مرد اور عورت: دوست یا دشمن؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1995 میں جب میں نے این جی اوز کی دنیا میں قدم رکھا تو مردوں کے بارے میں اپنی نوجوان خواتین کولیگز کا جارحانہ رویہ دیکہ کر حیرت ہوئی۔ ہم ٹھہرے بائیں بازو کی طلبا سیاست سے آگے آنے والے لوگ۔ ہم تو یہی سمجھتے تھے کہ مرد اور عورت مل کر انقلاب لائیں گے۔ اور یہ بھی کہ جب انقلاب آئے گا تو مزدوروں اور کسانوں کی طرح عورتوں کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ یہ ہم ستر کے عشرے کے ابتدائی برسوں کی بات کر رہے ہیں۔ کراچی میں مزدوروں کی تحریک عروج پر تھی۔ اسی زمانے میں جب شیما کرمانی لندن سے پڑھ کر واپس آئیں اور پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کا حصہ بنیں۔ تو انہوں نے عورتوں کے مسائل کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن مرد کمیونسٹ ساتھیوں نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی صرف کرامت علی نے ان کا ساتھ دیا تھا۔

جلد ہی زین الدین والی پارٹی کو عورتوں کے لئے کام کرنے کی اہمیت کا احساس ہو گیا اور 1975 میں لالہ رخ حسین، نسرین زہرہ اور مجھے  ”خواتین محاذ“ قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی، جس کے تحت ہم ایک نیوز لیٹر  ”آدھی دنیا“ بھی نکالتے تھے۔ بعد میں یہ ذمہ داری گوہر تاج نقوی نے سنبھال لی تھی۔ خیر اس کے بعد ضیا الحق کی آمریت، افغان جنگ، سوویت یونین کے خاتمے نے سب کچھ بدل دیا۔ سیاسی پارٹیوں کی ساکھ ختم کرنے کی پوری کوشش کی گئی اور پھر این جی اوز کے دور کا آغاز ہوا جو بہت عرصہ تک اپنے آپ کو غیر سیاسی کہتی رہیں یہاں تک کہ عورت فاؤنڈیشن نے ’سیاسی تعلیم‘ کے پروگرام کا آغاز کیا جسے آج تک کسی نہ کسی انداز میں دہرایا جا رہا ہے۔ این جی اوز پر شروع سے لے کر آج تک فارن فنڈنگ کے حوالے سے تنقید ہوتی رہی جب کہ پاکستان کی ہر حکومت بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد پر انحصار کرتی رہی ہے۔ خیر جیسا کہ کہتے ہیں Two wrongs don’t make one right تو حکومت اور این جی اوز دونوں کو ہی خود انحصاری سیکھنی چاہییے۔

خیر بات ہو رہی تھی صنفی امتیاز اور صنفی مساوات کی۔ خواتین کے لئے کام کرنے والی ایڈوکیسی تنظیموں نے شروع سے صنف اور ترقی پر تربیتی پروگرامز منعقد کرانا شروع کیے، بہت عرصہ بعد یہ احساس ہوا کہ عورتوں کو ان کی مظلومیت کے بارے میں بتاتے رہنے سے کیا ہو گا، سوائے اس کے کہ ان کی فرسٹریشن میں اضافہ ہوگا چنانچہ مردوں پر توجہ دینے کا خیال آیا۔ ویسے تو برصغیر پاک و ہند کی تاریخ گواہ ہے کہ عورتوں کی تعلیم کے فروغ، ستی کی رسم اور کم عمری کی شادی اور جہیز کی رسم کے خلاف مرد مصلحین نے ہی تحریکیں چلائیں لیکن برصغیر کے مردوں کی اکثریت جاگیرداری اور پدر سری ذہنیت کی بدولت صرف اپنے مرد ہونے کو ہی برتری کا ثبوت گردانتی ہے۔ خواہ عورت ان سے زیادہ پڑھی لکھی ہو، ان سے زیادہ کما رہی ہو اور وہ ہر لحاظ سے اس سے کم تر ہوں تب بھی صرف مرد ہونے کی بنا پر وہ اپنے آپ کو برتر اور حاکم سمجھتے ہیں۔

اس وقت بین الاقوامی برادری نے 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف کا جو ایجنڈا بنایا ہے اس میں صنفی مساوات کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ شروع میں صنفی عدم برابری کے مسئلے سے نمٹنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ عورتوں اور بچیوں کی فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ ہو یا اجرتوں میں صنفی فرق کا، یا مردوں اور عورتوں کے معیار زندگی میں فرق کا، سیاست میں عورتوں کی عدم شرکت ہو یا صنفی بنیاد پر ہونے والا تشدد، کسی بھی مسئلے سے نمٹنا آسان نہیں تھا مگر حالیہ برسوں میں عورتوں نے اپنی جدوجہد سے جو کچھ حاصل کیا، وہ بھی ہاتھ سے نکلتا نظر آ رہا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اور قدامت پرستی کے احیا نے بہت سے معاشروں میں وقت کے پہئیے کو الٹا چلانے کی کوشش کی ہے۔ چند ممالک میں اس قدامت پسند بیانیے کو ریاست کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ یوں لگتا ہے کہ روایتی پدر سری کرداروں کو نیشن بلڈنگ کے پراجیکٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پدر سری، حب الوطنی، ثقافت، قومی حاکمیت اعلیٰ کو سیاسی بیانیے میں شامل کیا جا رہا ہے۔

عورتوں کی خود مختاری کے حوالے سے ہونے والی ترقی اور صنفی مساوات کو قومی نظم و ضبط میں خلل اندازی سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایڈوکیسی کی دنیا میں  ”مرد برائے صنفی مساوات“ کا شعبہ یا میدان بن چکا ہے۔ اس شعبے کی ترقی کا ایک اشاریہMen engage alliance کا سامنے آنا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی الائنس ہے جو دنیا کے درجنوں ممالک کے نیٹ ورکس پر مشتمل ہے جس میں سینکڑوں این جی اوز اور یو این کے پارٹنر شامل ہیں۔ مرد برائے صنفی مساوات کے شعبے کے قیام کا مقصد صنفی عدم برابری کو ختم کرنے کی کوششوں میں مردوں کو شامل کرنا ہے۔ اس میں مردوں کی طرف سے عورتوں پر ہونے والے تشدد کو ختم کرانے میں مردوں کی کوششوں کو بھی شامل کرنا اور خود مردوں کی جانب سے دوسرے مردوں کے تشدد کو چیلنج کرنا، بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت اور گھریلو کاموں میں حصہ لینا، عورتوں کے ساتھ مل کے جنسی اور تولیدی صحت کی ذمہ داری اٹھانا، عورت کی اقتصادی خود مختاری اور با معاوضہ کام اور سیاسی عمل میں شراکت کی حمایت کرنا شامل ہے۔

صنفی مساوات کے کام میں مردوں کو شامل کرنے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ فیمنزم میں اس تصور کی طویل تاریخ ہے۔ مردوں سے کہا جاتا رہا کہ وہ اپنے اور دوسرے مردوں کے سیکس ازم اور صنفی ناانصافی کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اور دنیا کے مختلف حصوں میں صنفی انصاف کی عورتوں کی کوششوں کی حمایت میں مردوں کے ایسے نیٹ ورکس بنتے رہے ہیں۔ بیجنگ میں عورتوں کی عالمی کانفرنس میں ورلڈ بنک کے صدر نے شرکا سے کہا تھا کہ مردوں کی سوچ اور رویے، اور عورتوں کی ذمہ داریوں میں انصاف کے ساتھ ہاتھ بٹانا، عورتوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانے کے لئے مردوں کو خود کو بدلنا ہو گا اور اس عمل کا آغاز گھر سے ہونا چاہییے۔ ہمیں اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ اگر ہر مرد اپنے گھر میں عورت کو عزت دے، اس کا ہاتھ بٹائے تو معاشرہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ مرد اور عورت دونوں کو نا انصافی پر مبنی روایات کے خول سے باہر نکلنا ہو گا، تب ہی دونوں صحیح معنوں میں آزاد ہوں گے۔

www.unwomen.org/work-with-men-and-boys-for-gender-equality-en.pdf?la=en&vs=3559

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *