خود کشی پر آمادہ نوجوان کیسے رُکا: ’میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ میں اتنا بہادر نہیں کہ خود کشی کر لوں‘

تابندہ کوکب - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈپریشن

پاکستان میں سوشل میڈیا پر سرگرم صارفین میں سے بہت سوں کی گذشتہ شب انتہائی ذہنی تناؤ میں گزری اور وجہ یہ تھی کہ یہ سب صارفین مل کر ایک 15 سالہ نوجوان کو اپنی زندگی ختم کرنے کی سوچ سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس 15 سالہ نوجوان کی ٹویٹس سے بظاہر ایسا محسوس رہا تھا کہ وہ خود کشی پر آمادہ ہے۔

رات بھر سوشل میڈیا پر کوئی اس نوجوان کو زندگی کی اہمیت کے بارے میں سمجھا رہا تھا تو کوئی اس کو اپنی ذات سے پیار کرنا سکھا رہا تھا۔ کئی لوگ اسے اپنی دوستی کی پیشکش کر رہے تھے اور بہت سے لوگ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تلقین۔

اس نوجوان نے منگل کی شب ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ وہ دو جون (آج) کو اپنی جان لے لے گا جس کی اس نے بہت سے وجوہات لکھیں۔ نوجوان کی جانب سے کی گئی سلسلہ وار ٹویٹس جلد ہی سوشل میڈیا صارفین کی نظروں میں آ گئیں اور فوراً ہی یہ معاملہ مقامی راولپنڈی پولیس کی نظر میں آ گیا۔ پولیس اور سوشل میڈیا صارفین کی فوری مدد کے نتیجے میں اس نوجوان کو ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔

ماہرین نفسیات کی رائے میں نوجوانوں میں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت میں کمی اور دباؤ برداشت نہ کر پانا اس نوعیت کے سنگین خیالات کو جنم دے سکتا ہے۔

میں موجود ہی کیوں ہوں؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ ٹرینڈ اُس وقت شروع ہوا جب رات ایک نوجوان نے اپنے خود کشی کے ارادے سے متعلق ٹویٹس کا ایک تھریڈ پوسٹ کیا۔

انھوں نے لکھا ’میں کل خود کشی کرنے والا ہوں۔ مجھے اب کسی کی پرواہ نہیں ہے، میری بس ہو چکی ہے۔ میں غریب لوگوں کو اور دوسروں کو دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ مجھ پر کتنی رحمتیں ہیں۔ شاید خرابی مجھ میں ہے، ہر بچے کے والدین اسے مارتے ہیں، سب ایک دوسرے کو شرمندہ کرتے ہیں، ہر دوسرا شخص بدصورت ہوتا ہے۔ لیکن یہ میں ہی ہوں جو زیادہ سوچتا ہے۔ یہ میں ہی ہوں، میں آپ سب کو یاد کروں گا۔ میں آپ سب سے پیار کرتا ہوں۔‘

اس نوجوان نے مزید لکھا ’میں ہر روز کی تکلیف سے تنگ آ چکا ہوں۔ ایسا تب سے ہے جب میں 12 سال کا تھا۔ میں مزید درد برداشت نہیں کر سکتا۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ میں خود کو یہ سوچنے سے نہیں روک سکتا کہ میں خود سے کیوں نفرت کرتا ہوں۔ میرا بدصورت چہرہ، میرا ماضی اور جو کچھ میں نے کیا۔ جو کچھ میں نے دوسروں کے ساتھ اور اپنے ساتھ کیا۔‘

اپنی ذات سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اس نوجوان نے لکھا ’میں ایک غلطی ہوں، میں موجود ہی کیوں ہوں؟ آپ سب بے فکر رہیں بس ایک اور دن۔۔۔ پھر میں یہ دنیا چھوڑ دوں گا۔ بالکل ایسے افراد کی طرح جو ہر 45 سیکنڈ میں خود کشی کر جاتے ہیں۔‘

’میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ میں اتنا بہادر نہیں کہ خود کشی کر لوں۔ میں اس سب کا مستحق نہیں۔ میں ایک ایسا زیادہ سوچنے والا انسان ہوں جس کا خاتمہ ایسے ہی ہونا تھا۔ میں بہت سی باتیں کہنا چاہتا ہوں۔۔۔‘

جلد ہی سوشل میڈیا صارفین نے اس نوجوان کے تھریڈ کا نوٹس لیا اور اپنی ٹویٹس کے ذریعے اس کا دل بہلانے کے ساتھ ساتھ راولپنڈی پولیس کو بھی ٹیگ کرنا شروع کیا تاکہ نوجوان کی فوری مدد کی جا سکے۔

ان ٹویٹس کے جواب میں راولپنڈی پولیس کے ٹوئٹر ہینڈل سے کہا گیا ’آپ کو جو چیز پریشان کر رہی ہے ہمیں اس حوالے سے مدد کرنے کا موقع دیں۔ ہمیں آپ کی پرواہ ہے۔ ہم سب کو ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی پولیس نے سوشل میڈیا صارفین سے اس نوجوان کی تلاش کے لیے مدد طلب کی۔

راولپنڈی پولیس کی کارروائی

راولپنڈی کے نوجوانوں نے نہ صرف پولیس کو اس کے گھر کے پتا دیا بلکہ کئی تو خود بھی وہاں پہنچ گئے تاکہ اسے خود کشی سے روک سکیں۔

راولپنڈی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر تھریڈ سامنے آنے کے بعد پولسی کی ٹیمیں دو مختلف علاقوں میں اس لڑکے کی تلاش میں نکل گئی اور جلد ہی اسے تلاش کر لیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے بچے کی ابتدائی کونسلنگ کی ہے جس میں اس کے اس ارادے کی وجہ اپنے حالات کو قرار دیا۔ پولیس اس بچے اور اس کی والدین دونوں کی کونسلگ کر رہی ہے کیونکہ بچے کے والدین خود صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ پولیس کے متعلقہ اہلکار بچے کی ذہنی حالت کے اسباب جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ضرورت پڑے تو اسے طبی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔‘

ایک نوجوان نے ٹویٹ کر کے متفکر سوشل میڈیا صارفین کو بتایا کہ ’میں بھی اس کے گھر سے آیا ہوں۔ پولیس بھی وہاں تھی، اس کے والد کو اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے جبکہ اس نے اپنے بڑے بھائی کو بلاک کر رکھا تھا۔ اس کے بڑے بھائی کو بھی اس بارے میں کچھ نہیں پتا تھا۔ ہم نے انھیں اور پولیس کو سب بتایا۔ ہم نے انھیں اس کی ٹویٹس دکھائیں۔‘

ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا ’میں وہاں سے ابھی آیا ہوں، یہ بہت تھکا دینے والا تھا، میں نے اس کے بھائی کو بات سمجھائی اور کہا کہ اسے اکیلا نہ چھوڑیں اور اس کا ساتھ دیں کیونکہ اسے اس کی ضرورت ہے۔ جب میں نے اسے گلے لگایا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ ٹھیک نہیں تھا۔‘

ایک صارف عبدالرحمان کا کہنا تھا ’میں گھر لوٹ آیا ہوں، میں نے ایسے فرد کی حیثیت سے اپنا فرض نبھایا جو خود بھی اس سے گزر چکا ہے۔ یہ پیار غیر متوقع تھا، بہت شکر ہے، میں چند دن میں اس سے پھر ملوں گا تاکہ دیکھ سکوں کہ وہ ٹھیک ہے۔ انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اور یہ بادشاہ ایک بار پھر عروج پائے گا۔‘

سوشل میڈیا ردعمل

سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد رات بھر اس نوجوان کے لیے تسلی اور حمایت بھرے مسیجز بھیجتی رہی۔ بہت سے ایسے نوجوان جو خود کشی پر آمادہ اس نوجوان کو جاتنے تھے اس کے گھر تک چلے گئے تاکہ اسے اس اقدام سے روکا جا سکے۔

ایک صارف کا کہنا تھا ’زخم بھر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے اس وقت صحیح لوگوں کا آپ کے پاس ہونا ضروری ہے۔‘

ایک سوشل میڈیا صارف مناہل صابر کا اس نوجوان کو مخاطب کر کے کہنا تھا ’ہمیں تم پر یقین ہے، پلیز رک جاؤ، تم اس سے نکل آؤ گے، سب ٹھیک ہو جائے گا، اور ہمیشہ ایسا ہو جاتا ہے، پلیز خود کو ایک موقع اور دو، تم ایک خوبصورت زندگی جینے کا حق رکھتے ہو۔ پلیز اسے خود سے مت چھینو۔ ہم سب ہیں یہاں تمہارے لیے۔‘

کئی صارفین اس نوجوان کو اپنا ساتھ اور پیار دیتے نظر آئے تاکہ وہ احساس تنہائی سے نکل کر اپنا ارادہ ترک کر دے۔

اقصا نامی ایک صارف کا کہنا تھا ’ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے لیکن میں چاہتی ہوں کہ اللہ تمہارے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ یقین کرو میرے لیے ایسا ہوا تھا، اور تمہارے لیے بھی ہو گا۔ یہاں بہت سے لوگ ہیں جو تمہارے دوست بننا چاہتے ہیں اور سننا چاہتے ہیں، بہت پیار۔‘

ایک صارف نے کسی فرد میں خود کشی کا احساس پیدا ہونے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’میرا خیال ہے کہ ایسا تب ہوتا ہے کہ جب آپ کے گرد موجود لوگ آپ کے معاون نہیں ہوتے۔ جب وہ آپ کو یہ محسوس کرواتے ہیں کہ آپ ناکافی اور ان چاہے ہیں، جب وہ آپ کو یہ محسوس کرواتے ہیں کہ آپ نااہل ہیں۔‘

تاہم اسی دوران ڈپریشن اور ذہنی صحت جیسے مسائل سے ناآشنا چند صارفین اس نوجوان کو سزا دینے اور جیل میں ڈالنے کا مشورہ تک دیتے رہے۔

خود کشی کی سوچ ذہن میں کیوں پنپتی ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہر نفسیات انعم نجم نے بتایا کہ ’نوجوانوں میں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ آج کل نوجوان جھنجھلاہٹ برداشت نہیں کر سکتے۔‘

ڈاکٹر انعم کے مطابق اس کی بڑی وجہ آج کل کے نوجوان کے ذاتی تعلقات اور دوستیوں میں کمی ہے۔ ’لوگوں کا سوشل میڈیا اور سکرین ٹائم زیادہ ہونے کی وجہ سے افراد سے براہ راست تعلق ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے اگر آپ کسی مسئلے سے دوچار ہیں تو آپ اپنے قریب کسی ایسے انسان کو نہیں ڈھونڈ پاتے جس سے آپ دل کی بات کر سکیں، جسے اپنی مشکل بتا سکیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کے موجودہ طرزِ زندگی میں کچھ ایسے سماجی دباؤ بھی ہیں جو شاید آج سے 20 برس پہلے نہیں تھے۔

’نوجوانی میں خودکشی کی کوشش کرنے والوں میں دو بڑی وجوہات دیکھی گئی ہیں: یا تو ان کے تعلیم میں کارکردگی ان کے والدین کی توقعات کے مطابق نہیں ہوتی یا انھیں کسی جذباتی لگاؤ میں دھچکا پہنچا ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر انعم کا کہنا تھا کہ ’خود کو بے کار سمجھنے والوں میں سلیف اسٹیم کی کمی ہوتی ہے جس کی بہت سے وجوہات ہوتی ہے۔ اس کی ایک طبی وجہ کلینیکل ڈپریشن ہے۔ اس میں مریض کو لگتا ہے کہ لوگ اسے پیار نہیں کرتے کیونکہ وہ اس قابل نہیں ہے۔ بعض افراد کو ماضی کے پچھتاوے ہوتے ہیں۔‘

ڈاکٹر انعم نجم کا کہنا تھا اس کی ایک بہت بڑے وجہ بچوں کے ساتھ شروع سے روا رکھا جانے والوں سلوک بھی ہے۔ ’جیسے ہم بچوں سے کہہ جاتے ہیں تم گندے ہو، تم بُرے ہو، تم اپنی شکل دیکھو، تمہارا چہرہ ایسا ہے، یہ باتیں ہم مذاق میں یا بعض اوقات غصے میں کہہ رہے ہوتے ہیں اور ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بچوں کی نفیسات پر کتنا اثر ڈالتے ہیں۔ خاص طور پر اپنے بارے میں جو رائے وہ اپنے ماں باپ یا قریبی خاندان سے سنتے ہیں وہی رائے ان کی اپنی بارے میں بھی بن جاتی ہے۔‘

’ہم کئی ایسے لوگ دیکھتے ہیں جو بہت کامیاب زندگی جی رہے ہوتے ہیں لیکن ان کی نظر میں ان کی اپنی کوئی وقعت نہیں ہوتی کیونکہ انھیں بچپن میں دھتکارا گیا ہوتا ہے خاص کر اُن رشتوں کی طرف سے جن کی جانب سے غیر مشروط مثبت رویے ملنے کی امید ہوتی ہے۔‘

ہو سکتا کچھ لوگوں کو ہاتھ لگانے سے انھیں سکون کا احساس ہو

Getty Images

خود کشی کا سوچنے والے بچوں کی مدد کیسے کی جائے؟

ڈاکٹر انعم نجم کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کی مدد کے لیے ایسا علاج نہیں ہوتا کے ہم انہیں کھانے کے لیے کوئی گولی دے دیں گے بلکہ انھیں مکمل نفسیاتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔

’ہم ایسے بچوں کو دباؤ سے نمٹنے کے طریقے سکھاتے ہیں۔ بچے کو انفرادی طور پر اس کے حالات اور عمر کے حساب سے مدد فراہم کی جاتی ہے۔‘

’ان بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر انھیں لگے کہ وہ پھر سے دباؤ میں جانے والے ہیں تو انھیں فوراً مدد کہاں سے دستیاب ہو سکتی ہے۔‘

ڈاکٹر انعم کا کہنا تھا کہ خود کشی کی کوشش کرنے والے بچوں کی دوبارہ ایسی کوشش کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے خاندان اور دوستوں کو کچھ تنبیہی نشانیاں بتا دی جاتی ہیں جن کے سامنے آنے پر انھیں فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • اگر بچے میں مایوسی کی علامات ظاہر ہوں
  • انھیں زندگی بے معنی اور بے مقصد لگنے لگے
  • وہ اپنے منصوبے منسوخ کرنا شروع کر دیں
  • لوگوں سے ملنے جلنے میں کمی کر دیں
  • کھانے پینے میں کمی اور الگ تھلگ رہنا شروع کر دیں

اگر والدین یا دوست ایسی علامات یا شخصیت میں کوئی بھی غیر معمولی تبدیلی دیکھیں تو ان سے بات کریں اور کسی پیشہ ور ذہنی صحت کے ماہر سے رجوع کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19455 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp