امریکا میں قصباتی زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کچھ مصروفیات اور کچھ سستی کی وجہ سے با قاعدہ اپنے مشاہدات کو قلم بند کرنے میں تاخیر ہو گی ہے۔ اگر چہ الفاظ تو جمع ہوتے رہے لیکن تحریر کرنے سے قاصر رہی جس کی وجہ سے ایک بے چینی سے چھائی رہی۔ اپ کی سوچ اور سمجھ کو الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے اور الفاظ کو تحریر کی ضرورت ہوتی ہے اور تحریر کو قاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں پر حلال اور دیسی اشیا کے لئے ایرانی اور انڈین اسٹور موجود ہے۔ جہاں سے سبزی اور مسالا جات مل جاتے ہے۔

لیکن ان کا ذائقہ پاکستانی مصالحوں سے کافی مختلف ہوتا ہے۔ ان مصالحوں سے کھانے کا مخصوص مزہ اور خوشبو نہیں آتی ہے۔ جو پاکستانی مصالحوں کا ہوتا ہے۔ یہاں پر آٹا چاول اور دیگر چیزوں کے لئے انڈین اسٹور سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ہر چیز میڈ ان انڈیا ہے۔ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم انڈیا کی بنی چیزیں استعمال کریں گے۔ ہر جگہ پر انڈین مصنوعات موجود ہے جو انڈین لیڈرز کا اپنی قوم اور ملک سے مخلص ہونے کا ثبوت ہے۔

یہاں پر ڈھونڈنے سے بھی پاکستانی مصنوعات نہیں ملتی ہے۔ ہمارے سیاست دان اپنے دوروں کے دوران جس بزنس کمیونٹی سے ملاقات کرتے ہے۔ وہ پتا نہیں یہاں پر کون سی پاکستانی مارکیٹ کو پروموٹ کرتے ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے یہاں پر پاکستانی مصنوعات کو ترویج دی جائے تا کہ اس سے ملک کو فائدہ ہو سکے۔ اور یہاں پر موجود پاکستانی اپنی ملکی اشیا خرید کر معیشت کو دوام بخش سکے۔ جب ہم انڈین اسٹور سے سبزی خرید رہے تھے ایک امریکن خاتون موبائل لئے ہمارے پاس آئی اور ہمیں ایک تصویر دکھائی۔ جس میں دھنیا ہمیں نظر آیا۔ خیر ہم ان کو اس جگہ پر لے گئے جہاں پر دھنیا موجود تھا۔ خاتون نے مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ یہاں پر تین لفظ بہت عام ہیں اور کثرت سے بولے جاتے ہیں شکریہ، پہلے آپ، اور سوری۔

ہم ساحلی علاقے میں رہتے ہے اس لئے چھٹی والے دن بذریعہ ٹرین سمندر پر جانے کا ارادہ کیا۔ ریلوے سٹیشن کافی پرسکون اور خالی تھا اکا دکا مسافر تھے۔ یہاں پر ٹکٹ خریدنے کے لئے نہ تو ٹکٹ گھر تھا اور نا ہی کوئی لائن تھی۔ بس کچھ مشینیں نصب تھی جس میں کارڈ یا سکہ ڈال کر ٹکٹ حاصل کی جا سکتی تھی۔ یہ سارا عمل ایک منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ ٹرین بھی اپنے مقررہ وقت پر پہنچ گئی اور ہم کسی ذہنی اذیت کے بغیر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ ویک اینڈ پر بچوں کا ٹرین کا سفر مفت اور بڑے لوگوں کی ٹکٹ کا کرایہ آدھا کر دیا جاتا ہے۔ لہذا یہ تفریح انتہائی مناسب داموں پر کی جاتی ہے۔ ٹرین کے تمام ڈبے تمام مسافروں کے لئے یکساں تھے۔ کسی بھی کمپارٹمنٹ میں بیٹھ سکتے ہیں۔

اس ٹرین میں اکانومی فرسٹ اور وی آئی پی جیسی کوئی سہولت میسر نہیں تھی۔ محمود اور ایاز ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ تمام شہری چونکہ ٹیکس دیتے ہے تو سہولتیں بھی سب کے لئے برابر ہے۔ کتابوں میں ہمیشہ یہی لکھا ہوتا ہے کہ ریاست کا کردار ماں جیسا ہوتا ہے تو یہ ملک ریاست کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔ ٹرین صاف ستھری تھی۔ اور اس کے دو فلور تھے ایک گراؤنڈ فلور ایک فرسٹ اور سیکنڈ فلور تھا۔ ہم سیکنڈ فلور پر بیٹھے تھے۔ تا کہ قدرت کے حسین نظاروں سے اچھی طرح لطف اندوز ہوا جا سکے۔ تمام ساحلی راستہ قدرت کا اعلی شاہکار ہے۔ مختلف مقامات پر پکنک پوائنٹ بنے ہوئے تھے اپنی مرضی کے kکسی بھی پوائنٹ پر اترا جا سکتا ہے ہم آخر والے سٹیشن پر اترے۔ یہ یہاں کا سب سے بڑا پوائنٹ تھا۔ یہاں پر کافی ہجوم تھا۔ لوگ اپنے ساتھ پکنک کا پورا سامان لے کر آئے ہوئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *