تلملاہٹ کیا فطری عمل ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک محاورہ جو آج کل بہت عام ہے وہ یہ کہ اگر بلی کو بھی دیوار کے ساتھ لگا دو گے تو وہ بھی (تلملا کر) پنجے مارے گی۔ اس کے علاوہ اب نیٹ پر ایسی فلمیں بہت زیادہ ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ جب کسی جانور کو قید کر لیا جائے تو وہ بہت تلملاتا ہے (مگر کیوں پکڑا گیا، اس پر سٹپٹاتا نہیں ہے)، پھر تھوڑا عرصہ گزر جانے کے بعد راضی بہ رضا ہو جاتا ہے۔ لگنے لگتا ہے کہ وہ آزادی کو بھول چکا ہے مگر جونہی اس کو آزاد چھوڑا جاتا ہے تو پہلے ایک دو لمحے تو اسے یقین نہیں آتا پھر ایسے بھاگتا ہے جیسے دوبارہ پکڑے جانے سے بچنا چاہتا ہو (یہ بھی فلموں میں دکھایا گیا ہے)۔

جانور صرف آزادی سلب ہونے سے اور وہ بھی عارضی طور پر تلملاتے ہیں۔ جانوروں کو سہولیات کا گیان نہیں ہوتا اس لیے ان کا گلہ بنتا ہی نہیں اور نہ انہیں شکوہ کرنا آتا ہے۔ اگر منتقم مزاج ہوں تو موقع میسر آتے ہی انتقام ضرور لے سکتے ہیں۔ البتہ کھانا پینا ان کی احتیاج ہے، جس کے فقدان پر وہ بے چین ہوتے ہیں اور بسا اوقات اکل و شرب فراہم کرنے والے کے مطیع ہو جاتے ہیں، تاحتٰی تلوے نہ سہی اظہار تشکر میں اس کی ہتھیلیاں ضرور چاٹنے لگ جاتے ہیں۔

جانوروں میں شعور محدود ہوتا ہے، انسان میں کہیں فزوں تر، لیکن دیکھا گیا ہے بلکہ اگر آنکھیں کھلی ہوں تو آپ روزانہ دیکھ سکتے ہیں کہ زندگی کی آسائشوں اور سہولتوں سے عاری لوگ بھی بہت کم احتجاج کرتے ہیں، تلملاتے تو بالکل نہیں۔ سہولتیں یا آسائشیں پانے کی آرزو میں ان طبقات سے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو چوری چکاری یا لوٹ مار کا سہارا لیتے ہیں۔ سہولتوں یا آسائشوں کے حصول کی جانب وہ پھر بھی کم ہی توجہ دیتے ہیں اور باغیانہ انداز (میں مجرمانہ انداز کہنے سے قصداً احتراز کر رہا ہوں کیونکہ ان کو درست اور مناسب طریقے سے وسائل کمانے کے لیے ہنر مند بنانے اور مواقع فراہم کرنے کی جانب توجہ ہی نہیں دی جاتی) سے “کمائے گئے” وسائل کو “دکھ بھلا دینے کے اعمال”جنہیں ہم کسی حد تک با سہولت لوگ “تعیش” گردانتے ہیں، پر اڑا دیتے ہیں یعنی شراب و دیگر منشیات کے استعمال، ناچ دیکھنے یا جنسی عمل خریدنے پر۔

تلملانا فطری عمل نہیں ہے بلکہ اکتسابی رویہ ہے جسے وہی سیکھ سکتے ہیں جو ”باوسائل“ یعنی Haves اور ”لاوسائل“ یعنی Have nots کے زندگی گزارنے کے اطوار کا تقابلی جائزہ لینے کے قابل ہوں۔ اس کے بعد جو تلملاتے ہیں وہ جھنجھلا کر ”جرائم“ کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔ جو لاعلم ہونے یا باعلم ہونے کے خواہاں نہ ہونے کے باعث نہیں تلملاتے وہ صبر و شکر کو شعار بنا لیتے ہیں۔

اصل جذبہ وہی حیوانی جذبہ ہوتا ہے یعنی ”جذبہ آزادی“۔ اگر باشعور اور باعلم لوگ ”لاوسائل“ لوگوں پر، ان کے مصائب کے اسباب واضح کر دیں تو انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان سے مرضی کے مطابق جینے کی آزادی چھین لی گئی ہے اور اس آزادی کو غصب کرنے والے ”باوسائل“ لوگ ہیں۔ وہ آزادی برائے متوازن حیات کو پانے کے لیے دو طریقے اختیار کر سکتے ہیں جس میں سے کسی بھی طریقے کو اختیار کرنے کے پس پشت ان لوگوں کا انداز تعلم ہوتا ہے جنہوں نے انہیں ”غیر آزاد“ ہونے کا احساس دلایا ہوتا ہے۔

اگر ایسے لوگ خود کسی تنظیم کے تحت اور کسی خاص نظریے کے فروغ کی خاطر ایسا کرتے ہیں تو ان کے زیر اثر لوگ بھی منظم ہو کر اپنے ”انسانی حق“ کی خاطر منظم جدوجہد کا آغاز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ان پر کام کرنے والے لوگ محض حصول اقتدار یا خاص مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ایسے لوگوں کو بجائے سکھانے کے مشتعل کریں تو ان لوگوں میں اجتماعی تلملاہٹ فروغ پاتی ہے پھر یہ لوگ غیر منظم ہجوم کی شکل میں متشدد احتجاج اور توڑ پھوڑ بلکہ مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔

سیاسی کارکنوں (اگر ایسے لوگوں کو سیاسی کارکن کہنا درست ہے) کا رویہ اسی عمل کا غماز ہے جنہیں جلد از جلد اور کسی بھی قیمت پر ”تبدیلی“ لائے جانے کی سعی کرنے کا درس دیا گیا ہے۔ تبدیلی مثبت ہو تو منفی اعمال نہیں ہوا کرتے۔ البتہ اگر لوگوں میں محض تلملاہٹ کو پروان چڑھایا جائے تو اس کے اثرات مثبت کی بجائے لامحالہ منفی ہوں گے جیسا کہ ہوا۔

مقتدر یا مخالف جماعتوں کو مسلسل نااہل، بدعنوان، غیر دیانتدار، مائل بہ زیادتی اور اسی نوع کے دیگر منفی اوصاف سے رنگنا اور خود کو دودھ سے دھلے، فرشتہ صفت، اہل، مستعد اور دیانت دار قرار دینے سے کبھی اچھا نتیجہ برآمد نہیں ہوتا بلکہ اپنے حامیوں میں مدمقابل کے خلاف تلملاہٹ کو رواج دینے پر منتج ہوتا ہے۔

تقریباً تمام پارٹیاں یہی کہتی ہوئی پائی جاتی ہیں کہ انتخابات اگر کروائے جائیں تو فوج کی نگرانی میں کروائے جائیں۔ برادران عزیز! اگر آپ کے نزدیک ”فوج کی نگرانی“ ہی مساوات، بھلائی، غیر جانبداری، امن و امان بلکہ سبھی مثبت اوصاف کی ضمانت ہے تو پھر آپ سب ”فوج کے اقتدار“ کے خلاف بار بار متحد کیوں ہو جاتے ہیں، اسی لیے نہ کہ وہ آپ سے مرضی کے مطابق آزادی سے جینے کا حق چھین لیتی ہے، چنانچہ انسان بنو، اپنے اپنے رویوں کو درست کرو، نہ فوج کو موقع دو اور نہ ہی فوج کو اکساؤ کہ وہ ایک بار پھر آپ کی کمر پر زین کس لے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *