EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

تاریخ کا ایک سفاک حکمران: جب روم جل رہا تھا تو کیا نیرو واقعی بانسری بجا رہا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’جب روم جل رہا تھا تو نیرو سُکھ اور چین کی بانسری بجا رہا تھا‘۔

روم کے شہنشاہ نیرو کے بارے میں یہ ضرب المثل مشہور ہے۔ روم کو آگ لگانے کا الزام بھی نیرو کو ہی دیا جاتا ہے اور یہ کہ اس نے ایسا جان بوجھ کر کیا تھا۔

نیرو کو تاریخ کے ایک ایسے سفاک حکمران کے طور پر جانا جاتا ہے جس نے اپنی ماں، سوتیلے بھائی اور بیویوں کو قتل کرایا اور اپنے دربار میں موجود خواجہ سراؤں سے شادیاں کیں۔

نیرو سنہ 54 عیسوی میں صرف سولہ برس کی عمر میں اپنی ماں کی کاوشوں کی وجہ سے ایک ایسی سلطنت کا سربراہ بنا جس کی سرحدیں ہسپانیہ سے لے کر شمال میں برطانیہ اور مشرق میں شام تک پھیلی ہوئی تھیں۔

نیرو کو اقتدار اس کی ماں نے دلوایا

نیرو کو تخت کی بھوکی اس کی ماں اگرپینا نے محلاتی سازشیں اور جوڑ توڑ کر کے اقتدار دلاویا۔ اگرپینا نے اپنے ‘انکل’ شہنشاہ کلاڈیئس سے شادی کی اور پھر نیرو کی شادی بادشاہ کی بیٹی سے کراوئی جس سے وہ شاہی خاندان کا ایک رکن بننے کے علاوہ بادشاہ کا وارث بھی بن گیا باوجود اس کے کہ بادشاہ کا اپنا ایک بیٹا تھا۔

یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگرپینا نے بادشاہ کلاڈیئس کو زہر آلود ‘مشروم’ یا کھمبیاں کھلا کر قتل کیا لیکن یہ روایت کس حد تک درست اور سچ ہے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

نیرو نے اپنی ماں کو قتل کروایا

نیرو نے جب اقتدار سنبھالا تھا تو اس کی ماں اگرپینا اس کی سب سے قریبی مشیر تھیں یہاں تک کے روم کے سکوں پر نیرو کی تصویر کے ساتھ ان کی تصویر بھی ہوتی تھی۔ لیکن نیرو نے اقتدار سنبھالنے کے تقریباً پانچ برس بعد اپنی ماں کو قتل کروا دیا غالباً اس لیے کہ وہ زیادہ اختیار اور آزادی کی ہوس میں مبتلا تھا۔

نیرو کی جانب سے اپنی ماں پر کروایا جانے والا پہلا قاتلانہ حملہ ناکام رہا تھا۔ نیرو نے ساحل سمندر پر ایک تقریب میں اپنی ماں کو مدعو کیا اور اس کے بعد انھیں ایک ایسے بحری جہاز میں واپس بھیجنے کا منصوبہ بنایا جس کے راستے ہی میں ڈوب جانے کی سازش کی گئی تھی لیکن اس قاتلانہ حملے میں وہ بچ گئیں۔ اس کے بعد نیرو نے اپنی ماں پر بغاوت کا الزام لگایا اور لوگوں کو بھیج کر ان کو مروا دیا۔

نیرو نے اپنی ماں کو کیوں قتل کروایا

بی بی سی ریڈیو کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے قدیم روم کی ماہر پروفیسر ماریا وائیک نے بتایا کہ ’نیرو کی ماں کا رویہ بہت حاکمانہ تھا اور ایک روایت کے مطابق وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش میں اس حد تک آگے بڑھ گئیں کہ بیٹے کے ساتھ جنسی فعل سے بھی گریز نہیں کیا۔‘

ان کے مطابق نیرو اور اس کی ماں کے جنسی تعلقات کے بارے میں کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے لیکن روایات کے مطابق نیرو کی طرف سے بھیجے گئے جلاد جب اگرپینا کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں وہاں چاقو مارا جائے ’جہاں نیرو کا گناہ پل رہا ہے‘۔

ماریا کے مطابق نیرو نے اپنے بچپن میں اقتدار کی رسہ کشی کا ماحول دیکھا جس سے اس کی شخصیت اور سوچ پر گہرا اثر پڑا۔

رومن سلطنت میں اقتدار کے لیے شادیاں اور قتل

ماریا وائیک نے اس دور پر جس میں نیرو نے ہوش سنبھالہ، روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’ہم پہلی صدی کی بات کر رہے ہیں جب روم کی سلطنت یورپ میں برطانیہ سے لے کر ایشیا میں شام تک پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن یہ وسیع و عریض سلطنت عدم استحکام کا شکار تھی اور ایک خود مختار سربراہ سینیٹ کی معاونت سے اس کو چلاتا تھا۔ سلطنت روم کے پہلے شہنشاہ اگسٹس نے اس سطلنت میں اقتدار میں شامل افراد میں برابری کا ایک تصور پیش کیا تھا۔

روم کے پہلے شہنشاہ اگسٹس سیزر نے جو نظام متعارف کروایا تھا اس میں وہ پشت در پشت اقتدار ایک ہی جولیس کلاڈیئس سیزر خاندان میں رکھنا چاہتے تھے۔ اس کے نیتجے میں خاندان کے اندر اقتدار کے حصول کے لیے کشمکش پیدا ہوگئی۔ اقتدار کے حصول کے لیے خاندان میں شادیاں، بچوں کو گود لینا، طلاقیں، ملک بدری، جلاوطنی کے علاوہ اپنے مدمقابل کو راستے سے ہٹانے کے لیے ہر قسم کے حربے استعمال کیے جاتے تھے۔

سلطنت روم کے دوسرے بادشاہ ٹائبیریس کے دور میں نیرو کی دادی کو زنداں میں ڈال دیا گیا۔ تیسرے بادشاہ کے دور میں نیرو کی ماں کو جلا وطن کر دیا گیا۔ کلاڈیس کے دور میں نیرو کی ماں کی واپسی ممکن ہوئی اور انہوں نے بادشاہ سے جو کہ ان کے ‘انکل’ بھی تھے، شادی کر کے شاہی خاندان میں اپنی جگہ بنائی۔

نیرو کی شخصیت اور کردار پر ہونے والے بی بی سی ریڈیو کے ایک پروگرام میں شامل برطانیہ کی ساوتھ ہیمپٹن یونیورسٹی کی پروفیسر شمشا ملک کے مطابق سلطنت روم کے چوتھے شہنشاہ کلاڈیئس سنہ 41 سے 54 عیسوی تک اقتدار میں رہے۔ کلاڈیس اپنے اقتدار کے آخری دور میں اپنی بیویوں پر بہت انحصار کرنے لگے تھے جن میں نیرو کی والدہ اگرپینا بھی شامل تھیں۔

ششما ملک کے مطابق ان بیویوں میں ’ایک نہایت ہی بدنام خاتون‘ مسلینا کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس نے کلاڈیس کے گرد اپنے حواریوں کا جال بچھایا ہوا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’سینیٹروں کے ساتھ جسمانی مراسم رکھتی تھیں اور اپنی ہوس کی تسکین کے لیے اپنے مرتبے کا خیال بھی نہیں رکھتی تھیں۔ تاریخ بتاتی ہی کہ کلاڈیس بڑی حد تک اس کے زیر اثر تھے۔‘

نیرو اور کلاڈیس کے ادوار کا موازنہ کرتے ہوئے ششما ملک کہتی ہیں کہ نیرو کے ابتدائی دنوں میں ان کے ارد گرد کچھ اچھے لوگ تھے جن میں سینیکا اور ایفریکس بروس نام کے ایک پریفیکٹ شامل تھے۔ سینیکا ایک فلسفی اور نیرو کی تقاریر لکھنے والے شخص تھے۔

نیرو نے اپنی بیویوں کو قتل کروایا

جب نیرو اپنی پہلی بیوی اوکٹیویا سے تنگ آگیا تو اس نے اسے جلا وطن کر دیا اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔

اس کے بعد نیرو کو پوپیا سے محبت ہوئی اور دونوں کی شادی ہوگئی۔ پوپیا جب حاملہ تھی تو نیرو نے ایک دن طیش میں اسے بھی قتل کر دیا۔

سنہری دور

نیرو کے اقتدار کے پہلے پانچ برسوں کو روم کے لوگوں کے لیے سنہری دور قرار دیا جاتا ہے۔

قدیم روم میں سینیٹ انتظامی اور مشاورتی ادارہ تھا۔ نیرو نے روم کی سینیٹ کو مزید اختیارات دیے، روم کی افواج کو اپنے ساتھ اور مطمئن رکھا اور کھیلوں کے مقابلے منعقد کروا کے عام عوام میں مقبولیت حاصل کی۔ لیکن یہ ابتدائی کامیابیاں نیرو کے اقتدار کے باقی دور میں ہولناک تشدد اور بربریت کی وجہ سے ماند پڑ گئیں۔

نیرو اپنے کردار کی وجہ سے تاریخ اور ادب میں برائی اور بدکرداری کی ایک علامت بن کر رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیے

قدیم روم کا ’عیاشی کا اڈہ‘ اب سمندر کی تہہ میں

قدیم مصریوں کی ختنے میں دلچسپی

ترکوں کی جنگی تاریخ کے عروج و زوال کی کہانی

پروفیسر ششما ملک کے مطابق نیرو نے اپنے ابتدائی دنوں میں سینیٹ کو یقین دلایا کہ کلاڈیس کے دور میں سینیٹ کو جس طرح نظر انداز کیا جاتا رہا ان کے دور میں ایسا نہیں ہوگا اور امور مملکت میں اس ادارے کی اہمیت بحال ہوگی۔

نیرو نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ روم کی فوج ‘پریٹورین گارڈ’ کو تنخواہوں کی ادائیگی وقت پر کی جائے گی۔

ان ابتدائی دنوں میں نیرو نے روم کے بہت سے معاملات سینیٹ پر چھوڑ دیے۔

نیرو نے یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی کہ وہ ’بغاوت کے مقدمات‘ نہیں کیے جائیں گے جن کے ذریعے سینیٹ کے ارکان ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ شمشا ملک کے مطابق نیرو نے اپنے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں سینیٹ کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی اور یہ یقین دلانا چاہا کہ وہ ان کے لیے اور روم کے لیے ایک بہتر حکمران ثابت ہوں گے۔

ششما ملک کے مطابق اس کے ساتھ ہی نیرو نے روم کے عوام کو خوش کرنے کے لیے سنہ 54 عیسوی میں یونان کی طرز پر بہت بڑے پیمانے پر کھیلوں کا انعقاد کروایا۔ ان کھیلوں میں عوام کی تفریح کے لیے بھی بہت سی چیزیں مثلاً سرکس وغیر خصوصی طور پر شامل کیے گئے تھے۔

برطانیہ کی سینٹ جونز کالج یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو نکلز تاریخی حوالوں سے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نیرو کے ابتدائی دنوں کو روم کا سنہری دور قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں بھی جیسے حکمران اپنے ابتدائی دنوں میں بہت سے ایسے اقدامات لیتے ہیں جو عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ اپنی طرز حکمرانی سے وہ زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

میتھیو کے بقول نیرو کی عوامی مقبولیت کافی حد تک ان کے آخری دنوں تک برقرار رہی تھی۔

نیرو کو اپنے دور اقتدار میں کن مسائل کا سامنا تھا اس پر روشنی ڈالتے ہوئے میتھیو کہتے ہیں کہ وہ جولیس کلاڈیئس خاندان کے پانچویں اور آخری بادشاہ تھے۔

میتھیو کے مطابق جب نیرو اقتدار میں آئے تو ان کے سامنے مسائل کا ایک انبار تھا۔ بظاہر انھوں نے انتقال اقتدار کے ایک مستحکم نظام کے تسلسل میں اقتدار سنبھالا تھا۔ لیکن اقتدار کے حصول کے لیے خاندان کے اندر شدید کشمکش پائی جاتی تھی، خاندانی سیاست اور سازشیں عروج پر تھیں۔ اس کے علاوہ سینیٹ کی اشرافیہ تھی جس کو مطمئن رکھنا ضروری تھا اس کے علاوہ صوبائی گورنر تھے جن کے پاس فوج بھی ہوا کرتی تھی۔ سب سے بڑھ کر روم کے عوام تھے اور ان کی کھیلیوں اور میلوں میں دلچسپی تھی۔

میتھیو کہتے ہیں کہ نیرو کو ان سب کے مفادات میں توازن اور ان کو مطمئن رکھنا تھا۔

اس سوال پر کہ نیرو کو جو سلطنت ملی تھی اور جو سلطنت انھوں نے چھوڑی، کیا اس میں زیادہ فرق نہیں تھا، میتھیو اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سلطنت سرحدوں کو مسلسل وسعت دینے پر قائم تھی، نیرو کے دور میں سلطنت وسیع تو نہیں ہوئی لیکن اس میں استحکام قائم رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔

ان کے مطابق مزید فتوحات نہ ہونے کی وجہ سے مال غنیمت آنا بھی بند ہو گیا تھا اور ایسی صورت حال میں استحکام برقرار رکھنا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔

جب روم جل رہا تھا تو کیا نیرو واقعی بانسری بجا رہا تھا

سنہ 64 عیسوی میں روم جل کر راکھ ہوگیا تھا۔ افواہیں یہ تھیں کہ سلطنت کے شہنشاہ نیرو نے خود یہ آگ لگوائی تھی اور بعد میں یہ کہا جانے لگا کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔

آگ کے واقعے کے بارے میں تاریح داں ششما ملک کا کہنا ہے کہ دوسری اور تیسری صدی میں کم از کم دو تاریخ داں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نیرو نے خود روم میں آگ لگوائی تھی تاکہ اس کی تعمیر نو کی جا سکے۔ نیرو اپنا مشہور گولڈن ہاؤس تعمیر کرنا چاہتا تھا۔

لیکن بعض تاریخ داں نیرو کے حق میں یہ دلیل استعمال کرتے ہیں کہ یہ آگ اس نے نہیں لگوائی تھی کیوں کہ اس کا اپنا محل اس آگ کی زد میں آگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

استنبول کی ’طوائف گلی‘ کی تھیوڈورا سلطنت روم کی ملکہ کیسے بنی؟

شجر الدر نے ایک صلیبی فوج کو مشکل میں ڈال دیا: ایک کنیز کی تخت نشینی اور قتل کی کہانی

صلاح الدین ایوبی نے یروشلم کیسے فتح کیا؟

ششما ملک کے مطابق اسی دور کے ایک اور تاریخ داں ٹیسیٹس کہتے ہیں کہ یہ محظ افواہ تھی کہ نیرو نے شہر میں یہ آگ خود لگوائی تھی۔ ’یہ بات مضحکہ خیز لگتی ہے کہ نیرو نے خود ایسا کیا ہوگا۔ نیرو نے بعد میں شہر کی تعمیر نو بہت بہتر انداز میں کی۔ کشادہ سڑکیں بنائی گئیں تاکہ دوبارہ آگ اتنی تیزی سے نہ پھیل سکے اور بہتر تعمیراتی سامان استعمال کیا گیا۔‘

میتھیو کے مطابق دو تاریخی ذرائع یہ کہتے ہیں کہ نیرو نے خود شہر میں آگ لگوائی، ان کی دلیل یہ ہے کہ جب شہر جل رہا تھا تو نیرو نے خصوصی لباس پہن کر گانا شروع کر دیا تھا۔

یہ بات کس حد تک درست ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، اس بارے میں میتھیو کا کہنا ہے کہ بانسری تو ساتویں صدی کی ایجاد ہے اور نیرو کے دور میں بانسری نہیں ہوتی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیرو ایک ساز بجاتا ضرور تھا جسے Lyre کہا جاتا ہے۔

نیرو نے مسیحی برادری پر روم کو آگ لگانے کا الزام لگا دیا

نیرو نے آگ لگانے کا الزام اقلیتی مسیحی برادری پر لگا دیا۔

ششما ملک کہتی ہیں کہ ٹیسیٹس لکھتے ہیں کہ اس دور میں روم میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد بہت کم تھی اور عام لوگوں کو مسیحیوں کے مذہبی عقائد کے بارے میں بہت کم علم تھا اور ان کے بارے میں نفرت انگیز جذبات پائے جاتے تھے۔

اسی وجہ سے مسیحیوں کو مورد الزام ٹھہرانا بہت آسان تھا جس پر عام عوام نے بڑی آسانی سے یقین کر لیا۔

نیرو نے اس کے بعد مسیحی برادری کے افراد کو آگ لگانے کی سزا کے طور پر ظلم کا نشانہ بنایا۔ ان کو سرے عام پھانسیاں دی گئیں، جنگلی بھیڑیوں کے آگے ڈالا گیا، رات کے وقت ان کو زندہ جلایا جاتا تھا اور عوام کو یہ نظارہ دیکھنے کے لیے جمع کیا جاتا تھا۔

نیرو کا ادھورا محل

آگ کے اس واقعے کے بعد نیرو نے ایک عالیشان محل تعمیر کروایا۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں ایک ’گولڈن روم‘ تھا جس میں پرتعیش فرنیچر اور اس کمرے میں خوشبو کے لیے دیواروں کے اندر پرفیوم کے پائپ نصب کیے گئے تھے۔

اس محل کی تعمیر پر وسیع ذخائر خرچ ہوئے لیکن یہ کبھی مکمل نہیں ہو سکا۔

ایک ایسا شہر جو راکھ کے ڈھیر سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا وہاں کے عوام اس محل کی تعمیر سے خوش نہیں تھے جن سے بظاہر یہ کہا گیا تھا کہ اسے ان کے لیے کھولا جائے گا اور وہاں کھیل اور تقریبات منعقد ہوں گی۔

نیرو نے اداکاری کے لیے یونان کا رخ کیا

نیرو کو آلہۃ موسیقی لائر بجانے اور گانے کا شوق تھا۔ نیرو نے سٹیج پر اداکاری بھی کی اور شہنشاہ کا یہ شوق سینیٹ کی نظر میں ایک رومن رہنما کے شیان شان نہیں تھا۔ لیکن نیرو کو کسی کی سوچ کی فکر نہیں تھی اور وہ ایک سال کی رخصت لے کر یونان چلا گیا جہاں اس نے تھیئٹرز میں اداکاری کے مقابلوں میں حصہ لیا۔

کہا جاتا ہے کہ نیرو جب بھی سٹیج پر کسی المناک کہانی کو پیش کرتے ہوئے ہیروئن کا کرداد ادا کرتا تھا تو اپنی دوسری بیوی پوپیا کا ماسک پہن لیتا تھا، جس کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ وہ اس کے قتل پر جرم کے احساس اور غم میں مبتلا ہے۔

’عوام کے دشمن‘ کی ڈرامائی موت

30 برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے نیرو کی مخالفت اور بدنامی میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ فوج کی حمایت سے سینیٹ نے نیرو کو ’عوام کا دشمن‘ قرار دے دیا جو ایک طرح سے اس کی موت کا فرمان تھا مطلب یہ کہ نیرو کہیں بھی نظر آئے تو اسے مار دیا جائے۔

سکیورٹی حکام تعاقب میں تھے، نیرو رات کی تاریکی میں بھاگ کر شہر کے مضافات میں واقع اپنے ایک محل میں چھپ گیا اور خودکشی کرلی۔

کہا جاتا ہے کہ جب نیرو نے اپنی جان لی تو اس کے آخری الفاظ تھے ‘Qualis artifex pereo’۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نیرو کے آخری لمحات میں کہے گئے ان الفاظ کا عین مطلب اخذ کرنا مشکل ہے لیکن اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں:

’میں اپنی موت میں بھی ایک فنکار ہوں‘

’وہ کیا ہی فنکار ہے جو میرے ساتھ مر رہا ہے‘

’میں ایک تاجر کی طرح مر رہا ہوں‘

نیرو کے ان الفاظ کا مطلب جو بھی ہو لیکن اس کے آخری الفاظ اس کے کردار کی طرح ہی ڈرامائی تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19940 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp