بحریہ ٹاؤن کا واقعہ۔ حقیقت کیا ہے؟


ہمارے ملک میں اسٹیٹس سمبلز بدلتے رہتے ہیں، کبھی پجارو نہایت دولت مند ہونے کی نشانی تھی، پھر موبائل فون آیا اور وہ امارت کا نشان بن گیا، گھڑیاں، لباسوں کے برانڈز اور بہت سے دیگر تعیشات اس حقیقت کے عکاس بن کے سامنے آتے رہے کہ ان کا استعمال کرنے والے پر ہن برسا رہا ہے۔ جہاں تک رہائش کا تعلق ہے تو کبھی کراچی میں ڈیفنس اور کلفٹن جیسی آبادیاں اور ملک کے دیگر شہروں کی وسیع و عریض کوٹھیوں پر مشتمل بستیوں میں بسنا ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ یہاں رہنے والا دولت میں کھیل رہا ہے۔ پھر یکایک ہمارے ملک کی زمین پر شہر طلسمات بننے کا سلسلہ شروع ہوا، یہ جادوئی شہر جہاں بھی بسے ایک ہی نام سے بسے اور وہ نام ہے ”بحریہ ٹاؤن“ ۔

بحریہ ٹاؤن کے نام سے بسائے جانے والے ان دلکش شہروں میں وہ سب کچھ ہے جس کی کوئی بھی شخص تمنا کر سکتا ہے۔ یہ ایسی بستیاں ہیں جہاں رہنے کا ہر شخص خواب دیکھتا ہے، چناں چہ اس خواب کی بہت بھاری قیمت وصول کی گئی۔ یہ قیمت کس کس طرح وصول کی گئی؟ اس سوال کا جواب دیتی کہانیاں سفاکی، لالچ اور طاقت کے بے دردی سے استعمال کے گھناؤنے قصے ہیں۔ ان قصوں میں کہیں پولیس افسر راؤ انوار کی کارستانیاں دکھائی دیتی ہیں، کہیں بحریہ ٹاؤن میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے آنسو جھلکتے ہیں اور کہیں اپنی زمینوں پر قبضہ ہونے یا انھیں ڈرا دھمکا کر ہتھیا لینے پر نوحہ کرتے لوگ نظر آتے ہیں۔

اس سب کے ساتھ جو اسرار ہمیں حیرت میں ڈالے رہتا ہے وہ ہے بحریہ ٹاؤن اور اس کے بانی ملک ریاض کے بارے میں میڈیا کا رویہ۔ ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سیاست دانوں کے بخیے ادھیڑ دیتا ہے، اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے، حکمرانوں پر ہر طرح کے الزامات لگانے سے نہیں جھجکتا، یہاں تک کہ اسٹیبلیشمنٹ کے بارے میں بھی سوال اٹھا دیتا ہے، لیکن بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی بات ہو تو اس میڈیا کے منہ پر ستائش، تعریف اور واہ واہ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

2 نومبر 2018 کی شام ملک کے نامور سیاست داں، عالم اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ میڈیا پر اس واقعے کی رپورٹنگ میں تمام حقائق موجود تھے، غائب تھی تو بس ایک حقیقت۔ بحریہ ٹاؤن کا نام۔ اس بستی کا نام نہ لینے کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس طرح بحریہ ٹاؤن کے شہریوں کے لیے محفوظ ہونے کے تاثر پر حرف آتا۔

یہی کچھ ہم نے گزشتہ دنوں بحریہ ٹاؤن کراچی میں رونما ہونے والے واقعے کے حوالے سے دیکھا۔ بحریہ ٹاؤن پر مظاہرہ ہوا، مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی، گاڑیاں جلائیں، عمارت جلا ڈالیں، لیکن یہ خبر میڈیا سے یوں غائب رہی جیسے یہ واقعہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے نواح میں نہیں یوگنڈا یا برازیل میں پیش آیا ہو۔ میڈیا کے اس افسوسناک کردار سے قطع نظر ہم بات کرتے ہیں اس مظاہرے اور مظاہرین کے پرتشدد عمل کی۔ مظاہرہ کرنے والوں کا موقف ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی طرف سے زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے یہ بستی بسانے اور مزید زمینیں ہتھیانے کے لیے گوٹھوں کے باشندوں کو ڈرا دھمکا کر زمینیں حاصل کرنے کے خلاف میدان میں آئے۔

سوال یہ ہے کہ احتجاج اور مظاہروں کا یہ سلسلہ اس وقت کیوں نہیں شروع ہوا جب بحریہ ٹاؤن بسایا جا رہا تھا؟ وہ وقت تھا کہ شدید اور موثر احتجاج کر کے زمینوں پر قبضوں کو روکا اور اس منصوبے کو ختم کرایا جاسکتا تھا، لیکن اس وقت سندھ اور اہل سندھ کا درد رکھنے والے قوم پرست خاموشی کی چادر تانے رہے۔ اب جب لوگ اس منصوبے میں سرمایہ کاری کر کے یہاں آباد ہو گئے ہیں تو بحریہ ٹاؤن پر ہلہ بولنے کا مقصد صرف وہاں آباد ہونے والوں کو ڈرا کر نقل مکانی پر مجبور کرنا نظر آتا ہے۔

لیکن یہ مقصد صرف یہیں تک محدود نہیں۔ تشدد کے اس عمل کے ذریعے ایک طرف بحریہ ٹاؤن کے خلاف پرامن احتجاج کا راستہ بند کردینے کی کوشش کی گئی ہے، دوسری طرف اسے سندھی مہاجر مسئلہ بنا کر بحریہ ٹاؤن، اس کی انتظامیہ اور ملک ریاض کے لیے کراچی کے شہریوں کی جانب سے حمایت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ کیا یہ امر حیران کن نہیں کہ کراچی کے جو راہ نما مردم شماری میں کراچی کی آبادی گھٹانے، کراچی کے بدترین معاشی استحصال، شہریوں سے روزگار چھیننے، تجاوزات کے نام پر ان کے گھر مسمار کرنے اور ان جیسے دیگر متعصبانہ اور ظالمانہ اقدامات پر محض ہلکے سروں میں بیان بازی کرتے رہے، لیکن نہ اس سب کے خلاف سڑکوں پر نکلے نہ تندوتیز لب و لہجہ اختیار کیا، لیکن وہ آج پورے جوش و جذبے کے ساتھ سامنے آ کر بحریہ ٹاؤن کے مکینوں سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اس واقعے کو مہاجروں کے خلاف سازش قرار دینے پر مصر ہیں۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس میں وہ سب شامل ہیں جو بظاہر اپنی اپنی ”قوم“ سے مخلص اور دوسری قوم کے راہنماؤں سے متنفر نظر آتے ہیں۔

سندھ کے سندھی بولنے والے ہوں یا اردو بولنے والے، انھیں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچنا ہوگا کہ بحریہ ٹاؤن پر پرتشدد مظاہرہ گوٹھوں کے مظلوم مکینوں کی حمایت تھی یا بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے لیے حالات ہموار رکھنے کی ایک ایسی تدبیر جس میں سندھ کی حکومت اور صوبے میں حکمران جماعت پوری طرح ملوث دکھائی دیتی ہے۔ سندھ کے دانشوروں، صحافیوں، ادیبوں اور سیاسی کارکنوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ ایک سرمایہ دار اور اس کے مالی منافع میں شریک شخصیات، گروہ اور جماعتیں مشترکہ منصوبے کے ذریعے اس سرمایہ دار اور اپنے مالی مفادات کے تحفظ کی خاطر سندھ کے امن کو قربان کرنے پر تل گئی ہیں۔ اگر یہ عناصر خدانخواستہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے تو نقصان صرف عام سندھی اور مہاجر کا ہوگا، یہ عناصر آگ پر ہاتھ تاپیں گے اور اس پر دیگ چڑھا کر اپنا اپنا حصہ کھائیں گے۔

Facebook Comments HS