سچی صحافت یہاں ممنوع ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے کیونکہ اگر صحافت نا ہو تو ریاست اور عوام میں جو ایک باہمی رشتہ قائم ہوتا ہے وہ رشتہ کمزور ہو جائے گا۔ صحافت ہی کی بدولت ریاست اپنی عوام کو اپنی پالیسیز بتاتی ہیں اور عوام کی رائے کو ریاست تک پہنچاتی ہے، ان کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے تا کہ وہ مسائل دور کیے جا سکیں۔ صحافت سے وابستہ افراد کو صحافی کہا جاتا ہے۔ معتبر معاشروں میں صحافی کو قدر و عزت کی نگاہ سے جانا جاتا ہے کیونکہ صحافی عوام کو حقائق سے روشناس کرواتا ہے اور اگر کسی فرد یا طبقہ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو تو وہ اس کے لئے آواز بن کر ابھرتا ہے۔

ہمارا ملک پاکستان ایک بہت پیارا ملک ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں اس سرزمین کا باشندہ بنایا مگر ان 74 سالوں میں میرے خیال سے صحافت پر شاید آج جتنا مشکل وقت ہے اس سے پہلے نا ہوگا کیونکہ پہلے صحافت پر صحیح مضبوط زنجیریں آمریت کے دور میں لگائی جاتی تھیں تا کہ کوئی آمر کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اعلان بغاوت نا کر سکے مگر آج کل تو ایک بے نامی جمہوری حکومت میں شاید حالات دیگر جمہوری حکومت کے برعکس زیادہ خراب ہیں حالانکہ یہ وہ ہیں جنہوں نے ہمیں اپوزیشن میں ہو کر کہا تھا کہ ہمیں آزمائیں ہم آپ کو بولنے اور صحافت کی آزادی دیں گے مگر اس وقت میرا فوکس حکومت نہیں ہے۔

پاکستان کی ایک تاریخ ہے اور اس تاریخ سے کوئی منہ نہیں پھیر سکتا ہے۔ پاکستان میں افواج نے حکومت کی ہے چار بار 33 سال کے دورانیہ کے لئے اور اس میں دو دفعہ ہائبرڈ جمہوری ادوار بھی شامل ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کس کے عہد میں ہوا آپ چاہ کر بھی اس کو بدل نہیں سکتے۔ 16 دسمبر 1971 کو سرنڈر ہوا تھا آپ لاکھ دفعہ چاہ کر بھی اسے تبدیل نہیں کر سکتے ہاں آپ اپنا بیانیہ لے آئیں تو وہ ایک الگ بات ہے۔ 7 اکتوبر 1958، 25 مارچ 1969، 5 جولائی 1977 اور 12 اکتوبر 1999 اور 3 نومبر 2007 کو اس ملک کا آئین توڑا گیا۔

آپ چاہ کر بھی نہیں بدل سکتے کہ وہ سنگین غداری تھی مگر آپ نظریہ ضرورت کو استعمال کر کے اس غیر آئینی عمل کا جواز پیش کر سکتے ہیں۔ سیاست میں مداخلت کی کچھ ادارے جو آئین کی رو سے محکمے ہیں ان کا عمل دخل ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ جو یہ آپ کو بتائے کہ مادر ملت کو ایک آمر کے خلاف الیکشن لڑنے کے جرم میں غدار قرار دیا گیا یا پھر ملک ٹوٹنے کی اصل وجوہات قوم کو بتائے وہ غدار صحافی ہے۔

اس وقت ملک میں دو قسم کی صحافت ہے۔ ایک ہے مصیبت فری صحافت اور ایک ہے حقیقی صحافت۔ حقیقی صحافت وہ ہے کہ آپ پاکستان کی عوام کو ماضی کے حقائق سے آگاہ کریں اور حال میں جو کچھ ہو رہا ہے جو جمہوریت، آئین، قانون کے ساتھ ہو رہا ہے وہ آپ کو بتائے اور آپ کو اصل معاشی حقیقتیں بھی بتائے۔ جو اس قسم کی صحافت کرتے ہیں پہلے انہیں تنبیہ کرنے کے لئے کبھی ان کا تعاقب کیا جاتا ہے، کبھی فون کالز کر کے انہیں بتایا جاتا ہے کہ صحافت آپ نے کیسی کرنی ہے اور کون سی لائن پک کرنی ہے۔

جب وہ پھر بھی اپنے پیشے کو ایمانی طور پر جو اس نے پیشہ منتخب کرتے ہوئے جو حلف لیتا ہے اس کو پورا کرنے کے لئے تیار رہتا ہے پھر ہم اس کو اغوا کر لیتے ہیں اور پھر جا کر مار کر ذرا اس کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ خاندانی بیک گراؤنڈ تو ایسا نہیں ہے مگر آپ غدار کیوں بن گئے ہو؟ کس کے ایجنٹ ہو؟ کون تمہاری فنڈنگ کرتا ہے؟ ساتھ ساتھ جب تواضع کی جاتی ہے تو گندی ماں بہن کی گالیاں دی جاتی ہیں اور پھر آخری تنبیہ کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو جذبات میں بہہ کر اس صحافی کی لاش آپ کو کسی نہر سے مل رہی ہوتی ہے۔

اگر کوئی صحافی اپنے اوپر واقعہ کی روداد پر کسی حساس ادارے کا نام لے لے تو ایک پوری بریگیڈ تیار ہے یوٹیوب پر اور سوشل میڈیا پر جو آپ کو بتانے کے لئے حاضر ہوگا کہ یہ کسی لڑکی کا چکر ہے اور لڑکی کے بھائیوں نے غیرت میں آ کر اسے مارا ہے۔ یا اس کا ذاتی کوئی مالی معاملہ ہوگا اور اب نئی وجہ جو بتائی جا رہی ہے کہ دراصل باہر کے ملک شفٹ ہونے کے لئے ایسے واقعات جان بوجھ کر خود پر کروائے جاتے ہیں تا کہ مغربی ممالک میں جا کر پناہ لے سکیں۔

اور کہتے ہیں یہ دیکھیں نا یہ ملک دشمن تھے قومی اداروں کے خلاف بول رہے ہیں۔ آپ کو کچھ ایسے محب وطن بھی ملیں گے جو کہیں گے کہ پہلے واقعے کے بعد بہت اچھا ہوا۔ ایسوں کو تو زندہ نہیں چھوڑنا چاہیے، اس کو تو آپ برداشت کیوں کرتے ہیں، شعبہ تعلقات عامہ افواج پاکستان کے ڈی جی کو ٹیگ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اس کے بعد آج کل ڈیوٹی یہ ہے کہ بھارتی فلموں کے کلپز لگانا۔ تیسرا کام یہ ہے کہ ہر روز اس شخص کی نئی پوسٹ دیکھنا کہ یہ پٹی کیوں کھولی؟ زخم تو ہے ہی نہیں اور یہ تو سپریم کورٹ اور ایف آئی اے میں پیشی سے بھاگنے کے لئے یہ سب کچھ کروایا گیا۔ اس کے بعد اس کے خلاف ٹرینڈز اور غداری کے مقدمات کی ملک کے مختلف شہروں میں اندراج مقدمہ کی درخواستیں دینا۔

دوسری صحافت ہے مصیبت فری صحافت۔ اس میں آپ نے وہی بیانیہ بولنا ہے جو آپ کو کہا جا رہا ہے۔ آپ نے تعریفوں کے انبار لگا دینے ہیں۔ جنہیں اینٹی سٹیٹ کہا جا چکا ہے ان کی رج کر بے عزتی کرنی ہے اور آئین و جمہور کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو ذلیل کرنا اور پھر ساروں نے 750 میٹر والی ٹویٹز کرنی ہوتی ہیں۔ ان کے نا شوز بند ہوتے ہیں، نا کبھی ان پر حملہ ہوتا ہے اور صرف انہی لوگوں کے لئے یہاں برطانیہ سے زیادہ آزاد میڈیا میسر ہے۔

اب آپ خود سوچیں جو مصیبت فری صحافت نہیں اپناتے پھر وہ عمر چیمہ، حامد میر، اعزاز سید، کامران یوسف، گل بخاری، احمد نورانی، بلال فاروقی، رضوان رضی، ابصار عالم، سید طلعت حسین، مرتضی سولنگی جیسے ہو جاتے ہیں جن کے شوز بند کر کے انہیں بے روزگار رکھا جاتا ہے، ان کو اغوا کر کے تشدد کیا جاتا ہے یا پھر سلیم شہزاد کی طرح قتل کر دیا جاتا ہے۔ میری عرض ہے کہ جی یہ اداروں کو جان بوجھ کر بدنام کیا جاتا ہے ان کی ساکھ متاثر کرنے اور ملک دشمنوں کی زبان بول رہے ہیں تو جناب ان حملوں کے مجرم آج تک کیوں نہیں پکڑے گئے؟ جو ذمہ داران ہیں ان کو سامنے لائیں تا کہ کوئی بھی اداروں پر الزام نا لگائے مگر کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ہر ایسے واقعات کے بعد اداروں پر باتیں کیوں ہوتی ہیں؟ یہ ذرا کوئی سمجھے بھی۔

اس وقت تو یوٹیوب پر ناقدین صحافیوں کو روکنے کے لئے آرڈیننس لایا جا رہا ہے۔ یہ نہایت ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ ان تین برسوں میں کافی موضوعات پر لوگ آپس میں گفتگو کرنے لگے ہیں کھلے عام اور جن کی وجہ سے وہ یہ بات کرتے ہیں ان کے یوٹیوب چینلز کو بند کرنا نہایت ضروری ہے۔ حقیقی آزاد صحافت کی ایک جھلک مطیع اللہ جان کا وہ وی لاگ ہے جس میں انہوں نے حامد میر کے خلاف احتجاج کور کیا ہے اور اس سارے احتجاج کی قلعی کھل گئی۔ اسی لئے آزاد صحافت اور صحافی خطرہ ہیں جو جھوٹ کو پکڑ لیتے ہیں اور سچ بولتے ہیں۔

حامد میر کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ بالکل غلط ہے کیونکہ ذکر تو جنرل رانی کا ہو رہا تھا مگر اس کے بعد جو افواہیں باہر نکلیں اس کو سچ ماننے جانے کی تقویت تب زور پکڑیں جب جیو نے انہیں چھٹی پر بھیج دیا۔ ابصار عالم پر کیوں گولی لگی اس کی وجہ بھی سب کو معلوم ہے ان ٹویٹز کے مواد میں کیا ایسی گستاخی ہو گئی تھی جو ناقابل برداشت تھی کچھ افراد کے لئے۔

یہ قانون پاس کر کے اگر صحافیوں کو تحفظ مل جائے گا۔ قانون عمل کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اگر اس پر عمل نہیں ہونا تو اس کاغذی مسودے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آپ کو میں نے دونوں قسم کی صحافت بتا دی ہے۔ یہ آپ پر ہے کہ آپ نے سچ کو سچ ماننا ہے یا جھوٹ پر مبنی بیانیے کو۔ اگر آئین پر عمل ہو رہا ہو تو کسی کو کوئی شوق نہیں کہ وہ ایویں کسی پر الزام لگائے۔ اسد طور پر حملہ کا بہت افسوس ہے مگر ان صحافیوں کے لئے بھی آواز اٹھائیے جن چینلز اور اخبار کے سیٹھ ان کو معاوضہ نہیں دے رہے اور کئی صحافی اس چکر میں مر گئے ہیں اور جو بے چارے فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ آزاد صحافت سے ریاست کے مکینوں اور اس کے وجود کا تحفظ ممکن ہے۔ اگر آپ یہ نہیں سمجھیں گے اور خوشامدی صحافت کروائیں گے تو چند افراد ریاست میں خوش ہوں گے اور محفوظ ہوں گے مگر ریاست کے رہنے والے خوش نہیں ہوں گے اور وہ ریاست محفوظ نہیں ہو گی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *