6 جون کا بحریہ ٹاؤن دھرنا: انتشار اور آتشزدگی کا آنکھوں دیکھا حال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب نے بحریہ ٹاؤن کا نام تو سنا ہی ہوگا، جسے کچھ دل جلے بھیڑیا ٹاؤن بھی کہتے ہیں۔ اگر بحریہ ٹاؤن کا نام نہیں سنا تو ملک ریاض کا نام تو ضرور سنا ہوگا۔ جن کا نام لینے سے ہماری میڈیا پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے۔ مذہب، سیاست، ریاست سب پر روانی سے تنقید کرنے والے اینکرز کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔ صحافت کے میر کارواں، ہر آمر کو للکارنے والے، جرنیلوں کے گھروں کی خبریں لیک کرنے والے حامد میر کا بھی ملک ریاض کا نام لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ باقی صحافیوں کی بات کیا کریں جن کے قلم اور ضمیر کی قیمت ایک پلاٹ ہے۔

ملک ریاض نامی اس عفریت نے پی پی پی پی کے 2008 والے دور حکومت میں سپر ہائی وے پر پنجے گاڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے سندھ کی زمینوں کو نگلنے لگا۔

ہم مانتے ہیں کہ سپر ہائی وے کے کنارے واقع ان پہاڑوں کی کوئی وقعت نا تھی اگر ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کا منصوبہ شروع نا کرتے۔ ملک ریاض کا یہ ایک اچھا کام تھا کہ اس نے دھنویں اور بے ہنگم ٹریفک کے شہر کراچی کے عوام کو دوبئی طرز کا ایک رہائشی علاقہ فراہم کیا۔ لیکن اس کو دوبئی جیسا حسین بنانے میں چاچا فیضو گبول جیسے کئی سو، صدیوں سے آباد سندھیوں کے گھر اجاڑے گئے۔ سندھ حکومت ملک ریاض کی کنیز نظر آتی ہے، جو آقا کا اشارہ پاتے ہی محو رقص ہوجاتی ہے۔ اس خونی رقص میں گھنگھرو کی کھنک اور پازیب کی چھنک کی جگہ کرینوں اور بلڈوزر کی گڑگڑاہٹ سنائی دیتی تھی اور داد کی جگہ کئی سو سندھی بلوچوں کی آہیں سسکیاں اور بد دعائیں سنائی دیتی ہیں۔

پاکستان کا یہ واحد فرد ہے جس سے نا تو میڈیا سوال کر سکتا ہے نا ہی ججز اور جرنیل سوال کی جسارت کر سکتے ہیں۔

(ملک ریاض کتنا طاقتور ہے اس کی تفصیل کے لیے آپا Ayesha Siddiqa کا یہ کالم پڑھیں
https://www.facebook.com/616995232/posts/10157933348120233/

سپریم کورٹ میں ثاقب نثار کے چہیتے ججز نے کچھ پینلٹی لگا کر ملک کے ریاض کے کالے دھن کو سفید کیا اور سندھ کی زمینوں پر قبضے کو جائز قرار دے دیا۔ سندھ کی سرکاری زمینوں کو ملک ریاض کے سامنے پلیٹ میں پیش کرنے میں جتنا زرداری ٹولہ ملوث ہے اتنا ہی عدلیہ بھی۔

پچھلے ماہ جب اسرائیل فلسطینیوں پر گولیاں برسا رہا تھا تو ملک ریاض بھی کراچی کی قدیم بستیوں پر قبضہ کر رہا تھا۔ قومی میڈیا کی خاموشی پر وہاں کے مکینوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ملک ریاض کی کارستانیوں سے سندھ کے عوام کو آگاہ کیا۔ ہر شہر قریہ بستی میں ملک ریاض کے خلاف مظاہرے ہونے لگے لیکن آزادی صحافت کا مطالبہ کرنے والی میڈیا پر مکمل بلیک آؤٹ تھا۔ ایک ٹکر بھی نہیں چلا تھا۔

سندھ کی قدیم بستیوں کو مسمار کرنے کے خلاف سندھ کی قومپرست جماعتوں نے ایکشن کمیٹی کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا۔ جس نے 6 جون کو بحریہ ٹاؤن کے مین گیٹ پر پر امن احتجاج کی کال دی تھی۔

6 جون کی صبح کو ہم بھی دھرنے کی رپورٹنگ کے لیے عازم سفر ہوئے۔ حیدرآباد کراچی ہائی پر سفر کے دوراں یہ محسوس ہوا کہ آج 18 اکتوبر ہے اور سندھ کارساز کی طرف اپنی قائد محترمہ کو ویلکم کرنے نکلا ہے۔ بالکل وہی سماں تھا وہی جوش و خروش تھا۔ ہائی وے پر دو تہائی گاڑیاں احتجاجی میں شریک ہونے والی تھیں۔ کاٹھوڑ پل سے دنبہ گوٹھ پل تک احتجاج کے شرکا کی ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں تھیں۔

ہم چائے پینے نکلے تو بحریہ ٹاؤن سے لے کر دنبہ گوٹھ پل تک، دونوں شاہراہوں پر عوام ہی عوام نظر آیا۔ میں نے اس سے پہلے سندھ میں اس سے بڑا احتجاجی ریلا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ محتاط اندازے کے مطابق اسی ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان شرکا تھے۔

بحریہ ٹاؤن کے گیٹ کے سامنے ایک 22 ویلر ٹریلر اسٹیج کے لیے کھڑا تھا۔ اگرچہ سمندری ہوائیں بھی تھیں لیکن پسینہ خشک نہیں ہو رہا تھا۔ پانی کے چند اسٹال بھی تھے لیکن وہ اتنے ہجوم کے لیے بالکل ناکافی تھے۔ شاید منتظمین کو اتنے لوگ جمع ہونے کی توقع نہیں تھی۔

جلال محمود شاہ کی پارٹی SUP، ڈاکٹر قادر مگسی کی جماعت STP، پلیجو کی جماعت عوامی تحریک، قومی عوامی تحریک، ورکر پارٹی اور جسقم سمیت ایک درجن پارٹیوں کے لال جھنڈے لہرا رہے تھے۔ سندھ کی حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ سندھ کی تمام قوم پرست جماعتوں کے کارکنان سول سوسائٹی اور بحریہ ٹاؤن کی نواحی بستیوں کے مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شریک تھے۔

بحریہ ٹاؤن کے گیٹ کے سامنے ان کی پرائیویٹ سیکیورٹی اور پولیس اہلکار کھڑے تھے، اس کے بعد کنٹینر لگا کر آنے جانے کے راستے مکمل سیل کیے گئے تھے۔ کنٹینرز کے سامنے بھی سندھ پولیس کھڑی تھی جس کے بعد خاردار تاریں تھیں۔ دس فٹ کے فاصلے پر ایک اور خار دار تاروں کی فصیل تھی جس کے برابر میں جلسہ ہو رہا تھا۔

اسٹیج سے بار بار سختی سے اعلانات ہو رہے تھے کہ کوئی بھی باڑ کراس کر کے بحریہ ٹاؤن کی جانب نا جائے ہم پرامن احتجاج کرنے آئے ہیں۔

تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا تو مجھے لگا کہ اس معاملے میں زرداری کا کردار ہرگز صاف نہیں۔ عوام میں ملک ریاض کے خلاف نفرت سے زیادہ زرداری اور مراد شاہ کے خلاف نفرت تھی جو پولیس پروٹوکول میں ملک ریاض کو قبضے کروا رہے تھے۔

اس دوران ایک قوم پرست جماعت کے جوان کلہاڑی کے نشان والے جھنڈے لے کر نایاب سرکش سندھی (خاتون) کی قیادت میں بحریہ ٹاؤن میں داخل ہو گئے۔ کوئی تیس کے لگ بھگ لڑکے تھے جو اندر گھس کر توڑ پھوڑ کر رہے تھے۔ ٹائر جلا رہے تھے دوسری جانب ایک لاکھ کا مجموعہ ملک ریاض اور سندھ حکومت کے خلاف قرارداد منظور کر رہا تھا۔

اس دوران ہم نے بحریہ ٹاؤن سے دھواں اٹھتے دیکھا شاید ٹائر جلائے گئے تھے۔ جس پر تمام پارٹیوں کے کارکنان غصے کا اظہار کر رہے تھے کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔ حتی کہ ایک مقرر نے ان سے لا تعلقی کا اعلان کیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھواں بڑھنے لگا تین سو پولیس اہلکار، تین ایس ایس پیز اور بحریہ کی پرائیویٹ سیکیورٹی مکمل خاموش تھی اور ایسے لگ رہا تھا کہ انہوں نے مشتعل افراد کو جیسے چھوٹ دے رکھی ہے۔

جلال محمود شاہ اور ڈاکٹر قادر مگسی کی تقریریں ابھی ہونی تھیں۔ ہم سڑک کی دوسری جانب کھڑی کار میں بیٹھ کر پانی پینے ہی لگے تھے کہ بحریہ کے گیٹ سے شعلے نظر آنے لگے۔ ہم نے حالات کی سنگینی بھانپتے ہوئے ڈرائیور کو گاڑی موڑنے کا کہا۔ گاڑی ابھی ریورس ہو ہی رہی تھی کہ آنسو گیس کے شیل ہمارے سامنے گرے۔ اور پھر ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ گاڑی میں دھواں بھرنے سے باہر نکلا تو ایک والد تین سالہ بچے کی آنکھوں پر پانی کے چھینٹے مار رہا تھا خواتین دوپٹوں سے آنکھیں صاف کر رہی تھیں۔ پولیس کی جانب سے فائرنگ شروع ہو گئی، کارکنان نے اپنے قائدین کو حصار میں لے لیا اور آنکھوں کے سامنے فیض آباد دھرنے کے مناظر گھومنے لگے۔

آتشزدگی اور انتشار پر اٹھنے والے سوالات۔

بحریہ ٹاؤن میں توڑ پھوڑ کی حد تک ایک Banned جماعت کے کارکنان کو ضرور دیکھا گیا لیکن اس زلزلہ پروف کنکریٹ گیٹ کو جلانا ان ٹین ایجر لڑکوں کے بس کی بات نہیں تھی۔

یہ ٹائروں کی آگ نہیں ہے۔ اس کے لیے اسپیشل کیمیکل استعمال کیا گیا ہے۔

سندھ پولیس کے تین سو سپاہی، بحریہ کے کمانڈوز اس وقت کیوں خاموش تھے جب چند نوجوان قانون کو ہاتھ میں لے رہے تھے۔

ریاض ملک اگر مجرم بھی ہے تو اسے ریاست سزا دے سکتی ہے۔ کسی شہری کو اختیار نہیں کہ وہ ان کا نقصان کرے۔

بحریہ ٹاؤن کے پاس جدید سیکیورٹی سسٹم ہے، کنٹرول روم میں بیٹھی انتظامیہ دو گھنٹے کی لوٹ مار پر خاموش کیوں رہی۔

ایسے HD کیمرے نصب ہیں کہ ہر فسادی کا چہرہ فوراً نادرا سے شناخت کروایا جا سکتا تھا۔ تو پھر ہر ایرے غیرے کو کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔

شیشے توڑنے کی تمام کلپ موجود ہیں لیکن اس مین گیٹ کو آگ لگانے کی ایک بھی وڈیو کیوں نہیں؟

گیٹ کے سامنے کنٹینر آفسز کے شیشے پولیس اہلکار کیوں توڑ رہے تھے؟

اس دو گھنٹے کی کارروائی کے بعد ظالم مظلوم بن گیا، احتجاجی مفرور ہونے لگے تو اس کا بینیفشری کون ہوا؟

اس جیسے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

جو جو مظاہرین توڑ پھوڑ میں ملوث تھے ان کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہیے اور قومپرست جماعتوں کو ایسے خودکش بمباروں کو DISOWN کرنا چاہیے۔

آتشزدگی کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے جس کے لیے تفتیشی ٹیم کو بحریہ کے سی سی ٹی وی کیمرہ کے ریکارڈ تک دسترس دی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *