ٹیچر کی ڈائری: اعلیٰ سکول میں غریب بچوں کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیب اور دماغ کشادہ نہیں تو بچے کو شہر کے بڑے اسکول میں مت پڑھائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر کے بڑے اسکولوں میں طلبا کو بے مہار آزادی ہوتی ہے، جماعت میں ٹیچر حکمرانی کے بجائے رہنمائی کرتا ہے۔ طلبا کو فری زون میں سوال کرنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ ان اسکولوں میں سوچنے، سوال کرنے، بولنے اور جذبات کے اظہار کی مکمل آزادی دی جاتی ہے۔ بچہ کھل کے ہنستا، روتا اور شرارت کرتا ہے۔

سال میں ایک بار پکنک اور اسکول میں کلچرل ڈے، بیک اینڈ سیل، بون فائر، اسپورٹس اور نیشنل ڈیز منائے جاتے ہیں۔ اس طرح کے بڑے اور مہنگی فیس والے اسکولوں میں ہونے والی الوداعی تقریب میں رخصت ہونے والی جماعت کو پرجوش انداز سے رخصت اور تقریب کو یاد گار بنانے کے لیے گانے، ڈانس، اور کامیڈی پیش کی جاتی ہے۔ طلبا کے چہرے پر جوش اور خوشی دیدنی ہوتی ہے۔

غیر تدریسی سرگرمیاں طلبا کو پڑھائی کی جانب راغب رکھتی ہیں، اسکول آنا انہیں بوجھ نہیں لگتا۔ اپنے اساتذہ کے ساتھ گھلنے ملنے اپنی رائے دینے اور اختلاف کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ان کا اپنا نکتہ نظر اور پوشیدہ صلاحیتیں واضح ہوتی ہیں۔ دماغ کشادہ ہوتا ہے۔ مختلف پس منظر اور طبقات سے آئے ہوئے طلبا ایک دوسرے کے حالات اور کشمکش سے واقف ہوتے ہیں۔ اس سب کے دوران امتحانات اور ٹیسٹ بھی جاری رہتے ہیں۔

لیکن اس طرح کے اسکولوں میں کچھ طلبا وہ ہوتے ہیں جن کے والدین اپنی زندگی کی کل کمائی اور جسم کی ساری طاقت لگا کر اپنے بچوں کے اعلی مستقبل اور خوشی کی خاطر انہیں شہر کے مہنگے اسکول میں داخل کر دیتے ہیں۔

بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے اس کی عادت و اطوار گھر کے ماحول سے الٹ ہونے لگتی ہیں۔ گھر کے مذہبی، مشرقی ماحول میں بزرگوں اور قدامت پسند رشتے داروں کی مداخلت، والدین کو بوکھلا دیتی ہے۔ انہیں لگتا ہے بچہ ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ وہ اس پر ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ اس کے اٹھنے بیٹھنے، بولنے چال میں عیب نکالنے لگتے ہیں۔

بچہ چند روز برداشت کرنے کے بعد ترکی بہ ترکی جواب دیتا ہے۔ وہ ضدی اور ہٹ دھرم ہوتا چلا جا تا ہے۔ اس کا سارا الزام اسکول اور اساتذہ پر آتا ہے۔

اپنے بچے کو بار بار مت جتائیں کہ اس کے اسکول کے اخراجات آپ کو کس حد تک زیر بار کیے ہوئے ہیں، اور آپ نے کیسے خاندان کی مخالفت مول لے کر اسے ایک پرآسائش اور آزاد ماحول دیا ہوا ہے۔ بچے ذہین ہوتے ہیں، انہیں گھر کے حالات اور خاندان کی متعین کردہ حدود کا ادراک ہوتا ہے۔ پکنک ہو یا پارٹی، کچھ بچے دوستوں اور اساتذہ سے شرکت کے لیے معذرت کر لیتے ہیں۔ حساس اتنے کہ نہیں بتاتے کہ انہوں نے والدین کو متعلقہ سرکیولر ہی نہیں دیا ہے۔ جانتے ہیں کہ اسے پھر اسکول کے خلاف مغلظات اور معاشی مشکلات میں اس کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ان کی طویل قربانیوں کی داستان سننے کو ملے گی۔

سونے پر سہاگا اگر معاشی حالات معاشی قابو سے باہر ہوجائیں تو فیس کا واؤچر ملتے ہی انکشاف ہوتا ہے کہ اسکول محض پیسہ کمانے کی مشین ہیں، پڑھائی وڑھائی خاک ہوتی ہے۔ بچوں کو باغی اور بد تمیز بنایا جا رہا ہے۔ وہ مذہبی اور مشرقی طور طریقے بھول گیا ہے۔ اچھا کھانا، پہننا، تفریح کرنا سب مفقود۔ اسے اپنے معاشی حالات بتا کر احسان مندی میں مبتلا کرنا، دوستوں کے انتخاب میں مشورے اور سختیاں، اٹھنے، بیٹھنے بات کرنے کے انداز پر مسلسل طنز، آئے روز طعنے۔ نتیجتاً بے فکری کے خوب صورت ترین دور میں بچہ اندیشوں کا شکار ہو کر، تنہائی پسند یا ذود رنج ہو جاتا ہے، کچھ نفسیاتی پیچیدگیاں، زندگی اور گھر سے عدم دلچسپی پیدا ہونے لگتی ہے۔ وہ گھر یا زندگی سے فرار کی کوشش کرتا ہے اور اگر خوش قسمتی سے یہ کیفیات نہ ہوں تو وہ حقیقتاً انتہائی بدتمیز، اکھڑ، بدمزاج اور باغی ہو جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں آپ بچے سے ہاتھ دھو لیجیے۔ اگر لڑکی ہے تب وہ گھر کے ماحول سے فرار حاصل کرنے کے لیے لڑکوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک کے بعد ایک کی محبت میں گرفتار ہو کر دماغ، دل اور زبان کو مقفل کر لیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *