EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

انسانی حقوق حبس بے جا میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیز تیز قدم اٹھاتا پارلیمنٹ ہاؤس کے فرسٹ فلور پر واقع کمیٹی روم نمبر 1 میں داخل ہونے لگا تو دروازے پر ایستادہ سیکورٹی اہلکار نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے بتایا "سر اندر ان کیمرہ/ بند کمرہ اجلاس ہو رہا ہے، میڈیا کو شرکت کی اجازت نہیں”۔ ایک لمحے کے لئے مجھے یقین نہ آیا کہ انسانی حقوق کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس کی کوئی ایسی خاص روایت موجود نہیں، اس لئے کہ اس میں حساس قومی امور نہیں بلکہ انسانی حقوق کے موضوعات زیربحث آتے ہیں۔ میں نے تصدیق کے لئے پوچھا یہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا ہی اجلاس ہے ناں؟ وہ بولا جی۔ آج اجلاس ان کیمرہ ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کی دفاع و خارجہ امور کی کمیٹیاں اکثر کچھ معاملات کو "حساس” قرار دے کر اپنے اجلاس ان کیمرہ منعقد کرتی رہتی ہیں مگر میرے لئے حیرت کی بات یہ تھی کہ اس بار انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس بھی ان کیمرہ منعقد کیا جا رہا تھا جس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ پوچھا کوئی خاص ایجنڈا ہے؟ سیکورٹی اہلکار نے بتایا کہ کمیٹی کے نئے چیئرمین کا انتخاب ہو رہا ہے۔ اتنے میں کمیٹی روم سے ایک سرکاری افسر برآمد ہوا، جس نے بتایا کہ سینیٹر ولید اقبال انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں۔

پتہ چلا کہ حکومتی سینیٹر ولید اقبال کا نام تحریک انصاف کے گردیپ سنگھ نے تجویز کیا تھا اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہد حسین نے اس کی توثیق کی یوں وہ انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی اپوزیشن سے نکل کر حکومت کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ اس کمیٹی کو سینیٹ کے حالیہ انتخابات سے پہلے تک پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر چلا رہے تھے۔ مصطفیٰ کمیٹی اجلاسوں میں آزادی اظہار کو لاحق خطرات، لاپتہ افراد، پولیس کی زیادتیوں اور انسانی حقوق سے متعلق دیگر اہم قومی واقعات کو کمیٹی ایجنڈے کا حصہ بناتے، متعلقہ حکام کو بلاتے اور کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ایسے اقدامات اٹھاتے کہ اکثر معاملات حل ہو جاتے اور اگر حل نہ بھی ہوتے تو حکومت کو سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

پارلیمنٹ کے کمیٹی روم کے باہر کھڑے جب انسانی حقوق کمیٹی کے ارکان کی فہرست پر نظر دوڑائی تو دوسری حیرت میرا منہ چڑا رہی تھی اور وہ یہ کہ اس میں پیپلز پارٹی کی طرف سے مصطفیٰ نواز کا نام تک غائب تھا۔ مجھے بات سمجھ میں آ گئی اور وہ یہ کہ پارٹی پالیسی پر پی ڈی ایم سے دغا بازی کے بارے میں کی گئی تنقید مصطفیٰ نواز کو مہنگی پڑ گئی، اسی لئے ان کو ان کی پسندیدہ کمیٹی کا رکن تک بننے سے محروم رکھا گیا۔ کمیٹیوں کے ارکان کی نامزدگیوں پر فیصلہ پارٹی رہنما کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ اگر یہ ان کی طرف سے نہیں ہوا تو کم ازکم انہیں اس کا نوٹس ضرور لینا چاہیے۔ مختلف رابطوں کے بعد یہ بھی پتہ چلا کہ انسانی حقوق کمیٹی کا قرعہ دراصل پیپلز پارٹی کے نام ہی نکلا تھا مگر پی پی پی نے یہ کمیٹی مسلم لیگ نون کو تحفے میں دے دی اور نون لیگ نے یہ کمیٹی آگے حکومت کو دان کر دی۔ یوں اب اس کمیٹی کی نگرانی تحریک انصاف کے سینیٹر ولید اقبال کے پاس آ گئی ہے۔ اس کمیٹی کی باگ ڈور اگر اپوزیشن کے پاس رہتی تو شاید حکومت پر نگرانی رہتی۔ ولید اقبال، علامہ اقبالؒ کے پوتے اور جاوید اقبال کے بیٹے ہیں۔ ان سے امیدیں فطری ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مصطفیٰ نواز کے دور کی قائم انسانی حقوق کمیٹی کی اعلیٰ روایات کو آگے بڑھائیں اور حکومت کی اس حوالے سے کڑی نگرانی کریں۔

سینیٹ کے ساتھ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی سربراہی بلاول بھٹو زرداری کرتے ہیں۔ ان کی زیر صدارت اجلاس بھی دلچسپی سے بھرپور ہوتے ہیں ان کے ایجنڈے میں بھی انسانی حقوق کے اہم امور موجود رہتے ہیں مگر پیپلز پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے مصروفیات کے باعث اکثر وہ اس کمیٹی کے اجلاس تواتر سے نہیں کر پاتے لہٰذا خال خال ہی اہم امور سامنے آ پاتے ہیں۔ بلاول بھٹو کو چاہیے کہ وہ خود نہ آ سکیں تو کم ازکم کمیٹی کے اجلاسوں کے تسلسل کو ضرور یقینی بنائیں۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے سب سے زیادہ کام مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں یا این جی اوز کرتی رہی ہیں۔ اکثر ان تنظیموں کو عالمی ادارے مالی معاونت فراہم کرتے تھے جس سے ایک طرف تو قیمتی زرمبادلہ ملک میں آتا اور لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوتے تو دوسری طرف ملک میں عورتوں، بچوں، خواجہ سراؤں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر کام ہوتا۔ جمہوریت اور آزادی اظہار جیسے امور پر پرمغز مباحث اور ان جیسے موضوعات پر مختلف تربیتی ورکشاپس منعقد ہوتی ہیں اور لوگوں کے شعور میں اضافہ ہوتا ہے مگر بھلا ہو سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا انہوں نے اپنے دور میں جعلی اور ملک دشمن این جی اوز کے خلاف ایکشن کی آڑ میں ایسے سخت قوانین متعارف کروائے کہ اب انسانی حقوق کی اکثر بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان چھوڑ کر جا چکی ہیں اور جو مقامی سطح پر کام کر رہی ہیں انہیں بھی اکنامک افیئرز ڈویژن، سیکورٹی اداروں، مرکزی و صوبائی حکومتوں سے کٹھن مراحل طے کر کے اجازت نامے لینا پڑتے ہیں لہٰذا انسانی حقوق کا کام بڑی حد تک بند پڑا ہے۔

حکومت، غیرسرکاری تنظیموں اور پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کمیٹیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم حقوق سے محروم اپنے لوگوں کو انصاف دلانے میں سنجیدہ ہیں نہ اپنا نظام بہتر کرنے میں بلکہ ہم نے بھی انسانی حقوق کو حبس بے جا میں رکھ چھوڑا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے