EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جذباتی لگاؤ درد دیتا ہے۔ کبھی اٹیچ منٹ کو ڈی اٹیچ بھی کرنا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسیت، لگاؤ، اٹیچمنٹ، پیار، دل لگی کسی سے بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس کا ہر گز ہرگز یہ مطلب نہیں ہو تا کہ ہم ان کو وجہ بنا کر اپنا ذہنی سکون برباد کر لیں، یا ان کا دم گھوٹ دیں۔

جذباتی لگاؤ کیا ہے؟ جب ہماری سوچ اور احساسات دوسروں پر منحصر ہونے لگیں۔ ہم دوسرے کسی ملک میں رہ کر بھی کسی کے ساتھ جذباتی لگاؤ رکھ سکتے ہیں۔ لیکن ہم ساتھ ساتھ بیٹھ کر بھی ڈی اٹیچ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ جذباتی لگاؤ یا ڈی اٹیچ منٹ باہر نہیں انسان کے اندر ہوتی ہیں، یعنی اگر میری جذباتی کیفیت کسی دورے پر منحصر ہے وہاں کچھ بدلے گا تو میری ذہنی کیفیت یہاں بدل جائے گی۔ جب کسی کے ساتھ ایسا تعلق ہو تا ہے تو پھر، درد، اداسی کے جو احساسات پیدا ہوتے ہیں وہ ایک منفی توانائی جسم میں پیدا کرتے ہیں اور ہماری روح کی بیٹری خشک ہو نے لگتی ہے، جب خود ہی اچھا محسوس نہیں کریں تو فطری طور پر رشتوں میں بھی دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔

کسی بھی چیز کی نشے کی حد تک عادت یا اس پر مکمل طور پر انحصار کرنا نارمل کیسے ہو سکتا ہے؟ ان سب چیزوں کو ہم صحت مند کیسے کہہ سکتے ہیں۔ اب بات کریں ڈی اٹیچ منٹ کی تو، اس کا مطلب ہے کہ میری ذہنی کیفیت کسی دوسرے پر منحصر نہیں ہے۔ یعنی سامنے والا جیسا بھی رویہ اپنائے، جس طرح سے بھی بات کرے، میرا دھیان رکھے یا نہیں وہ اس کا عمل ہے لیکن اس کے رویے پر میں اسے بتا دوں گی کہ تم نے میرے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا لیکن میں اس کے رویے پر اپنی ذہنی کیفیت کو ڈسٹرب نہیں ہونے دوں گی۔

یعنی میں خود کو اس شخص سے ڈی اٹیچ کرلوں گی، وہ جو بھی کرے، اس کا اثر میں اپنی ذہنی کیفیت پر نہیں پڑنے دوں گی۔ اگر وہ ڈسٹرب ہے تو مجھے کوشش کرنا ہوگی کہ اس کا ساتھ دوں لیکن اگر دوسرے شخص کو اس وقت تنہا رہنا ہے تو مجھے اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے، اسے تنہا چھوڑنا ہوگا۔ اگر کسی دوست کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آیا ہے او ر وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے تو اسے اس وقت توانائی چاہیے، لیکن اگر میں اٹیچ ہوں تو اس سے زیادہ پریشانی تو مجھے آن گھیرتی ہے، اور میں سوچنے لگتی ہوں اس نے مجھے اپنا نہیں سمجھا اسی لئے اپنا دکھ میرے ساتھ شیئر نہیں کیا۔

یوں مثبت سپورٹ دینے کی بجائے، میں اپنی شکایتوں کا پلندا کھول کر بیٹھ جاتی ہوں۔ ایسے میں ظاہر ہے دوسرا انسان مجھے یہی کہے گا کہ فی الحال مجھ سے تھوڑا دور رہو، اپنے اور دوسرے شخص کے ذہنی سکون کے لئے مجھے سمجھنا ہوگا کہ وہ شخص میرے ساتھ بیٹھنے میں کمفرٹ محسوس نہیں کر رہا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اسے مجھ سے اچھی وائبریشن نہیں مل رہی اور میں اس کی طاقت بننے کی بجائے اسے درد دینے کا باعث بن رہی ہوں۔ اس ڈی اٹیچ منٹ کو پریکٹس کرنا بہت ضروری ہے۔

لاتعلقی، غیر مشروط محبت اور قبولیت کا ثبوت ہے۔ غیر مشروط محبت یہی ہے نہ کہ سامنے والا کچھ بھی کرے جیسے بھی حالات ہوں، لیکن آپ کی محبت میں کمی نہ آئے اور آپ کی جانب سے کسی قسم کی منفی اینرجی اس شخص تک نہ پہنچے۔ عموما ہم کہتے ہیں کہ ہم فلاں سے پیار کرتے ہیں لیکن ہم سے سارا دن پیار والی توانائی ظاہر نہیں کر پاتے، اور وہ تب ہی پیدا ہو گی جب ہماری اپنی ذہنی کیفیت پرسکون ہوگی۔ اگر میں دو منٹ کے لئے بھی دکھی ہوں تو مجھ سے دکھ اور تکلیف والی توانائی خارج ہوگی۔

جب میری اپنی ذہنی کیفیت میرے قابو میں ہوگی تب ہی میں کسی سے غیر مشروط محبت کر سکوں گی۔ اس سب کے لئے لاتعلق ہونا پڑے گا، اور لاتعلق ہونے کا مطلب ہے کہ میں یہ سوچ لوں کہ میں جذباتی طور پر کسی پر انحصار نہیں کر سکتی۔ ویسے ہم زندگی میں خودمختار ہونا چاہتے ہیں لیکن جذباتی طور پر ہم دوسروں پر انحصار کرنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن یقین مانیے کہ جذباتی طور پر خودمختار ہونا ہی لاتعلقی ہے۔

ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں اپنے گھر والوں سے، دوستوں سے اور نہ جانے کتنے لوگوں سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں، جس جس چیز کا اثر ہماری ذہنی کیفیت پر پڑ جا تا ہے، اس اس چیز سے ہم اٹیچ ہوتے ہیں۔ آپ اپنی جذباتی صحت کو دوسروں سے متاثر نہ ہونے دیں، پھر چاہے وہ والدین ہوں، بہن بھائی ہوں، دوست ہوں، شوہر یا بیوی ہو، گاہک ہو، کولیگ ہو، محبوب ہو، ان کی کسی بھی بات پر کڑھتے رہنے کی بجائے خود کو لاتعلق رکھئے، جب ذہن سکون میں ہو گا، دل بھی سکون میں رہے گا اور ان کے ساتھ جڑا رشتہ بھی بچا رہے گا۔

لیکن اگر آپ ان کی چھوٹی چھوٹی بات کو دل پر لگائیں گے، ہمہ وقت ان کی توجہ کے متلاشی رہیں گے، ان کی پرسنل سپیس میں گھسیں گے، انہیں سانس لینے کا موقع نہیں دیں گے تو پھر رشتہ ہی نہیں بچے گا۔ ہم موبائل کو، اپنے لیپ ٹاپ کو روزانہ چارج کرتے ہیں بالکل اسی طرح اپنے دماغ اور دل کو بھی روز مثبت سوچوں سے چارج رکھیں، خود کو دوسروں سے جذباتی طور پر لاتعلق بنا لیجیے، یہ پریکٹس ایک دن کی نہیں ہے بلکہ روزانہ کی ہے۔ یقین مانیں آپ بھی سکون سے جئیں گے اور جن کے ساتھ آپ کو اٹیچ منٹ ہے وہ بھی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے