ملالہ اور نکاح کی تاریخی حیثیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملالہ یوسفزئی کے ایک بیان کہ مرد و عورت نکاح کے بغیر بھی پارٹنرز کی طرح ایک ساتھ رہ سکتے نے صدیوں پرانی کھوپڑیوں میں بلکتے دماغوں کو جھلسا دیا ہے۔

ملالہ نے تو چلو اپنے خیال کا اظہار کیا اور اس خیال کے بارے میں اپنے والدین کی اختلاف رائے کے بارے میں بھی بتا دیا۔ مگر یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کی جڑیں انسانی سماج کے ارتقا میں پیوست ہیں۔ انسانی تاریخ کو کھنگالنے کی ضرورت یوں بھی ہے کہ نکاح کا تصور کیونکر وجود میں آیا اور وہ ارتقا کے کن مراحل سے گزرتا ہوا اب کہاں تک آن پہنچا ہے۔

حؔوا کے مذہبی تصور سے لے کر پدر سری معاشرے کی بندشوں تک عورت کا مقام ایک چیز سے زیادہ کا نہیں رہا۔ زاہدہ حنا کے بقول عورت ”یاد فراموشی کی دھند میں لپٹی ہوئی ایک نیم انسان مخلوق“ ہے۔ پدر سری معاشرے کے نیم خواندہ اور مذہبی کنٹوپ چڑھائے مرد کیسے یکایک نیم انسانی مخلوق کو حق خود ارادیت دے سکنے کی بات سن بھی سکتے ہیں۔

زاہدہ حنا لکھتی ہیں کہ مغرب کے مذہبی کٹر پنے کے دور میں ”لاکھوں ذہین عورتیں چڑیلیں اور جادوگرنیاں قرار دے کر جلا دی گئیں“ ۔

انسانی سماج کے ارتقائی مراحل میں مادر سری نظام کو پنپنے میں آسانی ہوئی کیونکہ عورت زندگی کو جنم دینے والی مخلوق تھی اور خالق کا بلند درجہ اس کو حاصل ہوا۔ مرد ناکارہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کا پیدائش کے عمل میں کوئی قابل ذکر حصہ نہیں تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ابھی انسان نے پیدائش کو مرد و عورت کے جنسی عمل کا شاخسانہ نہیں سمجھا تھا۔

اس دور میں نہ صرف عورت اپنا پارٹنر چننے میں آزاد تھی بلکہ ایک سے زیادہ مرد پارٹنر بغیر نکاح کے رکھ سکتی تھی۔ عورت کی نہ صرف قدر و منزلت تھی بلکہ اسے پوجا جاتا تھا کیونکہ وہ زندگی کی خالق تصور کی جاتی تھی۔

تاریخ جب مرد کو ارتقائی عمل سے گزرنے کے بعد یہ ادراک دیتی ہے کہ انسان کے جنم دینے میں اس کا بھی ایک کردار ہے تو اس نے سر اٹھانا شروع کیا اور رہی سہی کسر زراعت کے معاشی سرشتے نے پوری کردی جس کے نتیجے میں مرد نے معاشی پیداواری ذرائع یعنی مویشی اور کھیت وغیرہ کو اپنی ملکیت قرار دیا۔ جسمانی قوت طاقت کا سر چشمہ ٹھہری تو مرد نے عورت کو بھی دوسری پیداواری چیزوں کی طرح اپنی ملکیت میں لے لیا۔

اسی دوران انسانی دماغ نے مذہبوں کو ایجاد کیا۔ پہاڑوں ندیوں اور بتوں کو خدا مانا اور ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے ایک ان دیکھے خدا کو بھی تخلیق کر لیا۔ پھر ہوا یوں کہ ان خیالی خداؤں کے حواریوں نے عورت کے ملکیت ہونے پر مذہبی مہر لگا دی اور یوں زرعی نظام کو آنے والے ہزاروں سالوں تک دوام بخشا۔

مذہبوں نے نکاح کو مذہبی حیثیت دیتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کے عورت مرد کی ملکیت ہے۔ مطلب حق ملکیت کی مذہبی سند دے دی کے فلاں عورت فلاں مرد کے نکاح میں ہے یعنی اس مرد کی ملکیت ہے۔

رومن کیتھولک مذہب کے تاریخ دانوں نے نکاح کو ایک مقدس عمل مانتے ہوئے اسے خدا کی منشا قرار دیا۔ نکاح کے بارے میں باقی سارے مذاہب نے بھی اسی طرح کی رسمیں رکھی ہوئی ہیں۔ آگے چلتے اٹھارہویں صدی میں جب قومی ریاستوں نے اپنے پیر جمانے شروع کیے تو شادی یا نکاح کے عمل کو ریاست نے اپنے کنٹرول میں لینا شروع کیا۔

مگر انسان یہ نہیں سمجھ پایا کہ ارتقا نہیں رکتی۔ ارتقائی عمل میری اور آپ کی خواہشوں کے تابع نہیں ہے۔ زرعی معاشرے کے پدر سری نظام کو صنعتی نظام نے آڑے ہاتھوں لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یورپ اور پھر نارتھ امریکہ میں پدر سری معاشرہ ایک آزاد معاشرے کو جگہ دیتا گیا۔ آزاد معاشرہ عورت کے حق خود ارادیت کے معاملوں میں کافی بہتر رہا ہے۔

آج ہم صنعتی نظام سے بھی ایک قدم آگے کے دؤر میں جی رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی انسانی دماغ کو مات دیتی جا رہی ہے اور فرسودہ رسموں کا انسانی حال اور مستقبل میں کوئی بھی مقام نہیں۔ جو ذہن مذہبی کن ٹوپ چڑھائے ماضی کی فرسودہ اور انتہائی لغو رسموں کو گلے کا ہار بنائے رکھیں گے انھیں تاریخ ارتقائی عمل کے ذریعے ناپید کردے گی۔

نکاح بھی ماضی کی ان فرسودہ رسموں میں سے ایک رسم ہے جو پوسٹ انڈسٹرالازئیڈ معاشروں ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ملالہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھی ہوئی ایک روشن خیال عورت ہے۔ ملالہ تاریخ اور ارتقا کے خلیوں سے بہت اچھی طرح واقف ہونے کی وجہ سے اپنا ایک واضح نظریہ رکھتی ہے اور اسے اس کا پورا حق بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نوید پیرزادہ، کینیڈا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *