جہاز، شکاگو اور زندگی
طیاروں کی مرمت سے وابستہ لوگ اے۔ او۔ جی کی ترکیب سے بخوبی واقف ہیں۔ اس سے مراد ہوائی جہاز کا تھکن سے چور ہو کر مزید پرواز سے انکار کر دینا ہے۔ اگر ایسا گھر میں ہو یعنی ائر لائن کے بیس اسٹیشن پر تو نسبتا اسے آسانی سے فوراً منا لیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ روٹھی ہوئی اہلیہ کا یہ سوچ کر لاڈ کیا جاتا ہے کہ نقصان کا اندیشہ شدید ہے۔ جہاز میں یہ گرچہ یہ نوبت شاذ و نادر ہی آتی ہے مگر جب آتی ہے تو ممکنہ زیاں کا تصور، کرتا دھرتاؤں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
پچھلے دنوں اسی سلسلے میں ہمیں امریکا کا سفر کرنا پڑا۔ مرزا کہہ گئے ہیں کہ ”پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پہ ناحق“ تو اس اے۔ او۔ جی کا سبب ہماری ایرلائن کی کوتاہی کے بجائے کسی اور ائر لائن کا لا پروائی برتنا تھا۔ اس سفر پر ہم پر کھلا کہ نادانستگی میں دیے جانے والے زخموں کا مندمل ہونا کس قدر دشوار ہوتا ہے۔
شکاگو ایک حسین شہر ہے۔ قدرت نے جہاں فطرت کے رنگوں کو چار سو بکھیرا ہے، وہاں انسان نے بھی تخلیق کے عمل میں موتی پروئے ہیں۔ شہر کے وسط میں جس کو عموماً ڈاؤن ٹاؤن کہا جاتا ہے، وہاں بوڑھے گھنے شجر کمر خم کیے بغیر چھاؤں برسا رہے ہوتے ہیں اور ”مشیگن“ نہر جس پر سمندر کا گمان ہوتا ہے، اس کی لہریں اپنی وسعت پر اترا رہی ہوتی ہیں۔ عین اسی جگہ انسان نے مٹی، گارے اور شیشوں کو کچھ یوں ملایا ہے کہ عمارتیں آسمان سے سر نیہورائے سرگوشیاں کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ فطرت کی انگشت بدنداں مصوری اور کمہار کی انگلیوں کی پوروں جیسے انسانی ذہنوں میں تخلیق کی ہمکتی خواہش کے پرتو، ان مجسم پیکروں کو ساتھ ساتھ دیکھ کر آنکھیں حیران ہو جاتی ہیں۔ کمال ہے صاحب۔ کمال ہے!
اجنبی شہر میں کسی ہم زباں کا ملنا غریب الوطنی کو دور تو نہیں کرتا، اس کا احساس ضرور کم کر دیتا ہے۔ اس تمام سفر میں ہمارا رابطہ دو افراد سے زیادہ رہا۔ ہمسایہ ملک سے تعلق رکھنے والے دکن کے معین نظامی جن کی موجودگی نے ہمیں ذبیحہ حلال کھانا ڈھونڈنے کی فکر سے بے نیاز کر دیا اور دوسرے شدھ سبزی خور گجراتی پریانک جن کا کنبہ اٹھارہ افراد پر مشتمل ہے اور جو سب امریکہ میں رہتے ہوئے بھی ایک گھر کے مکین ہیں۔ کہتے ہیں کہ وقت قیمتی ہوتا ہے۔ قیمتی چیزوں کے سلسلے میں تو ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ بخل سے کام لیتے ہیں۔ عجب سر پھرے تھے کہ دام، درمے، قدمے سخنے ہماری خدمت کے لئے ہمہ دم سربستہ۔ ان کی مہمان نوازی نے تو زیر بار کر دیا۔
انتیس سالہ دھیمے مزاج والے کولمبیا نژاد کارلوس سے بھی خوب رابطہ رہا۔ مسلسل تین دن لگا تار ساڑھے تیرہ گھنٹے کی شفٹ کرنے کے بعد ، باضابطہ چار چھٹیوں لینے کے بجائے تین دن اوور ٹائم کرنے والا انتھک کارلوس۔ اکیس برس میں شوخ و چنچل ایک میکسیکن لڑکی کو دل بیٹھا۔ امریکن روایت کے بر خلاف شادی کا جھنجھٹ بھی پال لیا۔ ایک بیٹی ہے جس کی اگلے دو ہفتوں میں چھٹی سالگرہ ہونے والی ہے۔ ہمارے ساتھ تیرہ گھنٹے گزار کر ایک گھنٹہ روز گھر کی مسافت طے کرتے رہا کہ اوور ٹائم کے پیسوں سے بچی کو اس کی پسند کا تحفہ دینا ہے۔
حال یہ ہے کہ بیگم اور خود متضاد شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ اس طرح بچی ماں اور باپ دونوں سے مل پاتی ہے۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ تم تو مسلسل ہمارے ساتھ ہو، بچی کی نگہداشت کون کرتا ہے۔ بتانے لگا کہ ہم دونوں کی مائیں۔ اللہ جانے یہ مائیں آخر تھکتی کیوں نہیں ہیں۔ کہنے لگا کہ البتہ پچھلے تین دنوں سے یہ ذمہ داری بیگم کا پندرہ سالہ بھائی ادا کر رہا ہے۔ سو ڈالر دے دوں گا اسے تا کہ آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر کام آ سکے۔ امریکا کا یہ رخ ہمیں بہت نرالا لگا۔
بوئنگ کمپنی کے کام کرنے کا حیران کن طریقہ کار دیکھنے کا بھی تجربہ رہا۔ دنیا میں ہر جگہ آپ کو اپنے شعبے میں ماہر لوگ ملیں گے لہذا پچیس ہزار لوگوں میں سے چنیدہ یہ بائیس افراد بھی کام میں یکتا تھے۔ لیکن اصل بات تو اس تیاری کی ہے جو ہمارے لئے انتہائی متاثر کن تھی۔ دو بڑے ٹرالر میں ضرورت اور ہر ممکنہ ضرورت پڑ جانے والی چیز موجود تھی۔ ہینگر میں دو دفاتر بنائے گئے۔ کرسیاں، میز، لیپ ٹاپ، پرنٹرز وغیرہ وغیرہ۔ کچن کے لئے بڑے فریج، تین مائکرو ویو اور کافی مشین لائی گئی تھیں۔ شکم پر ہو اور روح بے سیر، یہ کہاں ممکن تھا، لہذا موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا کہ اعتدال برقرار رہے۔
شکاگو میں ہمارے ایک عزیز بھی رہتے ہیں۔ ہمارے وہاں قیام کے دوران اچانک ان کی طبیعت بگڑی۔ دل میں گزرتی واردات کو جب پیشانی پر در آتی پسینے کی بوندوں نے آشکار کرنا شروع کیا تو ایمبولینس بلوائی گئی۔ ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ خیر ہوئی کہ آپ وقت پر پہنچ گئے ورنہ موجود سے معدوم تک کا سفر چند گھڑیوں سے زیادہ کا کہاں ہوتا ہے۔ سانس کی کچی ڈوری سے بندھی حیات کی لو کس قدر غیر مستحکم ہے، اس بات کا احساس اس واقعے کے بعد اور زیادہ قوی ہوا۔
شکاگو کا سفر اس حوالے سے بھی یادگار رہا کہ ہماری ملاقات وہاں کے ادبی حلقوں میں ایک معتبر نام مرثیہ گو شاعر حسن مہدی عابدی سے بھی ہوئی۔ ان کے دھیمے لہجے میں اوس پڑی پنکھڑی جیسی شگفتگی کا احساس ہوتا ہے۔ برف رنگت بال، طبیعت کی شوخی پر نکیل نہ ڈال پائے ہیں۔ ان کی اجلی یادداشت انگلی تھام کر ہمیں ساٹھ کی دہائی کے اوائل کے ریڈیو پاکستان کے اندر لے گئی جہاں آواز سامعین کو محض ڈرامہ سناتی نہیں تھی بلکہ دکھاتی بھی تھی۔ ہمیں افسوس ہی رہا کہ ملاقات رسما اور مختصر رہی اور بہتے جھرنے کی محض چند چھینٹیں ہی ہمارے دامن پر پڑ پائیں۔ ہم زیادہ بھیگ نہ پائے۔
جہاز کے رو بصحت ہوتے ہی ہم نے اس کو فضا کے سپرد کیا، اپنا سامان سمیٹا اور دل ہی دل میں یہ سوچتے ہوئے واپسی کی راہ لی کہ گزرے ہوئے ان چند دنوں میں ہماری ملاقات مختلف مزاج کے نئے لوگوں سے ہوئی۔ کسی کا تعلق ہم سے زیادہ رہا، کسی کا کچھ کم۔ کچھ لوگوں کے ساتھ ہم نے شکاگو کی سڑکیں بھی ناپیں، بازار کی رنگینیاں بھی دیکھیں۔ دیوان اسٹریٹ پر جہاں گاندھی ایونیو اور محمد علی جناح ایونیو ساتھ ساتھ ہیں وہاں ان کے ساتھ حیدرآباد فوڈ ہاؤس کی بریانی بھی کھائی، کنگ بیکری سے حلوہ پوری کا ناشتہ بھی کیا اور
صابر کی نہاری کھانے کے بعد اپنے سنگاپورین ساتھی کو کراچی کا پان بھی زبردستی کھلوایا اور اب جب کہ سب کو وداع کر کے لوٹنے کی تیاری ہے، تو سوچتے ہیں کہ کیا ہماری زندگی کے یہ تئیس دن اس بے ثبات زندگی کی تمثیل تو نہیں ہیں۔ دیکھا جائے تو زندگی بھی بس یہی کچھ تو ہے۔ پیدا ہو، کھیلو، کودو، معاش کو شب و روز کا خراج دو اور جب شعور نصیب ہو تو عمر کی ریت گھڑی دیکھ کر دل ہولاو کہ یہ متاع کہاں لٹا بیٹھے۔ تو صاحب دعا کیجئے کہ باقی ماندہ سفر اب رائگاں نہ جائے۔


