ملالہ بیٹی آخر تم سوچتی ہی کیوں ہو؟
اگرچہ ملالہ کا تعلق ایک ایسی قوم سے ہے جہاں سوچنے اور سوال کرنے پہ پابندی ہے۔ چیلنج کرنے والوں کو طعنوں اور دھمکیوں کی ظالم چابکوں سے خاموش اور اکثر کو تو سوچتے ذہن کے ساتھ زندہ درگور کر دیا جاتا ہے لیکن اس من موجی ملالہ کی چالیں تو شروع سے بے ڈھب اور مستانی تھیں۔ انا الحق کا نعرہ بلند کرتی قابل دار اور معتوب لڑکی، لیکن اس میں اس کا آخر قصور بھی کیا کہ سوات میں رہتے ہوئے اس کے باپ نے اپنی اولاد اور وہ بھی بیٹی کے ذہن میں سوچوں کے پر لگا کر اڑنا سکھا دیا تھا۔ تو اور کیا ہونا تھا؟ اس بچی نے بھی اپنی معتوبی کا سوچے بغیر سچ لکھنا اور احتجاج کو اپنی کمزوری نہیں طاقت سمجھنا شروع کر دیا۔
میں نے ملالہ پہ اپنا مضمون ”میری آواز سنو“ (اردو ٹائمز امریکا ) اس کی اقوام متحدہ کی 12 جولائی 2013 کی تقریر سے متاثر ہو کر لکھا تھا۔ Malala ’s speech to the UN Youth Takeover اس وقت بھی وہ کم عمر تھی، لیکن بی بی سی اردو اخبار میں گل مکئی کے فرضی نام سے تو وہ اس سے بھی پہلے سے اپنی روزمرہ کی ڈائری لکھتی تھی۔ جس کو میں باقاعدگی سے پڑھتی تھی۔ اس کی تحریر طالبان کے عہد میں عورتوں کی تعلیم کے خلاف اس کے معصوم ذہن کا بالغ احتجاج اور قلمی جہاد تھا۔ اندھوں کے شہر میں آئینہ دکھانے کی سعی۔ اس کو نہیں پتہ تھا کہ تعلیم ہی نہیں اس ملک میں تو اکثر سانس لینے کا کا حق مانگنے والی لڑکیوں بالیوں کو اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ جو ظاہر ہے کہ اس نے ادا کی۔ جب طالبان نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا اور وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جب موت کے منہ سے واپس آئی تو قوم کی اکثریت نے اس کی دوبارہ ملنے والی زندگی کے تحفہ کی نہ خوشیاں منائیں اور نہ ہی امن کے نوبل انعام کو سراہا۔ اور اب جب ایک انٹرویو میں اس کے سوچنے اور استعجاب سے بھرپور ذہن نے نکاح کے متعلق اپنی رائے دی تو گویا قیامت کھڑی ہو گئی۔ وہ لوگ جنہیں لاکھوں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی بچیوں کی اموات نے ایک قوم نہ بنایا اسے ملالہ کے نکاح اور پارٹنرشپ کے متعلق سوال اور خیالات نے کو یکجا کر دیا۔ اکثریت کا کہنا ہے ملالہ ”نوبل انعام یافتہ، پاکستانی مسلمان ہے۔ اس کے الفاظ اہم ہیں اس کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔“ حضور والا جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ تو کیا اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنا سچ کہنا چھوڑ دے؟ اس لیے کہ وہ نوجوان لڑکی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیدا ہوئی تھی؟ حالانکہ ایک فرد کی حیثیت سے وہ اپنی رائے دینے اور سوال کرنے کا حق رکھتی ہے؟ اگر میں غلطی پہ نہیں تو کیا یہ وہی ملالہ نہیں کے جس کے نوبل امن انعام کو آپ پہلے ہی اپنی نفرت کی جوتیوں کا ہار پہنا چکے ہیں۔ کیونکہ آپ کی نظر میں اس پر قاتلانہ حملہ اور نوبل انعام امریکہ اور یہودیوں کی سازش تھی۔ بھئی جس کو دشمن سمجھ لیا اس کے ذاتی نظریات سے آپ کا کیا لینا دینا؟ اس کو اس کے سوال اور استعجاب کے ساتھ جینے دیجیے۔ اگر زندہ ہے تو سوچنے کا حق تو رکھتی ہے نا؟
اور مجھے کہنے دیجیے کہ کیا کہ یہ وہی پاکستان نہیں جہاں نوبل انعام پانے والے عبدالسلام کو ان کی قابلیت کے صلہ میں ستائش کے بجائے عتاب کا سامنا تھا کیونکہ وہ قادیانی تھے، جہاں ظلم اور زیادتی کے خلاف سراپا احتجاج مسلمان مشعال خان کو اجتماعی طور پہ قتل کر دیا گیا اور یہ سچی اور پکی مسلمان قوم ویڈیو بناتی رہ گئی۔ جہاں عورتوں کے ساتھ تشدد اور پورن فلمیں دیکھنے کا تناسب قابل ذکر حد تک غور طلب ہے۔ جہاں روزانہ لاکھوں لڑکیاں جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ جہاں ہندو اور عیسائی لڑکیوں کو اغوا کرنے اور ان کو زبردستی مسلمان کرنے کا ڈھونگ رچا کے ان کی عزت کا تماشا لگتا ہے تو کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوتی۔ کوئی جلوس نہیں نکلتا۔ جب داعش کے اسلامی لشکر نے یزیدیوں کے علاقے کو فتح کرنے کے بعد وہاں کی معصوم بچیوں کو جنس کے بھوکے مردوں کے ہاتھ یہ کہہ کے بیچا کہ جنگ کی فتح کے بعد مال غنیمت میں ملی عورتوں کے ساتھ نکاح کے بغیر جنس اور بچے پیدا کرنا جائز ہے۔ وہ تو باندیاں ہیں۔ ظاہر ہے کہ باندیوں کی مرضی نہیں ہوتی۔
ظلم اور زیادتی کی مثالیں تو بہت ہیں کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ملالہ کے بیان پہ معترض ہونے کے بجائے اپنے ملک اور دنیا میں لٹھ ملائیت اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں اپنی طاقت کو صرف کریں؟
ملالہ! میری صاحب ذہن و فکر اور سوال اٹھاتی بیٹی، اگر اس معاشرے کی آنکھ کا تارہ بن کے رہنا ہے تو نہ سوچو اور نہ ہی سوال کرو۔ اپنے ذہن کے دریچے بند کر کے اپنے خوابوں اور سوچتے ذہن کے ساتھ کسی دن خاموشی سے کہیں دفن ہو جاؤ۔ دیکھا نہیں سوچنے، سچ بولنے اور سوال کرنے والوں کا انجام؟ کتنی عورتوں اور مردوں کے نام لوں؟ صفحہ بھر جائے گا مگر نام نہیں ختم ہوں گے۔ اور ہاں اگر یہ منظور نہیں تو اپنی سوچ کے پروں کو کھلے رکھتے اونچی اڑان اڑتی ہی رہو۔ بے خوف اور بے خطر۔ کہ یہی زندگی ہے۔

