ریاست کا شکستہ چوتھا ستون
2007 کے بعد سے جب دھڑا دھڑ نیوز چینلز لانچ ہونا شروع ہوئے تو ملازمتوں کے مواقع کھلے جس نے الیکٹرانک میڈیا کا انتخاب کیا اس کی تنخواہوں اور مراعات میں یکے بعد دیگرے آنے والے چینلز میں سوئچنگ کی وجہ سے بے تحاشا اضافہ ہوتا گیا۔ وہ لوگ جنہوں نے اخبار کو ہی اپنا ذریعہ معاش بنانے کا فیصلہ کیا وہ پیچھے رہ گئے۔ دیکھا جائے تو عملی صحافت کی نرسری اخبار ہی ہیں مگر الیکٹرانک میڈٰیا نے نہ صرف صحافت کو زک پہنچائی بلکہ اخبارات میں کام کر کر کے کندن بن جانے والے صحافیوں کے حق پر بھی ڈاکا ڈالا۔
2009 میں جب میں نے ایک روزنامہ میں انٹرن شپ کا آغاز کیا تو وہاں لوکل پیج کے انچارج کی تنخواہ صرف 8 ہزار روپے تھی، وہ الیکٹرانک میڈیا کو خرافات قرار دیتے ہوئے اسے صحافت کی بگڑی ہوئی شکل قرار دیتے تھے۔ میں نے جب ان سے دریافت کیا کہ وہ آخر کیسے اتنا کم تنخواہ میں گزارہ کر رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ صبح کے اوقات میں پک اپ چلاتے ہیں جس پر سکول کے بچوں کی پک اینڈ ڈراپ لگی ہوئی ہے جبکہ بیگم بھی سلائی میشن اور بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے تو بس گزر بسر چل رہی ہے۔
یاد رہے کہ یہ وہ دور تھا کہ جب اخباروں اور نئے لانچ ہونے والے نیوز چینلز میں تنخواہیں روکنے کا فیشن نہیں متعارف ہوا تھا۔ جن اخباروں کے مالکان نے ساتھ میں چینل لانچ کیا وہاں یہ صورتحال ہوتی گئی کہ اخبار کے ملازمین کی تنخواہیں روک کر اسی مالک کے نیوز چینلز مالکان کو تنخواہیں وقت پر ادا کی جاتی رہیں۔ یوں یہ ہوا کہ کم تنخواہ میں کام کرنے والے اخباری ملازمین کا جینا محال سے محال تر ہوتا گیا۔ اسی قسم کی صورتحال 12 سال بعد بھی ہے صرف کردار اور میڈیم بدلا ہے۔
مکافات عمل نے الیکٹرانک میڈیا کا پیچھا کیا اور جس طرح الیکٹرانک میڈٰیا نے اخبار کی چکاچوند کو ماند کیا اسی طرح سے سوشل میڈیا نے الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ سلوک کیا ہے۔ ایک بڑے میڈیا گروپ کے سی این ای سے ایک نئے لانچ ہونے والے چینل میں ملاقات ہوئی تو ان کی تنخواہ سن کر میں حیران رہ گیا، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسی اخبار کے چینل کے لاہور بیورو کی رپورٹر کی تنخواہ اڑھائی لاکھ سے زائد ہے جبکہ اسی اخبار کے سی این ای جیسے عہدے پر کام کر چکنے والے سینئر صحافی کی 40 ہزار۔
یہی تفاوت اب سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈٰیا کے ملازمین میں ہے۔ جس طرح الیکٹرانک میڈیا میں منہ اٹھا کر لوگ شامل ہوئے اور اچھی اچھی تنخواہوں پر لگ گئے چاہے وہ جرنلزم کے طالب علم تھے یا نہیں چاہے ان کا تجربہ بھی تھا کہ نہیں۔ اب یہ صورتحال ہے کہ تمام چینلز کے سوشل میڈیا ملازمین چاہے وہ کوئی بھی ڈگری رکھتے ہوں کی تنخواہیں اسی چینل میں کام کرنے والے دیگر ملازمین سے نہ صرف دگنی ہیں بلکہ ملتی بھی ہر مہینے ہیں۔
میں اگر اپنی ہی مثال دوں تو دو سال پہلے ایک بڑے چینل کے سوشل میڈیا میں کام کرنے والے انٹرنی نے جب میرے موجودہ ادارہ میں ملازمت حاصل کی تو اس کی کی تنخواہ میرے سے دوگنی رکھی گئی۔ اس وقت تک میری 10 سے زائد تنخواہیں نیچے لگ چکی ہیں جبکہ سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی ایک بھی تنخواہ بھی نہیں رکی ہے۔ اس پر ظلم تو یہ ہے کہ جہاں ہر چینل میں 15 سے 50 فیصد تک تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی اور اس ظالمانہ اقدام سے صرف سوشل میڈیا ملازمین ہی محفوظ رہے۔
اگر صحافیوں کے موجودہ حالات کی وجوہات پر نظر دوڑائی جائے تو سینئر صحافی اور مالکان موجودہ حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے نظر آتے ہیں مگر درحقیقت بے تحاشا منافع کے عادی ہو جانے والے میڈیا کے سیٹھ مالکان نے بڑے ناموں کی تنخواہوں میں کمی کرنے کے بجائے نشانہ کم تنخواہوں پر کام کرنے والے ملازمین کو بنایا۔ ہزاروں ملازمین کو بے روزگار کیا گیا۔ جس کے بعد یہ حالات ہیں کہ اب نئے چینلز میں کنٹرولر جیسی اہم پوسٹ کی تنخواہ بھی 60 ہزار ہے اور 80 فیصد ملازمین کو 30 ہزار سے کم اجرت پر رکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب دیکھا جائے تو پنجاب حکومت نے مزدور کی تنخواہ 20 ہزار کردی ہے۔ ایسے میں ایم اے پاس کرنے والے کا کیا قصور ہے؟ حیرت انگیز طور پر میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے لیکن اس میں کام کرنے والے تقریباً چار دہائیوں بعد پھر اسی نہج پر پہنچ چکے جہاں روح اور جان کا تعلق قائم کرنے کے لیے پک اپ چلانے یا جنرل سٹورز کھولنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ریاست کا چوتھا ستون اور یونین جو اپنے مسائل حکمرانوں تک پہنچاتے ہیں وہ بھی دھڑے بازی میں سبقت لے گئے۔
پنجاب کی ہی بات کی جائے تو پی ایف یو جے کی چار تنظیمیں اس وقت کام کر رہی ہیں۔ غیر ملکی دورے اور عالمی اداروں سے مراعات کی بندر بانٹ ہو رہی۔ کیا ہم پھر چار دہائیوں پہلے والے دور میں چلے گئے جہاں مزدور کی اجرت سے بھی کم اور عوام کو بروقت حقائق پر مبنی خبر دینے والے سفید پوش صحافی ہیں؟ اخبار میں خبر تحقیق تصدیق اور پورے ایڈیٹوریل پراسس سے ہو کر سامنے آتی ہے جبکہ الیکٹرانک میڈیا میں چل کر نہ تردید نا معافی سب چلتا ہے۔
حکومت کی جانب سے میڈیا ملازمین کے لئے آرڈینینس لانے کا تو اعلان کیا گیا ہے مگر افسوسناک طور پر اپوزیشن اور میڈیا مالکان نے آزادی صحافت پر قدغن کا پروپیگنڈا کرتے ہوئے آرڈینینس کی شدید مخالفت کا آغاز کر دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئندہ آنے والا دور سوشل میڈیا کا ہے؟ اگر ہاں تو حکومت وقت کو اخبار و ٹی وی چینلز کے ورکرز کو اپ گریڈ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا اور یہی تبدیلی سرکار سے صحافی امید لگائے بیٹھے ہیں۔


