پی ایم سی، صوبائی حکومتیں اور طلباء کا استحصال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے سال سے پی ایم سی (PMC) کے زیر نگرانی میڈیکل ٹیسٹ (NMDCAT) کے امتحانات ہو رہے ہیں جس کی رجسٹریشن فیس پچھلے سال شاید 1300 متعین کی گئی تھی۔

عجب معاملہ یہ ہوا کہ پہلے صوبائی امتحانات ہوا کرتے تھے جس کی وجہ سے 1000 روپے پہلے ہی سے لیے جا چکے تھے لیکن جب PMC نے پورے پاکستان میں ایک ٹیسٹ کروانے کا اعلان کیا تو بادل ناخواستہ انہوں نے بھی 1300 روپے بچوں سے چارج کیے۔

سوال یہ بنتا ہے کہ پی ایم سی سے پہلے سندھ حکومت فی کس 1000 روپے چارج کرچکی تھی جو غالباً کل ملا کے تین کروڑ بنتی تھی وہ کہاں گئی؟

یقیناً وہ رقم گل ہو گئی جس کا نہ اتا معلوم ہوا نہ پتا اور چونکہ ہم تو مالدار لوگ ہے اسی لیے 1000 روپے فی کس کا کون پوچھتا ہے؟

اس سال پی ایم سی نے ٹیسٹ کی رجسٹریشن فیس 6000 متعین کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال 1,25,663 طالب علموں نے رجسٹریشن کی تھی۔ یہاں ہمیں بات سمجھانے کے لیے ریاضی کا تھوڑا سہارا لینا پڑے گا۔ ہر سال طلباء کی تعداد بڑھتی رہتی ہے لیکن ہم پھر بھی فرض کرلیتے ہیں کہ اگر 1,25,663 طلباء اس سال بھی اپلائی کرتے ہیں تو کل رقم کتنی بنتی ہے؟ ملاحظہ فرمائیں ؛

1,25,663×6000=753,978,000

اندازہ لگائیں کہ یہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟ یہ ملک و قوم پر خرچ ہوتا ہے؟ یہ باتیں بھی نظر انداز کر لیجیے اور ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ وبا کے اس دور میں متوسط گھر کا فرد اتنی رقم ( 6000 ) دینے کے قابل ہے؟ متوسط کو چھوڑیے کیا ایک غریب والد اپنے بچے کی خاطر اتنی رقم کا بندوبست کر سکتا ہے؟

یقیناً آپ کا جواب نفی میں ہوگا اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہاں انسان کھانے کو ترس رہے ہیں لیکن ان لوگوں کی ہوس ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پیسے کمانا بڑا مشکل کام ہے اور اسے دوسروں پر خرچ کرنا اس سے بھی کٹھن کام ہوتا ہے لیکن ہاں یاد آیا کہ بعض نام کے مسلمان کام کے شیطان ہوتے ہیں۔ یہ انسان کی شکل میں خونی بھیڑیے ہیں یا شاید اس بھی خوفناک!

عزیزو!

اپنے حق کے لیے آواز بلند کرو ورنہ یہ لوگ تمہیں انسان نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک آپ کی حیثیت کیڑے مکوڑوں کی ہے۔

جاگیں!
آواز اٹھائیں!
ایسے دستور کو
صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا
میں نہیں جانتا


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

منصور جمال سید کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments