سچ بیان نہ کرنے کا ٹھوس جواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتابوں کے کبھی ”قلمی نسخے“ ہی ہوا کرتے تھے۔ کئی مہینوں کی مشقت سے تیار ہوئے ”مخطوطے“ بادشاہوں، نوابوں اور رئیسوں ہی کو میسر ہوتے۔ خلق خدا تک ان کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ غریب گھرانوں کے طالب علم بہت تگ و دو کے بعد ان تک رسائی حاصل کرتے تو کتابوں میں لکھی باتوں کو محض یاد رکھنا ہوتا تھا۔ استادوں کی جی حضوری بھی اسی باعث لازمی تھی۔

آج سے چھے صدیاں قبل مگر چھاپہ خانہ ایجاد ہو گیا۔ علم کو اس نے عام لوگوں تک پہنچانا ممکن بنا دیا۔ دنیا بھر کی بادشاہتیں اس ایجاد سے البتہ گھبرا گئیں۔ خلافت عثمانیہ ویسے تو اپنے زمانے کے اعتبار سے معاصر سلطنتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ”روشن خیال“ تھی۔ اس کے علماء نے مگر چھاپے خانے کو ”حرام“ قرار دیا۔ جواز یہ تراشا کہ طباعت کے مراحل مقدس کتابوں خاص طور پر کلام پاک کی ”بے حرمتی“ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسلامی دنیا کی بے پناہ تعداد لہٰذا طبع شدہ کتابوں سے کئی دہائیوں تک محروم رہی۔

طباعت اور اشاعت کی صنعت مستحکم ہوئی تو بتدریج پہلے صحیفے پھر جرائد اور بالآخر روزنامہ اخبارات بھی متعارف ہو گئے۔ اخبارات کے لئے کام کرنے والے افراد ”صحافی“ کہلائے۔ اس پیشے کے لئے ہمارے ہاں مگر ”اخبار نویس“ کا لفظ بھی استعمال کیا جاسکتا تھا جو کئی صدیوں سے مستعمل تھا۔ ”صحافیوں“ نے اپنے لئے ”اخبار نویسی“ کا لفظ غالباً اس لئے نہیں چناکیونکہ ”اخبار نویس“ بادشاہوں کے درحقیقت مخبر ہوا کرتے تھے۔ وسیع و عریض سلطنت کے دور دراز علاقوں میں عام شہریوں کی طرح مقیم ہوئے اپنے اردگرد کے حالات پر کڑی نگاہ رکھتے۔ سارے دن کے احوال کو ”روزنامچہ“ کی صورت مرتب کرتے۔ انہیں بادشاہ کے دربار تک جلد از جلد پہنچانے کے لئے ”ڈاک“ کا نظام متعارف ہوا۔ آج بھی جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے آپ کو ایسے کئی مقامات نظر آسکتے ہیں جو درحقیقت ڈاک کے نظام سے منسلک تھے۔ وہاں تازہ دم گھوڑے ہمہ وقت تیار ہوتے۔ وہاں تک پہنچے پیغامبر اور اس کی سواری کے آرام اور خوراک کی خاطر سرائے خانے تھے۔ تندور اور کنویں بھی اس ضمن میں بنیادی کردار ادا کرتے۔

ڈاک کے موثر نظام کی بدولت بادشاہ وقت حقائق سے ہمیشہ باخبر رہتا۔ درباری مصاحبین کی قصیدہ گوئی اسے ستے خیراں کے گماں میں گرفتار نہ کر پاتی۔ جب بھی کسی سلطنت میں ابتری اور خلفشار نمودار ہونا شروع ہوتے تو سب سے پہلے ڈاک کی فوری ترسیل کی خاطر بنایا نظام متاثر ہوتا۔ اخبار نویس کی مرتب کردہ اطلاعات بادشاہ وقت تک بروقت نہ پہنچ پاتیں۔

دور جدید کے ”اخبار نویس“ نے خود کو ”صحافی“ کہلوانے کو شاید اس لئے ترجیح دی کیونکہ بادشاہ وقت کو ”باخبر“ رکھنے کے بجائے وہ خلق خدا کو آگاہ رکھنا چاہتا تھا کہ سرکار دربار میں کیا ہو رہا ہے۔ عوام کے حقیقی مسائل سے حکمران اشرافیہ کی سفاکانہ لاتعلقی کو بے نقاب کرنا صحافی کا اس وجہ سے بنیادی فریضہ بن گیا۔ اسی باعث حکومتوں نے ”صحافت“ کو ہمیشہ ”شرپسندی“ کو اکساتی ”تخریب کاری“ شمار کیا۔ اسے قابو میں رکھنے کے لئے سنسر نمودار ہوا۔ ہمارے ہاں برطانوی سرکار نے روس جیسی جابرانہ بادشاہتوں کے مقابلے میں صحافت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے ماہرانہ پرکاری دکھائی۔ روزنامہ اخبار کی اشاعت کے لئے ڈپٹی کمشنر کی اجازت درکار تھی۔ اس کے علاوہ ”پریس ڈیپارٹمنٹ“ کا قیام بھی عمل لایا گیا۔

برطانوی راج کے پنجاب کا ”پریس ڈیپارٹمنٹ“ دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ موثر مانی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر سعادت حسن منٹو نے اکثر افسانے دلی اور بمبئی میں رہائش کے دوران لکھے تھے۔ اس کے لکھے چند افسانے دلی سے شائع ہونے والے ایک جریدے ’‘ ساقی“ میں شائع ہوئے۔ ان میں ”فحاشی“ فقط پنجاب کی ”پریس ڈیپارٹمنٹ“ نگاہ باریک بین ہی دریافت کر پائی۔ منٹو پراس کی وجہ سے لاہور میں مقدمہ چلا۔ اس میں پیشی کے لئے منٹو تپ دق کا مریض ہوتے ہوئے بھی ریل کے تھکا دینے والے سفر کو مجبور ہوتا۔

اخبارات کو سرکاری اشتہارات کے نام پر مالی فوائد فراہم کرنے کا ہتھکنڈہ بھی اسی ڈیپارٹمنٹ نے انتہائی موثر طریقے سے استعمال کیا۔ قیام پاکستان کی تحریک نے جو گہماگہمی مچائی ہوئی تھی وہ لاہور کے اخبارات میں شاذہی نظر آتی۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ کا اسی باعث قائد اعظم کی سرپرستی میں اس شہر سے اجراء ہوا۔

قیام پاکستان کے بعد بھی پنجاب کا ”پریس ڈیپارٹمنٹ“ اس صوبے سے شائع ہونے والے اخبارات پر کڑی نگاہ رکھتا تھا۔ ”سول اینڈ ملٹری گزٹ“ جیسا تاریخی اخبار اس کی ”چوکسی“ کی بدولت بالآخر بند ہوا۔ پاکستان کے پہلے مرد آہن کے لگائے مارشل لاء نے ”پروگریسو پیپرز“ نامی ادارے کے تحت چلائے اردو اور انگریزی اخبارات کو ”نیشنل پریس ٹرسٹ“ کے ذریعے ”سرکاری“ بنا دیا۔ لوگوں کی توجہ ہٹانے کو ایک غیر سرکاری روزنامے کی سرپرستی بھی ہوئی۔ 1968 کے اختتامی ایام میں جب ایوب حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تو بپھرے ہجوم کی ٹولیاں اکثر لاہور میں مذکورہ اخبارات کے دفاتر کے سامنے جمع ہو جاتیں۔ انہیں منتشر کرنے کو لاٹھی چارج کی ضرورت محسوس ہوتی۔

حکومت اور صحافت کے مابین تعلقات تاریخی اعتبار سے لہٰذا دوستانہ نہیں عموماً مخاصمانہ رہے ہیں۔ ”صحافیوں“ نے خبر کے بدترین ایام میں بھی لیکن ہمت نہیں ہاری۔ جنرل ضیاء کے برسرعام برسائے کوڑے بھی اظہار کی خواہش کو معدوم نہیں کر پائے۔ تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ 1985 کے غیر جماعتی انتخاب کے ذریعے قائم ہوئی قومی اسمبلی کے جنرل ضیاء کے ہاتھوں نامزد کردہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو ہی نے ہمارے ہاں طویل عرصے کے بعد کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا تھا۔ حامد ناصر چٹھہ ان کے پہلے وزیر اطلاعات تھے۔ وہ صحافت کے سرکاری کنٹرول کے لئے بنائے اداروں کے سربراہوں کو برملاMedia Chiefs کے بجائے Media Thieves کہا کرتے تھے۔ ان کے ہوتے ہوئے اخبارات کو ”ہدایت نامے“ جاری کرنے کا سلسلہ بھی تھم گیا۔ چودھری شجاعت حسین نے ان کی جگہ لی تو کشادہ دلی کی روایت کو برقرار رکھا۔ جونیجو حکومت کی برطرفی کے بعد عبوری حکومت کے وزیر اطلاعات الٰہی بخش سومرو نے بالآخر ایوب دور میں صحافت کے کنٹرول کے لئے بنائے کئی قوانین و روایات کو ماضی کا حصہ بنا دیا۔

1990 کی دہائی اسی باعث ہماری صحافت میں بہت رونق کا باعث ہوئی۔ حکومتوں سے مشکلات وقتاً فوقتاً یقیناً اس دور میں بھی رونما ہوتی رہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومتیں اس ضمن میں کشادہ دل رہیں۔ نواز شریف کی پہلی اور دوسری حکومت کو مگر کسی نہ کسی کے کنٹرول کو برقرار رکھنے کا جنون لاحق رہا۔ ان کے دونوں ادوار میں ذاتی طور پر میں خود بھی اکثر مشکلات کی زد میں آیا۔ بطور صحافی اپنا وجود مگر ایک لمحے کو بھی کھوتا محسوس نہیں کیا۔

رواں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی تاہم ”صحافت“ ہی بدل گئی ہے۔ 2002 سے اخبارات کے بجائے ہمیں 24 / 7 باخبر رکھنے کے دعوے دار ٹی وی نیٹ ورک متعارف ہو گئے۔ انہوں نے کئی ”صحافیوں“ کو راتوں رات ”سٹار“ بنا دیا۔ وہ حتمی ”ذہن ساز“ بھی شمار ہونا شروع ہو گئے۔ ان جیسا ”سٹار“ بننے کا موقعہ مجھے بھی 2007 سے 2018 کے دوران میسر رہا۔ بالآخر دریافت یہ ہوا کہ میں ٹی وی سکرین کے قابل نہیں ہوں۔ جس ادارے کی سکرین پر نمودار ہوتا ہوں اسے مالی فائدہ پہنچانے کے بجائے ”معاشی بحران“ سے دو چار کر دیتا ہوں۔ زندگی میں پہلی بار نوکری سے ذلت آمیز انداز میں فارغ کر دیا گیا وگرنہ اپنے تمام صحافتی کیرئیر کے دوران مختلف اداروں سے چند پالیسی اختلافات کی وجہ سے ہمیشہ ازخود استعفیٰ دیا تھا۔

ٹی وی سکرین پر نظر نہ آنے والے ان دنوں ”صحافی“ شمار نہیں ہوتے۔ ”نوائے وقت“ جیسے مستند اور تاریخی اخبار کے دوسرے صفحے پر ہفتے کے پانچ دن چھپنے والا کالم لکھتے ہوئے بھی لہٰذا میں اب ”غیر صحافی“ ہو چکا ہوں۔ مجھے اپنی پہچان کھو دینے کا ہرگز دکھ نہیں ہے۔ کتابوں کے قلمی نسخے تیار کرنے والے ”کاتب“ معدوم ہوچکے ہیں۔ ٹائپ کی ایجاد نے ”کاتب“ کو اخبارات سے 1990 کی دہائی تک پہنچتے ہوئے کاملا غیر متعلق بنا دیا تھا۔ اخبار کے لئے لکھنے والے اگر اب ”صحافی“ تسلیم نہیں ہوتے تو یہ وقت کا تقاضا ہے اور وقت میرے اور آپ کی ذاتی خواہش سے بالاتر ہوتا ہے۔

لکھنے کی لیکن مجھے محض عادت نہیں بلکہ علت لاحق ہے۔ بطور صحافی اپنی پہچان کھونے کے باوجود لہٰذا لکھتا چلا جا رہا ہوں۔ گزشتہ دو دنوں سے مگر میری آنکھیں بڑھاپے کی بدولت بصارت کو کمزور تر بنا رہی ہیں۔ یہ کالم لکھنے سے قبل 40 منٹ تک آنکھوں کے ایک ماہر نے میرا تفصیلی معائنہ کیا ہے۔ میرے عینک ساز کو شبہ تھا کہ میر ی آنکھوں میں کالا موتیا اتر رہا ہے۔ مجھے اس مرض کی بابت ککھ علم نہیں تھا۔ میری وہمی بیوی نے مگر آگاہ کیا ہے کہ یہ اندھے پن کی جانب پہلا قدم بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے اس کی فکر مند گفتگو سنی تو یقین مانیں برجستہ شاہ حسین کا وہ مصرعہ یاد آ گیا جس میں وہ اس حقیقت کے بارے میں اطمینان کا اظہار کرتا ہے کہ اس کا ”گڑ“ ختم ہوا جو مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے نجات دے گا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھی کئی باتیں گزشتہ چند برسوں سے کھل کر بیان کرنے کی سہولت میسر نہیں رہی۔ اس کے بارے میں احساس جرم کا شکار رہتا ہوں۔ کالا موتیا اگر واقعتاً میری آنکھوں کو دیکھنے پڑھنے اور لکھنے کے قابل نہیں چھوڑے گا تو مجھے سچ بیان نہ کرنے کا ٹھوس جواز بھی میسر ہو جائے گا۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *