ کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ ان سب سے ان کا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو رات کی تاریکیوں میں صحافیوں کو گھروں سے اٹھایا گیا۔ بزرگ دانشور عرفان صدیقی ہوں یا ابصار عالم، مطیع اللہ جان ہوں یا حامد میر سب کو ایک قطار میں کھڑا کر دیا گیا۔ عمران حکومت میں صحافت کو ادھ موا کر دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں قلم کی قسم کھاتا ہے اور ساتھ کہتا ہے کہ میں نے انسان کو بولنا سکھایا ہے۔ صحافی کے ہاتھ میں توپ و تفنگ نہیں ہوتی اس کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے جس سے وہ حکومت وقت کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ صحافت خطرے میں ہے صحافی کو یہ جنگ خود لڑنا ہو گی اپنا حق لینا ہو گا۔ آج صحافی متحد نہ ہوئے تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی دوسری جانب حکومت وقت اور اداروں کو بھی ذمہ داری کا ثبوت دینا ہو گا۔ قلمکاروں کی جانب سے کی گئی تنقید برائے اصلاح کو ٹھنڈے دل سے قبول کر کے اپنی اصلاح کرنا ہو گی۔

