ققنس کے آنسو (ایک آٹو بائیو بلیک کومیڈی )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب سے کوئی چار برس قبل وومن یونیورسٹی بہاول پور نے ایچ ای سی پنجاب کے اشتراک سے ایک سیمینار منعقد کروایا جس میں مجھے کی نوٹ سپیکر کے طور پر مدعو کیا گیا۔ کرنا کرانا کیا تھا۔ وہی دس پندرہ منٹ کا تھیٹر، کچھ اقوال زریں، ایک تاریخی واقعہ، ڈیڑھ درجن اصطلاحات۔ ٹھیک سے یاد نہیں کہ ٹاپک کیا تھا مگر ہال میں موجود ایک طرحدار خاتون کی مست نگاہی نے جناب ابھیجیت کا وہ شہرہ آفاق گیت یاد دلا دیا جس میں وہ ایک حسینہ دل نواز کے بے باک اشاروں اور گرمئی جذبات سے گبھرا کر توبہ میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ ایک بزدل خاوند اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا تھا؟

پاولوف نام کا ایک روسی ماہر نفسیات گزرا ہے جسے کتوں کی تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس نے گھنٹی اور گوشت کو کچھ یوں مشروط کر دیا کہ جب کبھی اس کے پاس گوشت ختم ہو جاتا، محض گھنٹی بجا کر اپنے پالتو کتوں کو رال ٹپکانے پر مجبور کر دیتا۔ میرے ساتھ بھی کچھ یہی معاملہ رہا۔ وومن یونیورسٹی بہاول پور کا نام سنتے ہی اس بے باک حسینہ کا شاداب حسن نگاہوں کے سامنے ٹھاٹھیں مارنے لگتا، پھر اگلے ہی لمحے اپنا خاوند ہونا یاد آتا تو انسانی تہذیب و تمدن پر سے اعتبار اٹھ جاتا۔

چند مہینوں پہلے مذکورہ یونی ورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ میں ایک اجلاس وقوع پذیر ہوا جس کے دوران متعدد ریسرچ پروپوزلز کا جائزہ لیا گیا۔ بد قسمتی سے ایک طالبہ میرے ناولٹ ”ڈھشما“ پر تحقیق کرنا چاہتی تھی۔ ملتان کی ایک پروفیسر، کتاب کا نام سنتے ہی طیش میں آ گئیں۔ انہوں نے ایک سنجیدہ علمی و ادبی کام کے لیے ایسی عامیانہ اور بازاری نام کی حامل کتاب کے انتخاب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ ادبی انحطاط اور علمی گراوٹ کا سب سے بڑا سبب ہندی اور تامل فلمیں ہیں، جن میں گھونسوں، لاتوں اور بوسوں کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ ناولٹ بھی ایسے ہی کسی سلسلے کی کڑی ہے۔

ان کا خیال تھا کہ مذکورہ نام جان ابراہام کی فلم ”ڈھشوم“ کا سستا چربہ ہے اور جب ”ڈھشوم“ ہی باکس آفس پر لیٹ گئی تو ”ڈھشما“ کس کھیت کی مولی ہے۔ انہوں نے مولیوں کی طبی افادیت پر ایک پرمغز تقریر کرنے کے بعد ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کو اپنا پسندیدہ نثر نگار قرار دیا اور مذکورہ طالبہ کو تجویز دی کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ”مراة العروس“ کا کرداری مطالعہ کرے کہ اسی میں معاصر اردو ادب اور تانیثیت کی فلاح ہے۔

مذکورہ یونیورسٹی کی ایک لیکچرر میری پرانی دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اس سارے واقعے کی چشم دید گواہ بھی تھیں۔ چشم دید گواہوں سے اللہ بچائے۔ انہوں نے خوب مرچ مسالہ لگا کر کہانی سنائی۔ ایک بار تو اتنا غصہ آیا کہ کنپٹیاں سلگ اٹھیں، پانی کا پورا جگ خالی ہو گیا اور ہزار سے ایک تک الٹی گنتی کے علاوہ کوئی راہ سجھائی نہ دی۔ تاہم جوں ہی پارہ نیچے آیا اور ٹھنڈے دماغ سے پروفیسر صاحبہ کے فرمودات پر غور کیا تو ان کے موقف کو درست پایا۔

آنکھوں پر چڑھی پٹی اتر گئی اور کچرا نکل گیا تو سب صاف دکھائی دینے لگا۔ میں نے بہ قائمی ہوش و حواس کم از کم عنوان کی حد تک ”ڈھشما“ کو ترک کر دیا اور نئے عنوانات سوچے، لیکن ذہنی افلاس کا یہ عالم تھا کہ جو بھی عنوان سوجھا، وہ ”ڈھشما“ سے زیادہ گیا گزرا اور سوقیانہ نکلا۔ ذیل میں ان تمام عنوانات کی مرحلہ وار فہرست مرتب کی جاتی ہے :

1۔ ہوا ہوائی
2۔ بوم
3۔ کھودا پہاڑ، نکلا گدھا
4۔ احوال فلاسفہ ( فکاہیہ و نیم فکاہیہ)
5۔ مودی کا کھڑاک
6۔ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی
7۔ جنون کا ابلاغ
9۔ ابلاغ کا جنون
10۔ ابلاغ کی موت
11۔ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
12۔ جمان جی کی پراسرار دنیا
13۔ آنسو گیس کے سائے تلے
14۔ وائرس کی محبت
15۔ محبت کا وائرس
16۔ وائرس کے آنسو

بالآخر کئی مہینوں کی ریاضت کے بعد مجھے میرا مطلوبہ عنوان مل گیا ہے جس میں ندرت خیال اور روایت فہمی، ہر دو پہلو بہ درجہ اتم موجود ہیں۔ ”ققنس کے آنسو“ بلاشبہ ایک سنجیدہ اور ٹھکا ہوا عنوان ہے۔ احباب سے درخواست ہے کہ آئندہ جہاں کہیں ”ڈھشما“ لکھا نظر آئے، اسے ”ققنس کے آنسو“ پڑھا اور سمجھا جائے۔ اغلب امکان ہے کہ اگلی بار جب میں وومن یونیورسٹی بہاولپور کا نام سنوں گا تو مجھے ایک انجان حسینہ کی مستی بھری انکھوں کی جگہ پاولوف کے کتے دکھائی دیں گے، جس سے نہ صرف سفلی جذبات کا خاتمہ اور روحانی بالیدگی کا حصول ممکن ہو پائے گا بلکہ ازدواجی زندگی کو لاحق خطرات بھی معدوم ہو جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *