سوشل اور روایتی میڈیا پر کاٹھی ڈالنے کی تیاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت میڈیا پر مزید قدغن لگانے کے اپنے ارادے پر استقامت سے قائم ہے، اب پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے نام سے ایک مسودہ سامنے آیا ہے جس پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی یہ بات وا ضح ہو جاتی ہے کہ اس کے پیچھے میڈیا پر کاٹھی ڈالنے کے سوا کوئی اور سوچ نہیں۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری اس وقت سے میڈیا کو فتح کر نے کے مشن پر کاربند ہیں جب وہ عمران خان صاحب کی کابینہ میں پہلی بار وزیر اطلاعات بنے تھے۔ وہ اکثر سی پی این ای جس کا میں صدر ہوں سے ملاقاتوں کے دوران اپنا موبائل فون لہرا کر کہتے تھے کہ اب یہ میڈیا ہے اس میڈیا میں آ پ کی کوئی حیثیت نہیں۔

اس وقت بھی وہ میڈیا کے لیے ون ونڈوآپریشن کی بات کرتے تھے لیکن اب تو آرڈیننس کی صورت میں بلی تھیلے سے با ہر آ گئی ہے۔ متذکرہ آرڈیننس کے مسودے میں بہت سی قابل اعتراض باتوں کے علا وہ ایک انوکھا تجربہ کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے جس کے مطابق ریڈیو، ٹی وی، اخبارات، ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا اور ویب ٹی وی چینل سب اتھارٹی کے چیئرمین کے تابع ہوں گے ۔ آرڈیننس کے مطابق انفارمیشن گروپ سے تعلق رکھنے والے افسر کو اس اتھارٹی کا چیئرمین بنانے کی تجویز ہے۔

پیمرا، پریس کونسل آف پاکستان، آڈٹ بیورو آف سرکولیشن جیسے ادارے ختم کر دیے جائیں گے اور بعض ممالک جنہیں جمہوری نہیں کہا جا سکتا کی طرح پاکستان میں بھی میڈیا کو ہرسال اپناکام جاری رکھنے کے لیے حکومت سے لائسنس کی تجدید کرانا پڑے گی، نیز متذکرہ اتھارٹی خصوصی عدالتوں کا رول ادا کرتے ہوئے میڈیا کو بھاری جرمانے کر سکے گی۔ حسب توقع اس نام نہاد کا لے قانون، جسے میڈیا پر مارشل لا لگانے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے کے مطابق پاکستان کے قومی نظریے، سکیورٹی جیسے معاملات پر خیال آرائی کی اجازت نہیں ہو گی گویا کہ فوج پر کسی قسم کی تنقید برداشت نہیں کی جائے گی حالانکہ عسکری اداروں سمیت ہر شہری کو برابری کے حقوق حاصل ہیں لیکن یقیناً اس معاملے میں ہمارے ہاں کچھ شرارتی لوگ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

فوٹو شاپ کر کے بنائی گئی الف لیلیٰ کی داستانیں پھیلائی جا رہی ہیں لیکن ایسے شرپسندعناصر کی حرکتوں کی سزا پورے میڈیا کو نہیں ملنی چاہیے۔ آرڈیننس میں اتنی پابندیاں تجویز کرنے کے باوجو د لگتا ہے کہ تسلی نہیں ہو رہی اور اس میں یہ شق بھی ڈال دی گئی ہے کہ مجوزہ کالے قانون کے تحت وفاقی حکومت کو وقتاً ً فوقتاً ً اتھارٹی کو ڈائریکٹوز یعنی ایسے احکاما ت جاری کرنے کا اختیار ہو گا جن پر عمل کرنا لازمی ہو گا۔ یہ بات نا قابل فہم ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت صحافیوں کے پیچھے پنجے جھاڑ کر کیوں پڑی ہے۔

اس وقت میڈیا جزوی طور پر کورونا وبا کی بنا پر مالی بحران کا شکار ہے ایسے موقع پر میڈیا کے لیے اشتہارات کی مد میں بجٹ میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے جب وزیر اطلاعات سے بات کی جائے تو وہ ٹکہ سا جواب دیتے ہیں کہ ایک طرف میڈیا کہتا ہے کہ وہ نجی شعبہ اور آ زاد ہے اور دوسری طرف حکومت سے اشتہارات مانگتاہے حالانکہ سرکاری اشتہارات کی بات کرنا کوئی خصوصی مدد مانگنا نہیں۔ ملک میں کئی صنعتیں، جن میں ٹیکسٹائل، فرٹیلائزر خاص طور پر قابل ذکر ہیں، نجی شعبے میں کام کر رہی ہیں ان کو حکومت کی طرف سے مراعات دی جاتی ہیں۔

اس پس منظر میں سوال پیداہوتا ہے کہ میڈیا سے خان صاحب کی آخر کیا ناراضی ہے۔ موجودہ حکومت اس حوالے سے منفرد ہے کہ ایک طرف سے میڈیا کی طنابیں کسی جا رہی ہیں دوسری طرف اس کی خدمات سے بھرپور فائد ہ بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے نام نہاد ترجمانوں کی فوج ظفر موج اکٹھی کی ہوئی ہے جنہیں خان صاحب باقاعدگی سے خود بریف کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے ہر اعتراض کا بھرپورطر یقے سے دوٹوک جواب دیا جاتا ہے۔

جہاں تک وزیر اعظم کا تعلق ہے وہ خودمیڈیا پر کسی نہ کسی حوالے سے براجمان رہتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے ٹیلی فون پر را بطے کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے جو ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل میڈیا پر نشر ہوتا ہے۔ اس کے باوجود غالباً ً تحریک انصاف کی قیادت میں یہ تاثر جاگزین کر گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا وجود میڈیا کے مرہون منت ہے جو شریفوں کے لفافوں پر پلتا ہے، یہ دعویٰ کر نادرست نہیں ہو گا کہ میڈیا میں کام کرنے والے تمام پاکباز اور پوتر ہیں لیکن یہاں بھی دیگر شعبوں کی طرح کرپشن کا عنصر موجو د ہے۔

اس معاملے میں محض میڈیا کو مطعون کرنا مبنی برانصاف نہیں اور نہ ہی باقی سیاسی جماعتیں دودھ میں دھلی ہوئی ہیں۔ لگتا ہے کہ خان صاحب کو احسا س ہی نہیں کہ ان کے زیر سایہ اس قسم کے غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرنے کے محرکات کیا ہوں گے ؟ چند روز قبل بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں فواد چودھری کو خاصا ٹف ٹائم ملا۔ خاص طور پر صحا فیوں سے ہونے والے ”حسن سلوک“ کا ذکر کیا گیا کہ نامعلوم افراد کس طرح حکومت پر سخت تنقید کرنے والے صحافیوں کی دن دیہا ڑے ٹھکائی کر دیتے ہیں اور بعض اوقات گولیوں کا نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے، اس پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا ”وزیر اعظم عمران خان کے حکومت میں آنے کے بعد سے صحافیوں پر حملوں میں کمی آئی ہے اور یہ کہ مغربی میڈیا کی جانب سے ایک طرح کا فیشن بن گیا ہے کہ جب بھی صحافیوں پر تشدد سے متعلق کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر اس کا الزام عائد کر دیا جاتا ہے“ ۔

واضح رہے کہ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز تنظیم کے مطابق صرف سال 2020 میں پاکستان میں چار صحافیوں کا قتل ہوا جو منشیات اور بدعنوانی کے موضوعات پر تحقیقی رپورٹنگ کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق 2020 میں 180 ممالک میں سے پاکستان کا درجہ 145 تھا جو کہ 2019 کے مقابلے میں تین درجے کی کمی تھی۔ آر ایس ایف کی فہرست کے مطابق سال 2016 اور 2017 میں پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری آئی تھی تاہم اس کے بعد پاکستان کی رینکنگ میں پھر کمی دیکھی گئی ہے۔ اسی بنا پر پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک شمار کیا جاتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *