ملالہ اور نکاح کی تاریخی حیثیت
ملالہ یوسفزئی کے ایک بیان کہ مرد و عورت نکاح کے بغیر بھی پارٹنرز کی طرح ایک ساتھ رہ سکتے نے صدیوں پرانی کھوپڑیوں میں بلکتے دماغوں کو جھلسا دیا ہے۔
ملالہ نے تو چلو اپنے خیال کا اظہار کیا اور اس خیال کے بارے میں اپنے والدین کی اختلاف رائے کے بارے میں بھی بتا دیا۔ مگر یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کی جڑیں انسانی سماج کے ارتقا میں پیوست ہیں۔ انسانی تاریخ کو کھنگالنے کی ضرورت یوں بھی ہے کہ نکاح کا تصور کیونکر وجود میں آیا اور وہ ارتقا کے کن مراحل سے گزرتا ہوا اب کہاں تک آن پہنچا ہے۔
Read more
