ماضی میں اور نفسیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماضی کا گلدستہ پھولوں اور کانٹوں کے مجموعے پر ہی انحصار کرتا ہے، پھول خوشبو دیتے ہیں جس سے انسان اچھی یادوں کو سونگ سکتا ہے اور کاٹنے زندگی کے درد ناک واقعات کا غم تازہ کرنے کے لئے لہو بہانے کا کام کرتے ہیں، لیکن جب آپ اس گلدستے میں خوشی ڈھونڈنے کے لئے ہاتھ ڈالتے ہیں، تو ہاتھ خون سے رنگ جاتے ہیں اور زخم دل پر لگتے ہیں، کیونکہ زندگی کے زخم زیادہ ہوتے ہیں، اور یادیں زیادہ ہونے کے باوجود کم دکھائی دیتی ہیں، جن کے بارے میں انسان کا خیال ہمیشہ سے یہی ہوتا ہے کہ یہی خوشی کا اصل چہرہ ہے، حالانکہ جس چہرے کو وہ خوشیوں کا چہرہ ثابت کرنے پر اسرار کر رہا ہوتا ہے، وہ ایسے کسی جذبے سے ہی ناآشنا ہوتا ہے۔

ماضی انسان کبھی بھول نہیں سکتا، وہ چاہے بھی تو اس کا وجود تڑپ تڑپ کر اسے واپس ماضی میں دھکیل کر رہتا ہے، ذہنی خلش پیہم کبھی انسان کو سکون سے جینے نہیں دیتی، نقصان دہ ماضی انسان کا نفسیاتی دشمن بن جاتا ہے، جو اسی کا دودھ پی کر اسے ہی ڈنگ مرتا رہتا ہے، اور انسان کے لئے وہ ڈنگ سکون کا کام ہی تو ہوتا ہے، کیونکہ وہ کچھ اور سوچنا ہی نہیں چاہتا، نئیر مصطفیٰ کے الفاظ مستعار لے رہا ہوں، وہ کہتے ہیں کہ

” یہ انسان بھی عجیب چیز ہے۔ بھری برسات میں گھر سے نکلتے ہوئے چھتری لینا بھول جاتا ہے، آفس کے لئے نکلتے ہوئے موزے پہننا بھول جاتا ہے، زندگی کی بہت ساری خوشیاں بھول جاتا ہے، مگر اپنی ذات سے وابستہ درد نہیں بھلا پاتا، بستر پر لیٹے ہی، بلب کے بجھتے ہی، کمرے کی تاریکی تلخ یادوں کی سیاہیوں میں جذب ہو کر سارے جیون کو اندھا کر دیتی ہے“

شعور کی ایک نگاہ ڈال کر ماضی کو مکمل ایک نظر میں دیکھنا چاہوں بھی تو بجھے ہوئے چراغوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا، اور انہیں بجھے ہوئے چراغوں نے اندر جلا کر راکھ کر رکھا ہے،

قدامت پسند مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی اور پھر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی، ایسے گھرانے میں پھر بغاوت، پہلے سے قائم اصولوں سے چھیڑ چھاڑ اور پھر جدید تعلیم، میرے لئے انگنت مسائل کا باعث بن رہی ہے، نفسیاتی طور پر میں ایک ایسے کنویں میں گر چکا ہوں، جس کا پانی بھی بہ رہا ہو اور وہ بدبودار بھی ہو، ذہنی ٹینشن اور دباؤ کے تحت فیصلہ لیتے ہوئے، پہلے پڑھائی سے کنارہ کشی اختیار کی، آب میں شکوک و شبہات میں اسے فیصلہ کہ رہا ہوں ورنہ نفسیاتی دباؤ میں کیے گئے فیصلے کو فیصلہ نہیں کہا جا سکتا، پھر اس فیصلے کو کور کرنے کے ایک اور غلط فیصلہ، پھر ایک سے بڑھ کر ایک غلط فیصلہ جس سے مسلسل ہیجان کی کیفیت نے میرے پانچ سال ان فیصلوں کے بھینٹ چڑھا دیے، اور یہ عمل جاری ہے، والد کی ہر طرح کی بلیک میلنگ، نفسیاتی ٹارچر اور مار پیٹ کو اپنے اندر سموئے میں جس کرب سے گزر رہا تھا کبھی کسی سے بانٹ نہیں پایا، اور جب بانٹنے کا فیصلہ کیا اس وقت حالات بدل چکے تھے، یعنی ایک اور غلط فیصلہ جس نے ذلیل کیا اور خوار تو میں پہلے سے ہی ہو رہا تھا۔

بغاوت کسی بھی طبقے میں ہو شاید حالات میں تلخیاں آ ہی جاتی ہیں، پہلے پہل گھر پر ہی بغاوت کی سزا دی جا رہی تھی، لیکن آب پورا خاندان جج بن گیا ہے، اور اپنی ہر نشست میں مجھے کٹہرے میں کھڑا کر کے سزا سناتا ہے، اس سزا کی نوعیت گھر کی سزا سے قدرے کم لیکن محسوس ہونے میں زیادہ دردناک ہے، میرے کردار، مذہب، سوچ، سوالات اور چہرے پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے،

جس کے نقصانات میں ظاہری زندگی میں خود دیکھ رہا ہوں، لڑکپن، جوانی، پڑھائی، کیریئر سب برباد ہو رہا ہے، اور کسی حد تک ہو چکا ہے، ڈپریشن میں انسان کی سوچ بالکل جامد ہو کر رہ جاتی ہے، نیند سے پہلے کا وقت ایسی اذیت میں گزرتا ہے، جس میں انسان کسی پر غصہ نکال بھی نہیں سکتا اور اسے پی بھی نہیں سکتا، کیونکہ غصہ بھی ایک حد تک پیا جا سکتا ہے، سالوں سے وہ غصہ گرد و غبار کی طرح اندر جمع ہو کر جان لیوا زہر کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، نقصان پہنچانے یا اس کا باعث بننے والے کردار جب آنکھوں کے سامنے سے گزرتے ہیں تو خون کھول اٹھتا ہے۔

مختلف زاویوں سے دیکھا جائے تو میں آج خاندان کی نظر میں ایک آزاد ”شاید شیطان جیسی“ زندگی گزار رہا ہوں، لیکن جس اذیت اور ذہنی پریشانی کا میں مقابلہ کر رہا ہوں، وہ ایک دن مجھے کسی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ضرور کر دے گی، لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا کیونکہ جب بغاوت کر ہی دی ہے، تو پھر باغی بن کر رہا جائے نہ کہ بے حس ہو کر مر جاؤں، مجھے ایک اپنا ہی جملہ یاد آ رہا کہ ”اس آزادی کی میں نے بہت بھاری قیمت چکائی ہے“ ، خاندان میں امیج خراب ہو چکا ہے، منافق لوگ سامنے ہنس کر ملتے ہیں اور پیٹھ پیچھے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں، گھنٹوں یہی سوچتا رہتا ہوں، صبح سے شام اور شام سے رات اور پھر رات گئے یہ سلسلہ رکتا ہی نہیں، اور جب دھیان کہیں اور بٹانے کی کوشش کرتا ہوں تو تکلیف ہوتی ہے، جیسے میں جان بوجھ کر زخم کو اگنور کر رہا ہوں۔

ماضی سے پیچھا چھڑانا بھی نہیں چاہتا کیونکہ آب وہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے، اور اسے بھلا کر یا کسی ردی کی ٹوکری میں پھینک کر آگے بھی بڑھنا چاہتا ہوں، لیکن آزمائش کا وقت ابھی سر پر سینہ تانے مجھے خبردار کر رہا ہے کہ ابھی تو شاید وقت شروع ہوا ہے، جس طبقے میں تم نے بغاوت کی ہے وہ آسانی سے تمہیں بیٹھنے نہیں دے گا، سفر لمبا ہے، بغاوت کے نتائج ملتے رہیں گے۔

”آب قلم نے اوراق سے بغاوت نہ کی تو آئندہ بھی اسی موضوع پر لکھتے رہے گے، کیونکہ بانٹنے سے شاید غم بھی کم ہو جاتا ہے۔ جاہلوں کے علم کی طرح“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *