پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی: آزادیٔ اظہار کی ضمانت یا مزید قدغنیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت کی جانب سے پی ایم ڈی اے کے قیام کے لیے مشاورت کی غرض سے مختلف صحافتی اور میڈیا مالکان کی تنظیموں کو ڈرافٹ بھیجا گیا ہے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا، اخبارات، ڈیجیٹل میڈیا اور میڈیا سے منسلک دیگر پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک نئے ادارے ‘پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی’ کے قیام کے لیے بل جمعے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نئی اتھارٹی کے قیام سے میڈیا کی آزادی، غیر جانب داری اور صحافتی اقدار کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ تاہم پاکستان میں صحافتی تنظیموں اور اپوزیشن کی بعض سیاسی جماعتوں نے اس بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے قیام کے لیے مشاورت کی غرض سے مختلف صحافتی اور میڈیا مالکان کی تنظیموں کو ڈرافٹ بھی بھیجا گیا ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حکومت اسے نافذ العمل کرنے کے لیے جلد صدارتی آرڈیننس بھی لانا چاہتی ہے۔

پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیا ہے اور کیسے کام کرے گی؟

وائس آف امریکہ کے پاس موجود دستاویز کے مطابق اتھارٹی کے قیام کا مقصد مختلف اقسام کے میڈیا کی ریگولیشن کو ایک ہی چھت تلے لانا ہے۔

مجوزہ اتھارٹی کے قیام کے بعد پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)، پریس کونسل آف پاکستان اور اس جیسے دیگر ادارے اسی اتھارٹی میں ضم ہو جائیں گے۔

حکومت کے مطابق اس اتھارٹی کے قیام سے سرخ فیتے اور مختلف قوانین کے دہرے نفاذ کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

ڈرافٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جمہوری نظامِ حکومت میں میڈیا کو سیلف ریگولیشنز کے ضابطے کے تحت چلنا چاہیے۔ تاہم، اس میں حکومتی کردار شامل کر کے نیا ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے جو میڈیا سے جڑے تمام پلیٹ فارمز کا احاطہ کرے گا۔

اتھارٹی پاکستان میں بننے والی فلمز، الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کے مواد اور اشتہارات کو ریگولیٹ کرے گی جب کہ یہ ادارہ نہ صرف پرائیویٹ بلکہ سرکاری میڈیا کو بھی ریگولیٹ کر سکے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ‘پی ایم ڈی اے’ کے قیام کے بعد میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے دیگر تمام قوانین کا خاتمہ کر دیا جائےگا۔

حکومت کے مطابق، اس قانون کے تحت اخبارات اور جرائد وغیرہ کی رجسٹریشن آن لائن ممکن ہوسکے گی جب کہ مطبوعات اور پرنٹنگ پریس کی ڈیکلیئریشن جاری کرنا بھی اسی اتھارٹی کے ذمے ہو گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فلموں کی پروڈکشن، نمائش، ڈیجیٹل میڈیا کی رجسٹریشن، مانیٹرنگ، تجزیہ، ریٹنگ کا اجرا اور قوانین کا نفاذ بھی اتھارٹی کرے گی۔

‘میڈیا کمپلین کونسل’ میڈیا اداروں کے خلاف شکایات سنے گا

لائسنسنگ کے اجرا کے ساتھ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے تحت قائم ‘میڈیا کمپلین کونسل’ میڈیا کے خلاف ہر قسم کی شکایات سننے کا بھی مجاز ہو گا۔

اسی طرح میڈیا ملازمین کی تنخواہیں اور اس سے متعلق تنازعات کا حل بھی اسی ادارے کے تحت ہو گا۔

اس کونسل کو شکایات موصول ہونے والے ادارے کو طلب کرنے کا اختیار بھی ہو گا۔

میڈیا ٹربیونلز میں کونسل کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق

قانون کے تحت حکومت ‘میڈیا ٹربیونل’ کا قیام بھی عمل میں لائی گی جس کے پاس تمام عدالتی اختیارات ہوں گے اور وہ میڈیا کمپلین کونسل یا پی ایم ڈی اے کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سنے گا، جس میں میڈیا ملازمین کی اداروں کے خلاف شکایات بھی شامل ہیں۔

دس رکنی ٹریبونل ہائی کورٹ کا جج رہنے والے شخص کی سربراہی میں ہو گا جب کہ ٹریبونل میں دیگر افراد کا تقرر ان کے میڈیا، فلمز، سائبر سیکیورٹی، انسانی حقوق اور قانون سے متعلق تجربے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ٹربیونل کو ان اپیلوں پر 45 روز میں فیصلہ سنانا ہوگا جب کہ اس کے فیصلوں کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جاسکے گی۔

اتھارٹی کا قیام میڈیا پر ‘مارشل لا’ کے نفاذ کے مترادف قرار

دوسری جانب صحافی تنظیموں نے اس بل کو ڈریکونین قانون سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل کے ذریعے حکومت آئین میں دیے گئے آزادیٔ اظہار رائے کے حق کو دبانا چاہتی ہے۔

صحافتی تنظیموں کا یہ گلہ ہے کہ یہ قانون ملک کے آئین میں دیے گئے آزادیٔ اظہار کے اصول پر تباہ کن اثرات مرتب کرے گا۔

صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)، انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور پاکستان بار کونسل کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بل اس ذہنیت کا عکاس ہے جو لوگوں کو آزادیٔ اظہار دینے اور انہیں اطلاعات تک رسائی کا مخالف ہے۔

‘میڈیا پروفیشنلزم کے بجائے صرف اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہے گا’

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کی اتھارٹی کے قیام کے ذریعے حکومت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی طرح اب سوشل میڈیا، ڈرامے اور فلمز پر بھی سخت قسم کی سنسر شپ لانا چاہتی ہے۔

مشترکہ بیان کے مطابق بل کے تحت ٹی وی، ریڈیو اور ویب سائٹس کے لیے پانچ سے 15 برس کے لائسنس اور این او سی کے سالانہ اجرا کی تجویز کا مقصد نئے میڈیا اداروں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پہلے سے موجود میڈیا اداروں کو بھی اس اتھارٹی کے ذریعے بیورو کریسی، سیاستدانوں اور پس پردہ قوتوں کے دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس عمل سے میڈیا پروفیشنلزم کے بجائے صرف اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہے گا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ بل کے ذریعے میڈیا پر غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر ایسے ہی قوانین کے اطلاق سے متعلق حکم امتناع جاری کر رکھا ہے اور اس معاملے پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان قوانین کو تبدیل کیا جائے گا۔

پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک جانب حکومت صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بل پارلیمان میں پیش کر رہی ہے اور دوسری جانب اس کے برعکس ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے میڈیا پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔

‘میڈیا پر قدغن لگانے کا ارادہ نہیں، حکومت ہر قسم کی ترامیم کے لیے تیار ہے’

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے حکومت کی جانب سے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے بل کا دفاع کیا ہے۔

اس معاملے پر ‘جیو نیوز’ کے پروگرام ‘جرگہ’ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ میڈیا پر قدغنیں لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بل کے ذریعے میڈیا ورکرز کو اپنے اداروں یا مالکان سے ملازمت کے کانٹریکٹ کی خلاف ورزی پر اپیل کا حق دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مختلف ادارے کام کر رہے ہیں اور ان سب کو ایک ہی ادارے میں جمع کیا جا رہا ہے، تاکہ ریگولیشن کا نظام مؤثر بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ بل ڈرافٹ کی شکل میں ہے اور اسے تنظیموں کے پاس مشاورت کے لیے بھیجا گیا ہے۔

فواد چوہدری کے بقول حکومت اس بارے میں ہر قسم کی ترامیم کے لیے تیار ہے، اتھارٹی یا کونسل کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے ٹریبونل کی شکل میں پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا مؤقف تھا کہ رواں برس چھ ارب روپے کی ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ ہوئی جس میں سے حکومت کو کوئی بھی آمدنی نہیں ملی۔

اُن کے بقول فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو کہا گیا ہے کہ اسے ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے جس کے لیے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا چینلز کے لیے رجسٹریشن کی شرط رکھی گئی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ برطانیہ اور فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک میں جو قوانین متعارف کروائے گئے ہیں وہ بھی اسی نوعیت کے ہیں۔

فواد چوہدری کے مطابق قومی سالمیت کے وہ معاملات جن میں وفاقی کابینہ فیصلہ دے چکی ہو ان پر بات چیت کی اجازت نہیں ہو گی، لیکن اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر رائے دینے پر کوئی قید نہیں لگائی گئی۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ کسی تنازع کی صورت میں معاملے کو حل کرنے کے لیے ہی ٹریبونل تشکیل دیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2248 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *