ناروے میں رقص خوشی کا استعارہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا دنیا کی کوئی قوم کوئی علاقہ ایسا ہے جہاں رقص نہ کیا جاتا ہو؟ رقص زندگی کی علامت ہے۔ خوشی اور جذبات کا اظہار ہے۔ خوشی میں لوگ اچھلتے کودتے ہیں۔ یہ اچھل کود اگر ترتیب اور توازن سے کی جائے تو رقص بن جاتا ہے۔

ناروے میں رسمی اور کلاسیک انداز کے رقص کی تاریخ بہت پرانی نہیں۔ وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ ناروے میں یا ڈنمارک کی حکومت تھی یا پھر سویڈن کی مداخلت۔ ناروے کا اپنا کوئی شاہی خاندان بھی نہیں تھا۔ تام جھام والے گالا رقص بورژوا اور رائل خاندانوں میں ہوتے ہیں۔ ارسٹوکریٹک سوسائٹی نہیں تھی اور ایسی ساری تقریبات ڈنمارک یا سویڈن کے درباروں میں منعقد کی جاتی تھیں۔ بیلے ڈانس اور بال روم ڈانس کے ساتھ یہی ہوا۔ ناروے میں نہ کوئی ڈانس اکیڈمی تھی نا اسے سیکھنے سکھانے والے۔ لیکن علاقائی طور پر رقص ثقافت کا حصہ رہا۔ لوگ خوشی کے موقع پر جیسے شادی، سالگرہ، فصل، بہار، اور نئے سال کی آمد پر ضرور ناچتے تھے۔

1890 کی دہائی میں سویڈن کی کوریو گرافر نے ناروے کے تھیٹر میں اوپیرا ڈانس پیش کیا۔ 1910 میں ناروے میں اپنا بیلے اسکول قائم ہو گیا۔ ناروے کو ماڈرن ڈانس سے متعارف کرانے میں جرمنی کی ایک کوریو گرافر کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ اس نے ایک باقاعدہ اسکول قائم کیا اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کامیابی سے چلایا۔

swing dance

دوسری عالمی جنگ کے بعد ناروے خود مختار ہو چکا تو اپنی جدا ثقافت کا تشخص بنایا اور رقص کی جانب بھی توجہ ہوئی اور آج لاتعداد ایسی اکیڈمیز بن چکی ہیں جن میں ہم عصر ڈانس کے علاوہ والز، کویئک اسٹیپ، جائیو، ٹانگو، چاچاچا، ٹویئسٹ، پولکا، سالسا اور رامبا وغیرہ سکھائے جاتے ہیں۔

ناروے کے روایتی ڈانس میں ”ہالینگ“ نمایاں ہے۔ یہ علاقائی رقص ہے یہ شادیوں میں کیا جاتا رہا ہے اور رقاص مرد ہوتے ہیں۔ مرد ڈانس کی صورت میں ایکروبیٹنگ اور جمناسٹک بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے پاور شو ہے اور مرد ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اس میں جسمانی طاقت اور ردھم کی بہت اہمیت ہے۔ ہائی اور لانگ جمپ، گھومنا اور کک لگانا اس رقص کے اجزا ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ ایک لڑکی کسی اونچی جگہ یا کرسی پر کھڑی ہو جاتی ہے اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہے جس پر ایک ہیٹ ٹکی ہوئی ہے۔ رقص کرنے والے کو اس ٹوپی کو کک لگا کر گرانا ہے۔ اس میں طاقت، فنکاری اور بروقت جھپٹنا اہم ترین ہے۔ یہ ٹوپی تقریباً 230 سے لے کر 280 سینٹی میٹر کی بلندی پر ہوتی ہیں۔ رقاص کے جسم میں اگر لچک نہ ہو تو وہ ناکام ہو جائے گا۔ ایک ایک کر کے مرد ٹوپی گرانے کی کوشش کرتے ہیں جو جیت جائے وہی ہیرو۔

آئیے ہالنگ ڈانس کا ایک مظاہرہ دیکھیں

ناروے کے تعلیمی نظام میں اب ڈانس اور ڈرامہ کو ایک مضمون کی حیثیت سے شامل کر لیا گیا ہے۔ کلچرل اسکول اور دوسرے ہائی اسکولوں میں ڈانس کی تربیت دی جاتی ہے۔ حالیہ دور میں ناروے میں رقص کے تین بڑے فیسٹیول منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان میں مختلف کوریو گرافر اپنی کاوشیں پیش کرتے ہیں۔

شادی کی تقریب میں دولہا دلہن پہلا ڈانس والز کرتے ہیں اسے سیکھنے کے لیے وہ باقاعدہ کورس لیتے ہیں۔

ناروے کا عوامی یا فوک ڈانس سوینگ ہے۔ یہ راک اینڈ رول کی طرح کئی جوڑے حصہ لیتے ہیں اور پارٹنر بدلتے ہیں۔ اس رقص کی کوریو گرافی نہیں ہوتی بس جیسا کر سکیں کر لیں۔ دھیرے دھیرے نت نئے ڈانس مقبول ہونے لگے۔ راک اینڈ رول سے ڈسکو اور پھر بریک ڈانس۔ ایلوس پریسلے کا دور آیا اور اس کے گیت بھی مقبول ہوئے ہی اور اس کا راک اینڈ رول رقص بھی۔ ناروے میں بھی یہ ڈانس بہت مقبول ہوا۔ کچھ اس لیے بھی کہ یہ ان کے اپنے سوینگ سے ملتا جلتا تھا اور قواعد کی سختی نہیں تھی۔

بال رومز ڈانسز کے اپنے لگے بندھے اصول اور ضوابط ہوتے ہیں۔ ہر ڈانس کے اپنے سٹپس ہوتے ہیں۔ ہاتھ کتنا اوپر جانے ہیں۔ پیر کس حد تک مڑ سکتے ہیں۔ یہ رقص باقاعدہ سیکھنے پڑتے ہیں اور ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ رقص عوامی طور پر مقبول نہیں ہو سکتے۔ ڈسکو ڈانس آیا تو اسے بھی پذیرائی ملی کیونکہ جن میں ذرا بھی ٹیلنٹ ہے وہ یہ ڈانس کر سکتے ہیں۔ بس جس طرح چاہیں گھوم لیں۔ لچک لیں۔ تھرک لیں۔ رقص اور عوامی ہوا اور اسٹریٹ ڈانس کا زمانہ آیا۔ ناروے میں بھی اس کا شوق ابھرا۔

ناروے میں رہنے والے ایک چھوٹے سے پاکستانی بچے نے بریک ڈانس کر کے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ یہ عمر بھٹی تھا جو مائیکل جیکسن کا فین تھا۔ اس نے ٹی وی پر آ کر پرفارم کیا تو مشہور بھی ہوا اور مقبول بھی۔ اس کی مائیکل جیکسن سے ذاتی دوستی بھی ہو گئی۔ عمر بھٹی ریپر بھی بنا اور ڈانسر بھی۔ اور کئی ٹیلنٹ شوز کا جج بھی۔ یوں بریک ڈانس نوجوانوں کا پسندیدہ ترین رقص بن گیا۔ کئی ڈانس گروپس بن گئے ہیں جن میں ناروے کی اپر کلاس مڈل کلاس اور تارکین وطن کے بچے سب ہی جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔ گروپس میں زیادہ تعداد میں لڑکے ہیں۔

Omar Bhatii

ڈانس مزید عام ہوا تو ٹی وی پر ڈانس کے پروگرامز بھی ہونے لگے۔ امریکا کا ایک پروگرام ”سو یو تھنک یو کین ڈانس“ پوری دنیا میں مشہور ہوا اور ناروے میں بھی اسی طرز کا ایک ڈانس مقابلہ شروع ہو گیا۔ ان پروگرامز کے نتیجے میں ناروے سے کئی اچھے آرٹسٹ ابھر کر سامنے آئے۔ ان ہی میں ایک پاکستانی عادل خان بھی تھا۔ عادل کو ڈانس کا شوق تھا۔ اس نے بریک ڈانس میں مہارت حاصل کی پھر اپنا ایک ڈانس گروپ تشکیل دیا اور پرفارم کرنا شروع کیا۔ 2006 میں اسے بڑا بریک تھرو ملا جب اس نے ڈانس کے مقابلے میں حصہ لیا اور اول آیا۔ اس کے بعد اس نے کوریو گرافی اور ڈانس سکھانے کا اپنا پروگرام شروع کیا۔ پروگرام کا بنیادی آئیڈیا یہ تھا کہ ہر ایک ڈانس کر سکتا ہے بس لوگ جھجکتے ہیں۔ وہ نہایت رازداری کے ساتھ کسی گروپ کو ڈانس کی تربیت دیتا پھر ٹی وی پر آ کر ان کی پرفارمنس دکھاتا۔ یہ پروگرام بہت مشہور ہوا۔

Adil-Khan

وہ ایک بہترین کوریو گرافر ہے اور ڈانس کے مقابلے کے پروگرامز میں جج بھی رہا۔ ناروے کے نوجوانوں میں ماڈرن ڈانس کی دلچسپی اور شوق پیدا کرنے میں عادل خان کا بڑا ہاتھ ہے۔ عادل نو عمر بچوں کو بھی ڈانس کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک اور نامور ڈانسر مونا برنستن ہے۔ مونا کی ماں کا تعلق مراکو سے ہے جبکہ باپ نارویجین ہے۔ اس نے ایک مقابلے ”سو یو تھنک یو کین ڈانس اسکیڈے نیویا“ میں حصہ لیا اور ٹاپ پر آئی۔ اس بعد اسے کئی پیشکشیں ہوئیں۔ اس نے جسٹین ٹیمبرلیک اور الیشیا کیز کے ساتھ پرفارم کیا۔ اب وہ کئی مقابلوں میں جج ہے۔ اس کے علاوہ کئی عالمی سطح کے اسٹیج پروگرامز میں بھی رقص کے جوہر دکھائے۔

Mona Brensten

دو پاکستانی جڑواں بھائی سلیمان ملک اور بلال ملک نے ناروے کی رقص کی دنیا میں تہلکہ سا مچا دیا۔ انہوں نے اپنا گروپ بنایا اور کوئیک کریو کو ناروے میں متعارف کروایا۔ یہ ڈانس ہپ ہاپ کی ایک شکل ہے۔ لوکل تقریبات میں پرفارم کرتے ہوئے وہ انٹرنیشنل شہرت تک پہنچ گئے۔ ناروے کی نمائندگی کی۔ کئی مقابلے جیتے۔ 2009 میں ”ناروے ہیز ٹیلنٹ“ میں حصہ لیا اور جیت گئے۔ پانچ لاکھ کرونا کا نقد انعام بھی پایا۔ اس کے بعد کئی ملکوں کے دورے بھی کیے۔ 2010 میں دونوں بھائیوں نے ایک بار پھر ہپ ہاپ کی ورلڈ چیمپین شپ میں حصہ لیا اور ایک بار پھر جیت گئے۔ آج وہ دنیا کے بہترین ڈانسرز میں سے دونوں بھائیوں نے تارکین وطن کے بچوں کو لے کر ڈانس گروپ بنائے، ان کا خیال تھا کہ یہ بچے فارغ اوقات میں غلط کاموں میں پڑنے کے بجائے ایک اچھے مشغلے کو اپنائیں اور اپنی توانائی اور وقت مثبت طریقے سے استعمال کریں۔ رقص کے ذریعہ اپنے جذبات کا اظہار کریں۔

Suliman Malik and Bilal Malik flanking a companion

ناروے میں ڈانس کا ایک اور پروگرام جو بہت مقبول ہے۔ اسے آپ امریکی ریئلیٹی پروگرام ”ڈانسنگ ود دا اسٹارز“ یا برٹش ”سٹرکٹلی کم ڈانسنگ“ کا ورژن سمجھ لیں۔ اس میں ڈانس سے ناواقف مشہور لوگ پرفیشنل ڈانسرز کے ساتھ ڈانس کرتے ہیں۔ ہر ہفتے ایک نیا ڈانس جسے سیکھنے کے لیے بھی ایک ہفتہ ہی ملتا ہے۔ یہ پروگرام بہت مقبول ہے اور ریٹینگ کے لحاظ سے سب سے اوپر رہتا ہے۔ اس میں بارہ شوقیہ ڈانسر ہوتے ہیں جو بارہ پروفیشنل ڈانسر کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اسٹیج پر لائیو ان کا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے اور ایک جوڑا آؤٹ ہو جاتا ہے۔ آخری ڈانسر کو ٹرافی ملتی ہے۔ یہ شو ہر سال پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں سیاست دان، صحافی، اداکار، اسپورٹس مین، پینٹرز، بلاگرز، براڈ کاسٹرز، غرض کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والے شریک ہوتے ہیں۔ سب شرکت کرنے والوں کا کہنا ہے انہوں نے بہت لطف اٹھایا۔ اس میں بال روم ڈانس جائیو، والز، ٹینگو سے لے کر سالسا، کوئیک اسٹپس، سلو فاکس ٹروٹ، چاچاچا، فلمینگو سامبا وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

اس پروگرام کے چار ججز ہیں جو خود نامور ڈانسرز رہ چکے ہیں۔

اس مقابلے میں ایک پاکستانی نعمان مبشر نے بھی حصہ لیا۔ نعمان ٹی وی براڈ کاسٹر ہیں اور بہت شہرت رکھتے ہیں۔ نعمان نے اس ڈانس مقابلے میں ایک بار بالی ووڈ اسٹائیل ڈانس بھی کیا۔ وہ بہت آگے تو نہ جا سکے لیکن دیکھنے والوں کو بہت محظوظ کیا۔

خلاصہ یہ کہ ناروے میں رقص جاری ہے۔ پارٹیز میں سوینگ، سلو ڈانس اور فاسٹ ڈانس ہوتا ہے۔ بورژوا محفلوں میں بال روم ڈانس ہوتے ہیں۔ بے تکلف محفلوں میں راک اینڈ رول بھی ہوتا ہے۔ تارکین وطن اپنی تقریبات میں اپنے اپنے علاقائی رقص کرتے ہیں۔ عرب بیلی ڈانس بے حد مقبول ہے اسے سیکھنے کے شوقین بھی ہیں۔ اب اسے سکھانے کا انتظام بھی ہے۔ بھنگڑا ڈانس نے بھی مقبولیت حاصل کر لی لیکن اس ڈانس کو بالی ووڈ ڈانس کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ افریقن ڈانس سیکھنے اور سکھانے کا بندوبست بھی ہے۔ نوجوان بچوں کے ڈانس گروپس بنے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی ثقافت کو متعارف کرا رہے ہیں۔

Noman Mubbashir
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *