عورت اور اس کا استحصال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ عورت کا معاشی، سماجی، سیاسی اور جنسی استحصال بہت پرانا ہے لیکن آج بھی اتنے سال گزرنے کے باوجود خواتین کی اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری ہے۔ دنیا میں مختلف ادوار میں خواتین کا استحصال کیا گیا۔ اس کو ہر طرح کے حقوق سے محروم رکھا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ مردوں کا خوف تھا کہ خواتین مختلف شعبہ جات میں ان سے آگے نہ نکل جائیں اور ان کی برتری ختم نہ ہو جائے۔ اس لیے خواتین کو ایسے ماحول میں پروان چڑھایا گیا جہاں وہ اپنی محرومیوں کو فطری سمجھ کر قبول کر لیں اور احتجاج نہ کریں۔ مردوں کو پھر بھی رنگ، نسل، قومیت کی بنیاد پر ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن عورت کو رعایت نہیں دی جاتی اور اس کو بغیر رنگ، نسل، قومیت کے فرق کے ہر طرح کے ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس مد میں دنیا کا اتفاق قابل دید ہے۔

عورت اپنی شناخت تلاش کرتی رہی۔ عورت کو مرد کی بگڑی ہوئی شکل کہا جاتا رہا۔ عورت کو چار دیواری میں قید کر دیا جاتا ہے۔ اس کی دلیل بڑی مضحکہ خیز ہے کہ عورت گھر کی عزت ہوتی ہے۔ بندہ ان سے یہ پوچھے کہ جنسی ہراسانی اور زیادتی تو مرد کرتے ہیں ان سے ہی اپنی جنسی خواہشات کنٹرول نہیں ہوتی۔ عزت تو ان کی خطرے میں ہے جو ایسے گھناونے جرم کے ارتکاب کے بعد ختم ہو جائے گی۔ قید تو ان کو ہونا چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مرد کے اس گناہ کو جرم نہیں سمجھا جاتا۔ پھر کون سی عزت؟ اور پھر اس جرم کا دفاع کرنے والے بھی بہت ہیں۔ کیونکہ مرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ برتر ہے۔ اس برتری کو برابری میں بدلنے کی جدوجہد جاری ہے۔

ماضی میں عورت کو تمام معاشرتی، سماجی، سیاسی اور معاشی برائیوں کی جڑ سمجھا جا تا تھا۔ جنگوں میں شکست کی وجہ عورت کو مانا جاتا، فتوحات میں عورت کو بطور تحائف پیش کیا جا تا اور خانہ بدوش قبائل بھائی چارہ اور ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے عورت کی مرضی جانے بغیر ازدواجی تعلقات مسلط کر دیتے۔ عورت کے جینے کا مقصد معاشرے نے طے کیا وہ یہ کہ شادی کرنا اور بچے پیدا کرنا۔ عورت کو مرد اپنی جاگیر سمجھتا ہے جس پر وہ حکمرانی کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ اس کی شخصیت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی، اپنی شخصیت کو جانچنے کے سارے مواقع چھین لیے جاتے، اس کو گھر میں محدود کر دیا جاتا اور تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم سے کر دیا جاتا۔

عورت کو کبھی بھی انسان نہیں سمجھا گیا۔ عورت کو جنسی شے سمجھا جاتا ہے جس کے اپنے کوئی احساسات، جذبات، مقصد اور زندگی نہیں ہے۔ اس دنیا میں وہ بچے پیدا کرنے اور مرد کی محکوم بننے آئی ہے۔

ماضی میں عورت کی شادی بھی بہت بڑا معمہ ہوتی۔ اس کی مرضی جاننا تو دور کی بات، اس سے پوچھا بھی نہ جاتا۔ اس کی خوبصورتی، اعضا اور عمر کا معیار بنایا جاتا۔ اس کی پسند، نا پسند، مرضی اور خواہشات کا کوئی تصور ہی نہ تھا۔ شا دی کا مقصد صرف مرد کا اپنی نسل کا بڑ ہا نا ہوتا۔ بیوہ یا مطلقہ ہونے کی صورت میں عورت کے جینے کا مقصد ہی ختم ہو جا تا، اس کو زندہ دفن کر دیا جاتا یا زندہ جلا دیا جاتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عورت کا سما جی رتبہ گرتا ہی گیا۔ بیوی، ماں، بہن اور بیٹی کی صورت میں عورت کو معاشرے میں کبھی میں باعزت مقام نہ ملا۔

بظاہر یہ کہا جا تا ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں کمزور ہوتی ہے لیکن عورت بچہ جنم دیتے وقت جتنی تکلیف اور اذیت سے گزرتی ہے اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا کیو نکہ ان تکا لیف کو فطری سمجھا جا تا ہے۔ یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ عورت اپنی کوکھ میں ایک زندگی، جان اور انسان پروان چڑھاتی ہے جس کی نشو و نما کے لیے خوراک بھی عورت کے جسم سے پہنچتی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ عورت بچہ پیدا کرنے کے لیے اتنی طاقتور ہے یا نہیں، اس سے مشین کی طرح مرضی جانے بغیر بچے پیدا کروائے جاتے ہیں۔ سونے پہ سہا گہ اس مدت کے دوران گھر کی ذمہ داری بھی اس پر ہوتی ہے، اس کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ مرد کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اولاد کی ذمہ داری دونوں پر ہے۔ یہ بچہ اس کا بھی ہے، اس دوران مرد کو چاہیے کہ اپنی بیوی کا بھرپور خیال رکھے، اس کی تکالیف کو فطری نہ سمجھے بلکہ اس کے درد کو درد سمجھے۔

آج بھی اتنے سال گزرنے کے باوجود لوگوں کی سوچ نہیں بدلی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ عورت کو انسان نہ سمجھنے والی سوچ معاشرے میں اس قدر دھنس چکی ہے کہ کئی خواتین مرد کی برتری کو فخر سمجھتی ہیں اور اس کے جرائم کا دفاع کر نے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ نکلتا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ یہ تحریک عورت اور مرد کی برابری کا پرچار کرتی ہے۔ لیکن اس مارچ میں شریک ہو نے والی خواتین کو نازیبا القابات سے نوازا جا تا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زوبیہ حریم کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *