پاکستانی تہذیبی شناخت کے بحران کا اہم ترین سبب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا پاکستان واقعتاً اسلامی تہذیب کا حصہ ہے، یا یہ دعویٰ محض ایک غیر حقیقی تاریخی رومان ہے؟ جغرافیائی اعتبار سے موجودہ پاکستان پر محیط خطہ دنیا کی دو عظیم تہذیبوں یعنی ہندی اور اسلامی تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہے۔ تہذیبی امتزاج کی یہ صورتحال مزید پیچیدہ بھی ہو سکتی تھی اگر ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کش کے فلک بوس پہاڑی سلسلے پاکستان کی شمال اور شمال مغربی سرحدوں پر واقع چینی اور آرتھوڈوکس تہذیب کے ثقافتی پھیلاؤ میں رکاوٹ نہ بنتے۔

پاکستان کا خطہ کرۂ ارض کے ان سلگتے مقامات پر واقع ہے جنہیں تہذیبوں کے مابین رخنے کہا جاتا ہے۔ تہذیبی شناخت کے حوالے سے گومگو صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ایسے خطوں میں بھی پایا جاتا ہے جو تہذیبی رخنوں پر واقع ہوتے ہیں، جیسے آرتھوڈوکس اور مغربی تہذیب کے سنگم پر واقع کریمیا کا خطہ، مغرب اور اسلام کے سنگم پر واقع ترکی اور خطۂ بلقان، اور اسلام اور آرتھوڈوکس کے سنگم پر واقعہ وسط ایشیائی ریاستیں۔

اس جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر یہ توقع کرنا عبث ہے کہ پاکستان کی اسلامی تہذیب سے وابستگی کا دعویٰ ریب و تذبذب سے ایسے ہی بالاتر ہو سکے گا جیسے عرب ممالک کا اسلامی تہذیب سے وابستگی کا دعویٰ ہے۔ لیکن چونکہ تاریخی حقیقت ”جو ہونا چاہیے“ کہ بجائے ”جو ہے“ پر استوار ہوتی ہیں، اسی لیے تہذیبی وابستگی کا فیصلہ کن جواب بھی اس امر پر منحصر ہے کہ پاکستان میں بسنے والوں کی اکثریت اپنی پہچان کس گروہ سے وابستہ سمجھتی ہے۔

بطور مسلمان پاکستانی عوام کی اکثریت دیگر اسلامی ممالک کے مسلمانوں کے ساتھ مضبوط تاریخی اور تہذیبی جڑت رکھتے ہیں۔ قیام پاکستان کی تاریخ اور موجودہ دور کی عالمی سیاسی کشمکش میں عوام کا ذہنی اور ریاست کا سیاسی جھکاؤ ہماری تہذیبی لگاوٹ کے آئینہ دار ہیں۔ دور حاضر کے بیشتر مورخین اس امر پہ متفق ہیں کہ پاکستان کی تہذیبی شناخت اسلام سے وابستہ ہے۔ پاکستان کا وجود دو قومی نظریے پر بنیاد رکھتا ہے، لیکن قیام پاکستان کا واقعہ محض دو قوموں کا ٹکراؤ نہیں تھا۔ ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کا اہم ترین محرک اسلامی اور ہندی تہذیبوں کا تصادم تھا۔

اسلامی تہذیبی شناخت پاکستانی نیشنل ازم کا لازمی عنصر اور پاکستانیوں کی قومی اور تہذیبی زندگی میں فیصلہ کن اثرات کی حامل ہے۔ تاہم ہمارے مقامی تصورات میں پاکستان کی تہذیبی شناخت کے حوالے سے کئی ابہام موجود ہیں۔ پاکستانی تہذیبی شناخت کے متبادل نظریات میں علاقائی تہذیبی نظریہ اور ہندی تہذیب سے وابستگی کا نظریہ شامل ہیں۔ تاہم پاکستان اور اسلام کے تہذیبی بندھن کے حوالے سے تذبذب کا بنیادی سبب اسلامی نظریہ کے متبادل تہذیبی نظریات نہیں، بلکہ اسلامی تہذیبی نظریہ ہی کی وہ ہیئت ہے جس کی تشکیل مقامی مذہبی علماء نے کی اور جسے قیام پاکستان کے بعد ریاستی پالیسی کے طور پر اختیار کیا گیا۔

اصولی طور پر تہذیبی شناخت کا تعین عوام الناس کی اکثریت کے اختیار کردہ طرز فکر اور طرز حیات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ لیکن پاکستانی قوم کی اکثریت اسلامی تہذیب سے وابستگی رکھنے کے باوجود تہذیبی تصورات کے حوالے سے انتشار کا شکار ہے۔ اس تذبذب کا اہم ترین سبب یہ ہے اکثر پاکستانیوں کے نزدیک اسلامی تہذیب وہ فکری اور ثقافتی کل نہیں جسے انہوں نے عملی طور پر اختیار کر رکھا ہے، بلکہ اسلامی تہذیب دراصل اس دور از کار اور ناقابل عمل تصوراتی خاکہ کا نام ہے جسے مذہبی علماء نے مرتب کیا اور جو بطور معیار عوام الناس کے اذہان میں راسخ ہے۔

ہر تہذیب اپنے نام لیواؤں کے لیے فکر و عمل کا ایک ایسا آدرش یا آئیڈیل مہیا کرتی ہے جس تک پہنچنا فرد کے تہذیبی شعور کا منتہائے مقصود ہوتا ہے۔ چونکہ آدرش حقیقت کی کامل صورت ہوتی ہے، اس لیے آدرش اور حقیقت میں یک گونہ دوری لازم ہے۔ لیکن اس دوری کے باوجود بھی آئیڈیل اور حقیقت کا باہم مربوط ہونا ضروری ہے۔ آئیڈیل اور حقیقت تصور کے نقشے میں ایک ہی لکیر پر آگے پیچھے واقع ہوتے ہیں۔ باہمی فاصلے کے باوجود یہ دونوں نقاط ایک ہی سطح پر اور ایک ہی زاویے پر پڑتے ہیں اور ہر دو تصورات میں یک جائی نہ سہی پر یک جہتی لازم ہے۔

تاہم اگر آئیڈیل اور حقیقت دو مختلف جہات پر واقع ہوں تو یہ دو مختلف تصورات ہوتے ہیں۔ آئیڈیل کے حصول کے لیے حقیقت کو پرداخت کرنا ہوتا ہے، پامال نہیں۔ لیکن اگر آئیڈیل تک رسائی کے لیے حقیقت کو یکسر ترک کر دینا پڑے تو یہ تبدیلی حقیقت سے آئیڈیل تک کا سفر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک دنیا سے دوسری دنیا تک کا سفر ہے۔

پاکستان میں اسلامی تہذیبی شناخت کی موجود صورت اور تصوراتی آئیڈیل میں فرق اس قدر واضح ہے کہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جس تصور کو پاکستان میں اسلامی تہذیب کا آئیڈیل سمجھا جاتا ہے، دراصل وہ محض ایک مختصر اقلیت کی منفرد تہذیب ہے۔

علماء کے تخلیق کردہ تہذیبی آئیڈیل کی سماجی حقائق سے دوری کی ایک واضح مثال سابقہ امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد کی جماعت اسلامی میں شمولیت کا واقعہ ہے۔ 27 سالہ نوجوان وکیل میاں طفیل جماعت کے تاسیسی اجلاس منعقدہ اگست 1941 میں شریک تھے۔ ان کا وکیل ہونا، کلین شیو ہونا اور کوٹ، پتلون، ٹائی اور ہیٹ میں ملبوس ہونا ان کی اسلامی ساکھ پر سوالیہ نشان تھے۔ اجلاس کے شرکاء ان فرنگی آلائشوں کے ساتھ کسی بھی شخص کی جماعت میں شمولیت پر معترض تھے۔

بالآخر مودودی صاحب نے جماعت کی رکنیت کے لیے میاں طفیل کو چھ ماہ کی آزمائشی مہلت عنایت کی تاکہ اس دوران وہ اپنا حلیہ اور ذریعہ معاش درست کر لیں۔ دینی اخلاص ثابت کرنے کے لیے میاں طفیل نے ڈاڑھی رکھ لی، مغربی لباس پہننا چھوڑ دیا اور والدین اور اقربا کی مخالفت کے باوجود غیر الہیٰ نظام حکومت کی عدالتوں میں وکالت کرنے کا ناجائز ذریعہ معاش ترک کر دیا۔ پر خلوص مسلمانیت کے اظہار کے لیے درکار یہ اسناد اس دور کے ہندوستانی علماء کا عملی اور مسلمانوں کی اکثریتی آبادی کا تصوراتی تہذیبی آئیڈیل تھیں۔ دوسری جانب عین اسی زمانے میں ہندوستانی مسلمانوں کے سب سے بڑے رہنما جناح تھے، جو کلین شیو تھے، کوٹ پتلون اور ہیٹ پہنتے تھے، اور وکیل تھے۔ تصورات اور عمل کا یہی تضاد پاکستان میں تہذیبی تصورات کے انتشار کا اہم ترین سبب رہا۔

تاہم اس تضاد یہ مطلب اخذ کرنا درست نہیں کہ لوگوں کے لیے یہ آئیڈیل تہذیبی علامات یکسر فروعی اور غیر اہم ہیں۔ نظریاتی طور پر بیشتر افراد یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دراصل یہی وہ افکار و اطوار ہیں جو اصل اسلام ہیں، لیکن اسلام کی حقیقت کو جاننے کے باوجود اگر وہ دین میں پوری طرح داخل نہیں ہو پاتے تو اس کا سبب ان کے ایمان کی کمزوری اور نفس کی کجی کے سوا کچھ نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ دیندار طبقے کے تہذیبی آئیڈیل اختیار کرنے سے قاصر ہیں تو اس میں قصور آئیڈیلز کا نہیں، ان کا اپنا ہے۔

انجام کار عوام کی اکثریت اپنے آپ کو دنیا دار مسلمان قرار دے کر زندگی کے معمولات میں مگن رہتی ہے، اپنی کمزوریوں کے پیش نظر اخروی نجات کے لیے اللہ تعالٰی کی رحمت کی خواستگار ہوتی ہے، اور اس وقت کی منتظر رہتی ہے کہ جب اللہ ان کے دلوں کو ہدایت سے معمور کر دے اور وہ تمام سماجی بنت کو تہہ و بالا کر کے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں گے۔ اس ہمہ گیر شخصی انقلاب کے لیے درکار جذبے کی شدت بالعموم بڑھاپے سے پہلے وجود پذیر نہیں ہوتی۔

تاہم اگر کوئی شخص کسی تنظیمی سہارے کی بدولت دنیاوی رکاوٹوں کو توڑ کر دینداری کی راہ اختیار کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ سماج میں قابل تعریف اور قابل تقلید قرار پاتا ہے۔ انجام کار ہمارے سماج کی بہت سی توانائیاں اس مصنوعی طور پر تعمیر کردہ تہذیبی آئیڈیل کے حصول میں صرف ہو جاتی ہیں اور ہم اصل صورتحال کا ادراک کرنے اور سماج کے حقیقی مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل فراہم سے قاصر رہتے ہیں۔

افراد کی بحیثیت دنیا دار اور دیندار زمرہ بندی ہمارے معاشرے کی جانی مانی مذہبی و سماجی تفریق ہے۔ اس تفریق کی بنیاد ظاہری حلیے، گفتگو، ذہنی رجحانات، عقائد اور مذہبی معمولات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ دنیا دار شخص مذہب پہ عوامی انداز میں کاربند ہوتا ہے جبکہ دیندار آدمی پیشہ وارانہ مذہبی انداز اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پیشہ ورانہ مذہبی انداز ایسے افراد کی اختیار کردہ طرز فکر اور طرز حیات ہے جن کا روزگار اور رسوخ مذہب سے وابستہ ہوتا ہے۔ با اثر دیندار افراد میں مذہبی تنظیموں کے منتظمین، مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور مساجد میں امامت کروانے والے مولوی شامل ہیں۔

پاکستان کے دیندار طبقات عام مسلمانوں کی عملی زندگی کو اسلامی معیارات کے مطابق نہیں سمجھتے اور عوام الناس کی اقدار کو اسلامی تہذیب کا حصہ قرار نہیں دیتے۔ وہ عوام کو اس نفسیاتی خلش میں مبتلا رکھتے ہیں کہ ان کے حلیے، رسوم و رواج اور معمولات دین کے مطابق نہیں ہیں۔ مزید برآں وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو زندگی کے تمام معمولات اور معاملات میں خدا کے حکم کے آگے، ان کی پیش کردہ تشریح کے مطابق، بلا چوں چراں سر جھکا دینا چاہیے۔ ”خواہ کسی حکم کی مصلحت ان کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے، خواہ کوئی حکم ان کی عقل کے معیار پر پورا اترے یا نہ اترے، خواہ کوئی فرمان دنیا کے رسم و رواج اور طور طریقوں کے مطابق ہو یا منافی“ (مودودی) ۔

تہذیبی معیارات کا تصوراتی نظام ہمہ گیر انداز سے زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہے۔ کیونکہ عوام میں اس بارے میں کوئی دو آراء نہیں ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ رسوم و رواج، لباس، آرٹ، ادب، موسیقی، سیاست، معیشت، خارجہ تعلقات، سائنس، علم، غرض کہ ذاتی اور معاشرتی زندگی کے ہر پہلو پر روایتی ہدایتی بیانیہ موجود ہے۔ یوں تو ہر فرقے کے علماء کی مذہبی تشریحات میں اختلافات ہیں لیکن سخت گیر روایت پرستی اور علماء کے دائرہ کار میں اضافہ اس تصوراتی نظام کی مشترک خصوصیات ہیں۔

دینداران کا پیش کردہ اسلامی تہذیب کا آئیڈیل عموماً اسلامی احکامات کی سخت گیر تشریح پر مبنی ہوتا ہے۔ ان تشریحات کے پس پردہ عملی تجربات سے ماخوذ فہم کا ادراک موجود نہیں ہوتا ہے۔ بے عملیت کے باعث مذہبی طبقات کے موقف عموماً اعتدال اور لچک سے عاری ہوتے ہیں۔ اکثر معاملات میں ان ہدایتی نظریات کی تقلید پرستانہ سخت گیری اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ دنیا دار افراد تو ایک طرف خود دیندار طبقات بھی اس آئیڈیل کو نبھانے سے قاصر ہوتے ہیں، اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اپنے خیالات اور طرز عمل کو طوعاً کرہاً بدلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

سائنسی نظریات و ایجادات، تصویر کشی، ٹیلی ویژن چینلز، پسند کی شادی، پردہ، جہادی گروہوں کی حمایت جیسے معاملات پر اجتہادی گنجائشیں پیدا کرنا علماء کی مجبوری بنتی رہی ہے۔ لیکن اکثر و بیشتر اس تبدیلی کو اجتہادی خوش دلی سے اپنانے کی بجائے مجبورانہ بے دلی سے گوارا کیا جاتا رہا۔ تاہم یہ بے دلی اس وقت حیران کن پر جوشی میں بدل جاتی ہے جہاں مذہبی علماء کے اثر و رسوخ میں اضافہ کا سوال ہو۔ اس امر کی مثال وہ شریعت بورڈز ہیں جو اسلامی بینکاری نظام کے ذریعے بنکوں کو سودی منافع برقرار رکھنے کے لیے شرعی لائسنس فراہم کرتے ہیں۔

ثقافت اس تصوراتی تہذیبی نظام کا اصل میدان ہے۔ اسلامی تہذیب میں علاقائی ثقافتوں کے ساتھ موافقت کی وسیع گنجائش پائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں پوری دنیا کے مسلمان لباس، رہن سہن، تمدن کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ اسلام علاقائی ثقافتوں میں بنیادی مذہبی حدود سے صریح متصادم امور کے علاوہ مزید کسی رد و بدل کا مطالبہ نہیں کرتا، اور اگر یہ مطالبہ پورا ہو جائے تو باقی ماندہ تمام ثقافتی مظاہر دائرہ اسلام میں من و عن سمو لیے جاتے ہیں۔

اسلام کی یہی عمومیت ہے جو اسلام کو جغرافیائی حدود سے مبرا کر کے اسے ایک عالمی تہذیب بناتی ہے۔ تاہم پاکستان کے تنگ نظر مذہبی علماء ثقافتی معاملات کے سلسلے میں پابندیاں اور پسندیدگیوں کی مزید شرائط عائد کر کے اسلام کو ایک عالمی تہذیب کی بلند تر سطح سے گرا کے ایک علاقائی ثقافت کی پست سطح پر اتارنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس تنزلی کو اسلام کی خدمت سمجھتے ہیں۔

نظریاتی اعتبار سے اسلام میں کوئی ایسا طبقہ نہیں ہے جو مذہبی معاملات پر اجارہ داری رکھتا ہو۔ لیکن عملی طور پر تمام مذاہب کی طرح اسلام میں بھی مذہبی طبقہ اپنی واضح ثقافتی پہچان رکھتا ہے۔ علماء کو ان کی مخصوص وضع قطع، لباس، لہجہ، نشست و برخاست اور رہن سہن کی بنیاد پر شناخت کیا جا سکتا ہے۔ مذہبی طبقہ خود بھی اپنی اس شناخت کا ادراک رکھتا ہے، اپنے سماجی رسوخ میں اضافہ کی کوشش کرتا ہے اور مذہبی معاملات میں اپنی اجارہ داری کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔

مساجد کے ادارے کے سبب علمائے کرام عوامی نظریات پر اثر انداز ہونے کی بے تحاشا قوت رکھتے ہیں۔ مساجد کا تنظیمی ڈھانچہ مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی زیر نگرانی ہوتا ہے۔ بارسوخ افراد کے سیاسی سماجی مفادات اور مولوی گھرانے کے معاشی مفادات اسلام کی انقلابی تعلیمات سے میل نہیں کھاتے۔ چنانچہ سماجی مساوات، اخلاقی تربیت اور معاشرتی برائیوں کی بیخ کنی مساجد کے بنیادی موضوعات نہیں بن پاتے۔ جبکہ فروعی اختلافی معاملات بڑھا چڑھا پیش کیے جاتے ہیں کیونکہ کنٹرورسی سے مولوی صاحبان کی ریٹنگ اور مقتدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ نتیجتاً عوام بنیادی مذہبی مسائل سے لاعلم، اخلاقیات سے بے تعلق اور مذہب کی انقلابی قوتوں سے بیگانہ رہتے ہیں ؛ سماج میں دور ازکار فرقہ وارانہ مسائل پر بحث و تکرار برپا رہتی ہے جس کے باعث عدم برداشت اور تشدد کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

علمی شعور کی کمی، اور فکر اور اظہار پر پابندیوں کے سبب عوام مختلف مسائل پر معروضی انداز سے سوچنے، مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو جانچنے، اور اعتراضات اٹھانے کی صلاحیت سے معمور نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں مذہبی تقدس کا پردہ اور عدم برداشت کا رویہ سوچنے والوں کی جانب سے معترضانہ سوالات اٹھائے جانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

اس سب صورتحال اور ان تمام عوامل کے باوجود عوام الناس کی اکثریت اپنی تہذیبی عوامیت پر کاربند رہتی ہے۔ یہ ماننے کے باوجود کہ علماء کے پیش کردہ عقائد کو اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنا ہی ان کا مقصد حیات ہونا چاہیے، عوام ان عقائد کو سرسری انداز سے ماننے کا دعویٰ اور منوانے کی تلقین کرتے رہتے ہیں، لیکن اپنی زندگی میں بہت سی علمائی ہدایات کو عملی طور پر اختیار نہیں کر پاتے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ:

1۔ پاکستانی کا آئینی ڈھانچہ مذہب سے جدا نہیں۔ تاہم مذہب کے سیاسی کردار کے واضح دستوری تعین کے باوجود پاکستان میں کبھی بھی خالصتاً ملائی حکومت قائم نہیں ہو سکی۔

2۔ مذہبی علماء عوام کے مذہبی لگاؤ کو شعلہ بیانی کے ذریعے جذباتی ابال میں تبدیل کر کے بطور اسٹریٹ پاور استعمال کر سکتے ہیں لیکن یہ ابال ہمیشہ وقتی ثابت ہوتا ہے اور مذہبی سیاسی تحاریک طویل البنیاد انقلابی جدوجہد کی صورت اختیار نہیں کر پاتیں۔

3۔ خواتین کے لیے پردہ کے تصوراتی معیارات سخت گیر ہیں لیکن عمومی طور پر ان معیارات کی اس درجہ پابندی نہیں کی جاتی۔ چنانچہ علماء کے مسلسل مطالبے کے باوجود پاکستان میں ایرانی، افغانی یا سعودی طرز کی حجابی اقدار کا نفاذ ناممکن رہا ہے۔

4۔ موسوم بہ ”شرعی حلیہ“ (جنہیں جماعتی وردیاں کہنا زیادہ مناسب ہو گا) کے اختیار کردگان محدود ہیں۔

5۔ موسیقی اور اداکاری کے حوالے سے اس رائے پر شاید ہی کوئی قابل ذکر تذبذب ہو کہ اگر اسلام پر درست طریقے سے چلنا ہے تو ان شعبہ جات کو لازماً ترک کرنا ہو گا، اور وقتاً فوقتاً کوئی نامور فنکار یا فنکارہ اپنے شعبے کو ترک کے، ظاہری حلیہ کی تبدیلی اور پردہ کے ذریعے اپنی ذات پر نفاذ اسلام کا اعلان کر کے ان شعبوں کی حرمت پر مہر ثبت کرتا ہے۔ اس سب کے باوجود پاکستان میں اداکاری اور موسیقی کی پرستاری عام ہے اور تفریحی صنعت ہمارے روزمرہ معمولات کا لازمی جزو ہے۔

6۔ مخلوط تعلیم علماء کے نزدیک بلا اختلاف و بلا استثنا حرام ہے لیکن اس کے باوجود اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم مروج ہے۔

7۔ علما کی جانب سے فرقہ واریت اور تکفیری نظریات کی ترویج کے باعث اقلیتیں مذہبی شدت پسند مجمع کے ہاتھوں تشدد اور عدم تحفظ کا شکار رہیں۔ لیکن مذہبی تفاوت کو معاشرے کے عمومی ردعمل اور تنفر کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور اپنی ذاتی تعلق داریوں میں عوام مذہبی تفرقات کو غیر اہم سمجھتے ہیں۔

8۔ عالمی تہذیبی کشمکش اور علماء کے پسماندہ عصری شعور کے باعث جہاد اور عالمی غلبہ اسلام کی تحریک دو دہائیوں سے زائد عرصہ کے لیے مسلمانان پاکستان کی ایمانی امنگوں کی ترجمان بنی رہی۔ تاہم مذہب کے بزور طاقت نفاذ کے ڈاکٹرائن کو ایمان کی سطح پر قبول کرنے والوں کے ”جرات مند جذبوں سے پیدا ہونے والا عمل لاتعداد مسلمانوں کو تذبذب اور افسردگی میں مبتلا کرتا رہا (مبارک حیدر)“ ، حتی کہ چند برس اندر ہی دہشتگردی کی کھلم کھلا حمایت اور معذرت خواہی آسان نہیں رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *