آغا ناصر کی تصنیف : گمشدہ لوگ


آغا ناصر بہت بڑے آدمی تھے، وہ بڑی عجیب صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انھیں شاعری افسانے ناول جیسی اصناف ادب سے بے پناہ لگاؤ تھا لیکن ڈرامے سے تو گویا انھیں عشق تھا۔ وہ اپنے کام سے حد درجہ مخلص تھے۔ انھوں نے ریڈیو پاکستان کی نوکری سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی صلاحیتوں کی بنا پر ریڈیو اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن کے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچے۔ ظاہر ہے اس طویل سفر میں انھیں بے شمار لوگوں سے واسطہ پڑا مگر کچھ شخصیات ایسی بھی ملیں جن کے ساتھ ان کا قلبی رشتہ استوار ہو گیا۔ ان شخصیات کے ساتھ آغا صاحب نے بہت سے یادگار شب و روز بسر کیے اور اپنے دامن کو ان شخصیات کی قیمتی یادوں سے بھر لیا۔

خاکوں پر مبنی اپنی کتاب ”گمشدہ لوگ“ میں آغا ناصر نے ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیات کا تفصیلی ذکر کیا ہے جنھوں نے ان کے دل و دماغ پر ان مٹ نقوش چھوڑے۔ تحریر کا اسلوب اتنا شاندار ہے کہ قاری خود کو ان عظیم شخصیات کے ساتھ بیٹھا ہوا محسوس کرتا ہے۔ کتاب میں اتنا کچھ ہے کہ چند سطروں میں اس کا احاطہ ممکن نہیں ہے پھر بھی ذائقے کے لیے چند سطریں پیش کی جا رہی ہیں

فیض احمد فیض

فیض صاحب سے کسی نے ایک بار کہا آپ اس صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں تو انھوں نے یہ کہہ کر اس بات کو رد کر دیا کہ ہر صدی میں ایک ہی بڑا شاعر پیدا ہوتا ہے۔ اردو شاعری کے حوالے سے انیسویں صدی کا سب سے بڑا شاعر غالب تھا اور بیسویں صدی کا اقبال۔

ذوالفقار علی بخاری

ایک روز بخاری صاحب کو اس وقت کے سیکرٹری اطلاعات نے فون کیا اور کہا کہ ایک بڑے عالم دین نے شکایت کی ہے کہ جس کار میں انھیں درس قرآن کے لیے لایا جاتا ہے اسی گاڑی میں سارنگی نواز استاد بندو خان بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔ بخاری صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا صرف یہ کہا ”میں دیکھتا ہوں“ ۔ کچھ دنوں کے بعد سیکرٹری اطلاعات نے پھر وہی شکایت کی تو بخاری صاحب نے جواب دیا ”میں نے معافی مانگ لی ہے“

”لیکن مولانا تو کل بھی شکایت کر رہے تھے“ انھوں نے کہا

”جی۔ لیکن میں نے تو استاد بندو خان سے معافی مانگی ہے، جناب عالی اس ملک میں بندو خان کے پائے کا سارنگی نواز اور کوئی نہیں ہے، ان کی جس قدر بھی قدر و منزلت کی جائے کم ہے، مولانا کے ہم پلہ تو اور بہت ہیں“

صادقین

صادقین زمین پہ لیٹے پینٹنگ کر رہے تھے، ہاتھ میں برش تھا، کپڑے رنگوں کے دھبوں سے بھرے تھے۔ فوجی گورنر نے اس دھان پان سے آدمی کو دیکھ کر کچھ عجیب سا محسوس کیا۔ ان کے قریب آئے مگر صادقین اسی طرح فرش پر لیٹے اپنے کام میں مصروف رہے۔ کسی افسر نے جھک کر کہا کہ گورنر صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں۔ صادقین نے لیٹے لیٹے گردن گھمائی اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ گورنر تھوڑی دیر انھیں پینٹ کرتے ہوئے دیکھتے رہے۔ پھر چلتے ہوئے صادقین کے جثے کو دیکھتے ہوئے بڑی خوش دلی سے بولے ”صادقین صاحب کچھ کھایا پیا بھی کریں“ ان کا فقرہ سن کر صادقین نے رنگوں کی ٹرے اور برش زمین پہ رکھ دیے اور اٹھ کر سیدھے بیٹھ گئے اور اپنے مخصوص انداز میں عینک کو انگلی سے ذرا اوپر سرکایا اور بولے ”گورنر صاحب! کھاتا نہیں مگر پیتا خوب ہوں“ گورنر ان کی بات کو مطلب سمجھ گئے اور مزید کچھ کہے بنا مسکراتے ہوئے چلے گئے۔

احمد فراز

احمد فراز نے زندگی میں بہت سے دوست اپنے تیکھے اور نوکیلے جملوں کی وجہ سے کھو دیے۔ وہ مشاعروں اور دوسری محفلوں میں کچھ اس طرح کی جگت بندی اور بذلہ سنجی سے بھرپور انداز اختیار کرتے تھے کہ جس کو دوسرے برداشت نہیں کر پاتے تھے۔ فارغ بخاری کا کہنا ہے فراز بچپن سے ہی بہت شرارتی تھے وہ دن رات نئی نئی شرارتوں سے سکول کو سر پہ اٹھائے رکھتے تھے، نہ خود پڑھتے نہ ہی کسی کو پڑھنے دیتے، استادوں کا انھوں نے ناطقہ بند کر رکھا تھا، وہ تنگ اور حیران تھے کہ اس لونڈے کا کیا کریں، وہ سارا وقت کتابوں کا ہاتھ نہیں لگاتا مگر جب امتحان دیتا ہے تو اچھے نمبروں سے پاس ہو جاتا ہے۔

ایک بار فراز کے ایک کثیر العیال دوست کو چین کی نوکری کے لیے منتخب کیا گیا۔ وہ اس واسطے نہایت پریشان تھے کہ اس بڑے خاندان کو لے کر دوسرے ملک روانہ ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ سو انھوں نے فراز سے اپنی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میاں صرف مجھے اور بیوی کو جانا ہوتا تو کوئی تردد والی بات نہ تھی، تمام بچوں کا انتظام کرنا خاصا مشکل ہو رہا ہے۔ فراز نے جب یہ سنا تو بے ساختہ کہا ”اس میں پریشانی والی کون سی بات ہے، بچے جس جس کے ہیں ان کو واپس کر دو“ فراز کے دوست اس قدر خفا ہوئے کہ مدتوں ان سے بول چال بند کردی۔

پروین شاکر

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنھیں دیکھ کر زندہ رہنے کو جی چاہتا ہے، پروین شاکر بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھی۔ وہ واقعی بڑی بڑی خوشگوار آنکھوں والی لڑکی تھی۔ خوبصورت اور دلکش۔ اسے اس بات کا احساس تھا کہ وہ حسین ہے۔ اس کی شخصیت بڑی من موہنی تھی۔ وہ اپنی حیران حیران آنکھوں، شبنمی رخساروں اور دلنواز مسکراہٹ کے ساتھ جس محفل میں بھی جاتی ہر کسی کی توجہ کا مرکز بن جاتی۔ اس کا سراپا، اس کی نرم و گداز آواز، اس کا انداز تکلم، سب مل کر ایسی پر کشش شبیہ بناتے تھے کہ کوئی بھی اسے نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔

ن م راشد

راشد نے نا صرف اردو زبان کو جدید شاعری کا تحفہ دیا بلکہ شاعروں کے Image بھی بدل دیا۔ ہمارے ہاں شاعروں نے مخصوص قسم کا حلیہ بنایا ہوتا تھا۔ شاعر کی پہچان میلا کچیلا لباس، پان کی پیک سے رنگین دانت، کثرت تمباکو نوشی سے مٹیالی انگلیاں۔ یہ اور اس طرح کی اور بہت سی باتیں۔

ن م راشد نے اپنے انداز، رہن سہن اور پوشاک کے ذریعے ایک نئی طرح ڈالی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان تھے اونچے سول اور عسکری عہدوں پر فائز رہے۔ ان کا لباس بڑے سرکاری افسر کی طرح کا ہوتا تھا۔ خوبصورت سوٹ، میچنگ ٹائیاں، قیمتی گھڑی، مہنگے جوتے، نئے فیشن کی قمیصیں اور جرابیں۔ وہ ایک نہایت فیشن ایبل انسان تھے۔ یہ جدید طرز حیات مکمل طور پر ان کی جدید شاعری سے ہم آہنگ تھا۔

Facebook Comments HS