EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

گھوٹکی ٹرین تصادم: ٹرین حادثے کے بعد تحقیقات کن معلومات کی مدد سے کی جا سکتی ہے؟

شہزاد ملک - بی بی سی اردو اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


تصویر

Getty Images

ریلوے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے میں ریکارڈنگ کا ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے جس کی مدد سے کسی ٹرین کو پیش آنے والے حادثے کی مکمل وجوہات معلوم ہوسکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوائی جہازوں میں تو بلیک باکس کی سہولت موجود ہوتی ہے جس کو ڈی کوڈ کر کے حادثے کی وجوہات معلوم ہوسکتی ہیں لیکن ریلوے میں بلیک باکس کا کوئی وجود نہیں ہوتا ہے۔

پاکستان ریلوے میں جنرل مینجر کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے محمد اشفاق خٹک کا کہنا ہے کہ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں امریکہ سے جو ریلوے کے انجن منگوائے گئے تھے ان میں یہ سہولت موجود ہے کہ ڈرائیور کی جو گفتگو کنٹرول ٹاور کے ذریعے کنٹرول روم سے ہوتی ہے اس کو کسی حد تک ریکارڈ کیا جا سکتا ہے لیکن حادثے کی وجہ نہیں معلوم کی جا سکتی۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیر کے روز گھوٹکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم میں 55 سے زیادہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے بدھ کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’سیکنڈ ٹو سیکنڈ ہمارے پاس بلیک باکس ہے۔ لیکن فی الحال ابتدائی تحقیقات کے دوران اس پر کام شروع نہیں ہو سکا لیکن اس میں کوئی رد و بدل نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘دونوں ٹرینوں کا بلیک باکس مل چکا ہے اور ہم ایف ٹی آئی آر کے افسر کے ذریعے اس کی تحقیقات کروا رہے ہیں اور اس میں ہمیں تین سے چار ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ ‘

کیا پاکستان ریلوے کی ٹرینوں میں بلیک باکس ہوتا ہے؟

پاکستان ریلوے کے ڈائریکٹر آپریشن محمد امتیاز کا کہنا ہے کہ ریلوے کے پاس اس وقت جو انجن موجود ہیں ان میں بلیک باکس نام کی تو کوئی چیز نہیں ہوتی البتہ ایک ڈیوائس موجود ہوتی ہے جس کو ’ایونٹ ریکارڈر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس ڈیوائس کے ذریعے ٹرین کی سپیڈ، کس مقام پر انجن سٹارٹ ہوا اور کہاں پر رکا اور ڈرائیور نے کب بریک لگائی، اس بارے میں تو معلومات مل سکتی ہیں لیکن یہ ڈیوائس حادثے کی اصل وجوہات کے بارے میں نہیں بتا سکتی۔

یہ بھی پڑھیے

حادثے کے بعد طیارے کے پرزے کیسے باتیں کرتے ہیں؟

’چھ سالہ زخمی بچی آنکھیں کھولتی ہے تو ماں کا پوچھتی ہے کہ وہ کب آئیں گی‘

’ماں نے کہا تھا میرا دل نہیں چاہتا کہ تم اس ٹرین پر جاؤ‘

گھوٹکی ٹرین حادثہ: ’مسافر بوگیوں میں پھنسے تھے اور زخمی درد سے کراہ رہے تھے‘

انھوں نے کہا کہ ٹرین کے حادثے میں ملت ایکسپریس کو امریکہ سے درآمد کیا ہوا انجن لگا ہوا تھا جبکہ سرسید ایکسپریس کو یورپ سے درآمد کیا ہوا انجن لگا ہوا تھا جو کہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس انجن کو ایچ جی ایم یو کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

محمد امتیاز کا کہنا تھا کہ ٹیکنیکل شعبہ اس ڈیوائس کا جائزہ لے کر حادثے کے وقت ٹرین کی سپیڈ کتنی تھی اور ڈرائیور نے کتنے فاصلے پر بریک لگائی، اس کا ریکارڈ اس ڈیوائس سے نکال کر تفتیشی اداروں کے حوالے کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ ڈیوائس ریل کا پہیہ پٹڑی سے اترنے اور دوسرے ٹریک پر چڑھنے کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرسکتی۔

محمد امتیاز کا کہنا تھا کہ اس ڈیوائس کو بیرون ملک بھجوانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کو ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریلوے کا ٹیکینکل شعبہ اس سے حادثے کی معلومات جب چاہے حاصل کرسکتا ہے۔

پاکستان ریلوے میں جنرل مینجر کے عہدے سے ریٹائرڈ اشفاق خٹک کا کہنا ہے کہ اگر کسی ٹرین کو کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو تحقیقات کے لیے سب سے پہلے اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ ریلوے کا پہیہ پٹڑی سے کیسے اترا یا دوسری پٹڑی پر کیسے آیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر ریلوے کا نظام مینویل سسٹم کے تحت ہی چلتا آیا ہے۔

ریلوے کے سابق جنرل مینجر کا کہنا تھا کہ ان کی سروس کے دوران ٹرین کے جتنے بھی حادثے ہوئے اس میں کسی میں بھی بلیک باکس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔

ریلوے کے ٹیکنیکل شعبے سے ریٹائر ہونے والے محمد امجد کا کہنا ہے کہ ماضی میں ریلوے کے حادثات ہوئے ہیں لیکن اس میں کبھی بھی بیلک باکس نامی چیز کا نام تک نہیں سنا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں ٹرین کے حادثوں کے بعد جب وہ تحقیقات کے لیے جائے حادثہ پر پہنچتے تھے تو سب سے پہلے جس وقت حادثہ ہوا اس وقت ٹرین کی سپیڈ اور بریک کی معلومات کو دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچا جاتا تھا کہ کس وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ریلوے کا پہیہ ٹریک سے اترنے کی معلومات بھی جائے حادثہ سے ملتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ریل کے ٹریک کو تبدیل کرنے کی معلومات کنٹرول روم سے ملتی ہیں۔

ریلوے کے سابق جی ایم محمد اشفاق خٹک کا کہنا تھا کہ امریکہ سے جو انجن منگوائے گئے ہیں ان میں انجن ڈرائیور کی کنٹرول روم کے ذریعے گفتگو کسی حد تک ریکارڈ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اس کے علاوہ اس میں اور کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں امریکہ سے جو 60 کے قریب ریلوے کے انجن منگوائے گئے تھے وہ سامان کی نقل و حمل کے مقصد کے لیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ریلوے ٹریک کی دیکھ بھال کے سلسلے میں عملی اقدامات نہیں کیے جارہے جس کی وجہ سے ریلوے کے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہوائی جہازوں کا بلیک باکس: کاک پٹ وائس ریکارڈ اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ جہازوں کا بلیک باکس کوئی ایک ڈبہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ کالے رنگ کا ہے۔

عام اصطلاح میں جس چیز کو بلیک باکس کہا جاتا ہے، یہ دو آلات پر مشتمل ہوتا ہے: فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈ۔

کمرشل پائلٹ اور ایوی ایشن سائیکالوجسٹ نوشاد انجم کے مطابق فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ ایک ایسا آلہ ہوتا ہے جس میں طیارے اور پرواز کے بارے میں مختلف معلومات محفوظ ہو رہی ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق ‘فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ میں موجود مواد جب آپ اس کو واپس چلاتے ہیں تو آپ کو پرواز کے حوالے سے تمام معلومات جیسے کہ پرواز کی اونچائی کیا تھی، طیارے کی رفتار کیا تھی، لینڈنگ گیئر کھلا تھا یا نہیں، فلیپ نیچے تھے یا نہیں۔ کاک پٹ کے اندر جو جو کام طیارے کا عملہ کر رہا ہوتا ہے، اس کی تمام تر تفصیلات وقت کے ساتھ اس میں آ رہی ہوتی ہیں۔ آپ یہ سمجھیں یہ ایک خاموش فلم ہوتی ہے جس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ہو رہا تھا۔’

‘ہوا بازی میں ہر عمل ریکارڈ ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز کے انجن سٹارٹ ہونے سے لے کر جہاز کے منزل پر پہنچ کر پارک ہونے تک تمام ڈیٹا نہ صرف محفوظ کیا جاتا ہے بلکہ بیشتر اوقات اس کو فضائی پرواز کے دوران براہ راست کسی موبائل سگنل کے ذریعے کنٹرول سینٹر تک بھیجا بھی جا رہا ہوتا ہے۔’

نوشاد انجم کے مطابق تفتیشکاروں کو فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ کیا ہوا اور کب ہوا۔

دوسری جانب ‘کاک پٹ وائس ریکارڈ آپ کو بتاتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ کیوں اور کیسے ہوا۔’

کاک پٹ وائس ریکارڈ میں وہ تمام باتیں ریکارڈ کی جا رہی ہوتیں ہیں جو کہ کاک پٹ میں کی جا رہی ہوتیں ہیں۔ ان میں پائلٹ کی زمینی عملے سے تمام تر گفتگو اور اپنے شریک پائلٹ یا عملے سے ساری بات چیت ریکارڈ ہوتی ہے۔ ‘جو بات پائلٹ نے کی ہے اور جو بات اس کے کانوں میں گئی ہے وہ سی وی آر میں ریکارڈ ہوگی۔’

نوشاد انجم مثال دیتے ہیں کہ اگر کوئی پائلٹ اپنے شریک پائلٹ سے کہے کہ ‘یار بہت وقت زیادہ ہوگیا ہے، مجھے آج جلدی گھر پہنچنا تھا، ذرا جلدی چلیں گے، اونچائی پر جائیں گے!’ تو اس سے آپ کو پائلٹ اور عملے کی اس وقت کی سوچ کا پتا چلتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20052 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp