برطانیہ: المہاجرون کے رکن نے سیکس کے لیے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی
ایک برطانوی عدالت کو بتایا گیا ہے کہ کلعدم تنظیم المہاجرون کے ایک رکن نے دہشتگردی کی روک تھام سے متعلق پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیکس کے لیے ایک خاتون سے ملاقات کی۔
اس شخص کو قانونی وجوہات کی بنا پر کیو ٹی کے نام سے بلایا جا رہا ہے۔ اس شخص کو عدالت نے 18 مہینے کے لیے کمیونٹی کے لیے کام کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس نے اپنا جرم قبول کیا ہے کہ اس نے خاتون سے ملاقات کر کے ٹیررازم پریوینشن اینڈ انویسٹیگیشن میژرز (ٹی پی آئی ایم) کی خلاف ورزی کی ہے۔
ٹی پی آئی ایم کے ذریعے حکام کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ ایسے افراد کی نگرانی اور انھیں کنٹرول کریں جنھیں دہشتگرد کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن ان کے خلاف کوئئ فرد جرم نہیں ہوتی۔
وکیل استغاثہ ایما گارگٹر نے کہا کہ کیو ٹی نے خاتون کے ساتھ حکام کی اجازت کے بغیر اپنے گھر میں ملاقات کی۔ نومبر میں ہونے والی اس ملاقات کا مقصد ‘جنسی تسکین’ تھا۔
انھوں نے بتایا کہ یہ خلاف ورزی بھی سنہ 2019 میں کیو ٹی کی جانب سے کی جانے والی ان سات خلاف ورزیوں کی طرح تھی جب انھوں نے ‘خراب حالات کی شکار ایک خاتون’ کے ساتھ سیکس کیا جس کی وجہ سے انھیں 18 مہینے جیل کی سزا ملی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
کیا لندن برج حملہ آور عثمان خان کو روکا جا سکتا تھا؟
لندن برج حملہ: چاقو بردار عثمان خان کون تھا؟
لندن برج حملہ: جیک میرٹ میں ’زندگی جینے کی تمنا‘ تھی
مارچ 2020 میں جیل سے رہا ہونے کے بعد ان پر ٹی پی آئی ایم آرڈر دوبارہ لگا دیا گیا لیکن انھوں نے اس آرڈر سے متعلق دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور جواب میں لکھا کہ ‘میں آزاد پیدا ہوا تھا اور غلامی کے اس کانٹرکٹ کو مسترد کرتا ہوں۔’
عدالت کو بتایا گیا کہ کیو ٹی پر ٹی پی آئی ایم بلآخر اس سال مارچ میں ختم ہو گیا تھا۔
المہاجرون ایک اسلامی تنظیم ہے جسے برطانیہ میں کلعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ اس تنظیم کے اراکین سنہ 2019 میں فشمونگرز حال حملے، سنہ 2017 میں ویسٹ منسٹر برج حملے اور سنہ 2013 میں فیوسیلیئر لی رکبی کے قتل سمیت کئی حملوں اور حملوں کے منصوبہ بندی میں ملوث رہے ہیں۔
ٹی پی آئی ایم کیا ہیں؟
جن لوگوں پر ٹی پی آئی ایم لاگو ہوتے ہیں انھیں الیکٹرک ٹیگ پہنا دیے جاتے ہیں تاکہ اگر وہ کہیں جانے کی کوشش کریں تو حکام کو معلوم ہو جائے، ان پر کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کے استعمال کی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ ایسے افراد پر یہ بھی حدود لگا دی جاتی ہیں کہ وہ کس سے مل سکتے ہیں اور کہاں جا سکتے ہیں۔
کیو ٹی المہاجرون کے رکن خرم بٹ کو بھی ذاتی طور پر جانتے ہیں جنھوں نے تین ارکان پر مشتمل اس سیل کی سربراہی کی تھی جو سنہ 2019 میں لندن برج حملے کا ذمہ دار تھا۔
اس سے پہلے عدالت یہ کہہ چکی ہے کہ ‘کیو ٹی المہاجرون کے پرانے رکن ہیں اور اپنی ممبرشپ اور سرگرمیوں کی وجہ سے تنظیم میں سینیئر عہدیداروں سمیت بڑی تعداد میں اراکین سے وابستہ ہیں۔’
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کیو ٹی نے دولت اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقے میں بھی جانے کی کوشش کی اور دہشگردی کے کاموں کی حوصلہ افزائی کی۔
بدھ کو سزا سناتے ہوئے جج سارہ منرو کیو سی نے کہا کہ ‘یہ ایک ایسے شخص کی جانب سے ایک سنگین خلاف ورزی ہے جو قوائد و ضوابط کو جانتا ہے۔’ جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کیو ٹی کو 18 مہینے کمیونٹی میں کام کرنا ہو گا اور کم از کم 90 گھنٹے بغیر معاوضے کے بھی کام کرنا پڑے گا۔
کیو ٹی کلعدم المہاجرون کے ان آٹھ صف اول کے اراکین میں شامل ہیں جنھیں سنہ 2016 سے ٹی پی آئی ایم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان آٹھ میں سے کیو ٹی ان پانچ اراکین میں شامل ہیں جنھیں اس کی خلاف ورزی پر سزا سنائی جا چکی ہے۔


