حقوق اور حقِ ملکیت میں فرق ہوتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


الفاظ کے ساتھ میرا رشتہ ایسا ہے کہ نافرمانی کر بھی جاؤ تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن عنوان کے اصل حقداروں سے اگر نافرمانی ہو گئی تو میرے لئے مسئلہ بن سکتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ ”والدین کی نافرمانی“ ہمارے ہاں بہت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس ”نافرمانی“ کی تعریف بھی خود والدین کرتے ہیں، اور پھر سمجھتے ہیں کہ قانون فطرت بھی انہیں کے بنائے ہوئے اصولوں کی بنیاد پر چلیں گے، اس کی مثال تو کچھ اس طرح بنے گی، کہ آپ عدالت کے معزز جج سے توہین عدالت کے قوانین مرتب کروائیں۔

سب سے پہلے تو والدین اور بچوں کے تعلق کی وضاحت کر لینی چاہیے تا کہ حقوق کی بحث شروع ہی نہ کرنی پڑی، ہم جس مذہب کے ماننے والے ہیں، وہاں ہر کسی کے لئے کوئی نہ کوئی دائرہ بنا دیا گیا ہے، جس میں رہ کر وہ حقوق کے مزے بھی لوٹتا ہے اور دوسرے کے حقوق ادا بھی کرتا ہے، یہ دائرہ جب کسی بھی طرف سے کراس ہوتا ہے تو لڑائی کی پیدائش ہوتی ہے، اولاد سے والدین کا تعلق فرضی ہے، یہ ایک ایسا ہی رشتہ ہے جس میں دونوں کو بنا ایک دوسرے سے پوچھے کہ آپ کی مرضی شامل ہے یا نہیں جوڑ دیا گیا ہے، حقوق پر مشتمل قوانین پورے ہوتے رہیں تو نہ نافرمانی ہو گی اور نہ ہی بغاوت، والدین اولاد کے اختیار ہاتھ میں لیں گے تو مسئلہ بنے گا۔

آج ہمارے مشرق کے والدین اولاد کو لے کر بہت پریشان ہیں، اولاد کے ہر کام میں فیصلہ کریں گے، اور اگر غلطی سے اولاد بیچاری کہ دے گی کہ نہیں ”ابو جی“ آپ یہ بات غلط کر رہے ہیں، تو ایک دم سے نافرمانی کا لیبل لگا دیا جائے گا، جہالت کا مقام دیکھیں پڑھے لکھے لوگ ”اف“ کو اردو والا اف بنا کر پیش کرتے ہیں، جس کا مطلب ”ہوں، ہاں“ بنتا ہے، حالانکہ یہ عربی کا ”اف“ جس کے معنی حقارت سے کسی بات کا جواب دینا، یہ حکم بوڑھے والدین کی خدمت کے وقت کے لئے ہے، عام حالات میں جواب تو دیا جا سکتا ہے، اگر ایسا نہیں ہے تو پھر والدین سے باتیں کرنا بھی ”اف“ کے زمرے میں آئے گا۔

حالانکہ جب وہ غلطی پر ہوں یعنی والدین تو انہیں ٹوکا جا سکتا ہے، حق تو جابر حکمران کے سامنے بھی بیان کرنے کا حکم ہے، حالانکہ وہاں جان کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے،

جو والد اپنے لئے ایک عمل کو نافرمانی سمجھ رہا ہو گا، وہ وہیں اسی عمل کو اپنے بہنوئی کے لئے اخلاقی سمجھے گا، اور یہ ہوا ہے، میری اپنی آنکھیں گواہ ہیں، کیونکہ فائدے کی دنیا ہے، یہاں اپنے لئے اصول مختلف اور دوسری طرف بہنوئی کے لئے قانون الگ کیونکہ فائدہ بہن اور اس کے بچوں کا ہو رہا ہے۔

حقوق بھی ایسے لوگوں کو دیے جاتے ہیں جو اس کے قابل ہوں، حق حاصل ہونا اور حق کے قابل ہونا دو الگ الگ موضوع ہیں، یہ بات ہر ایک کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے، کہ والدین اپنی خواہشات بچوں کے سر پر تھوپتے رہیں اور بچہ خاموش رہے، والدین اپنی مرضی کا دین اور فرقہ بچوں کے گلے میں پھندے کی طرح ڈالتے رہیں اور بچہ خاموش رہے، والدین اپنی نفسیات کے مطابق بچوں کو ڈھالتے رہیں اور بچہ خاموش رہے، مار پیٹ سے آگے بڑھ کر جان لینے پر تل آئیں اور بچہ فرماں بردار بنا رہے، خود کی ذات کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دے اور والدین کی خواہشات اور ان کے رنگ میں رنگ کر زندگی گزارے اور پھر بھی خاموش ہی

رہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہ کہاں کا اصول ہے؟ کیا اسلام بھی ایسا کہتا ہے؟

نہیں وہ تو ایسا نہیں کہتا، دین کے معاملے میں تو وہ سب کو آزادی دیتا ہے، بچے والدین کے فرقے سے اختلاف کریں یا اتفاق یہ ان کا حق ہے، اسلام یہ بھی نہیں کہتا کہ والدین اپنی خواہشات بچوں سے پوری کروائیں، فیصلے کا اختیار آخر اسلام نے اولاد کے ہاتھوں میں ہی دیا ہے، وہ مذہب سے متعلق ہو، وہ زندگی کے متعلق ہو، وہ پڑھائی کے متعلق ہو، وہ روزگار کے متعلق ہو یا پھر وہ شادی کے متعلق ہو سب کے سب اختیار اسلام نے اولاد کے ہاتھوں میں ہی رکھے ہیں۔

مار پیٹ سے اگر والدین کا ہاتھ گلے تک پہنچ جائے تو کیا وہ بچہ سیلف ڈیفنس کا حق بھی استعمال نہیں کر سکتا؟ اپنا دفاع کرنا کیا والدین پر ہاتھ اٹھانے کے قانون کا حصہ ہے؟ اگر مناسب آہستہ آواز مار پیٹ یا والد کے چیخنے چلانے کی وجہ سے ان کے کانوں میں نہیں پہنچ پا رہی تو کیا اونچا بولنا بھی ”اف“ کے زمرے میں آئے گا؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ والدین اپنی زندگیوں میں کہاں تھے؟ ، جب یہ بھی کسی کی اولاد تھے۔

والدین کی اولاد سے محبت اور اولاد کی والدین سے محبت فرضی محبت ہے، یہ ایک بنا بنایا رشتہ ہے، کوئی فریق کسی دوسرے پر احسان نہیں کرتا، سب اولادوں نے ایک نہ ایک دن والدین کا درجہ حاصل کرنا ہی ہوتا ہے، یہ تو مکافات عمل کی دنیا ہے، والدین اولاد کو حق ملکیت نہ سمجھیں، لونڈی اور غلام کی طرح اولاد کو پالنا چھوڑ دیں، پالنے کا بدلہ لینا چھوڑ دیں، یہ رزق اوپر والے کا دیا ہوا ہے، وہی حساب لے تو اچھا ہے، جن فیصلوں کا اختیار اللہ نے اولاد کو دیا ہے، سب فیصلے انہیں کرنے دیں، اولاد کے جواب یا پھر اختلاف رائے کو نافرمانی نہ سمجھیں، وہ بھی انسان ہیں، والدین اپنی خواہشات کے پیچھے اولاد کو خود سے دور کر دیتے ہیں۔

پیار، محبت اور امن سے رہیں گے تو اولاد آپ کے پیر دھو کر پیئے گی، ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے میں اپنی اولاد کو کسی چیز سے منع نہیں کرتا کیونکہ وہ کام انہوں نے کرنا تو ہے، منع کرنے سے وہ چھپ کر کریں گے، جس کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، اور منع نہ کرنے سے وہی کام وہ آپ کے سامنے کر لیں گے، اکیسویں صدی کے والدین نفسیاتی طور پر دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ نئی نسل اکیسویں صدی کی ہے، اس لئے والدین اپنے عمل اور حرکات کی وجہ سے اولاد میں نفرتیں پیدا کرتے ہیں اور پھر نافرمانی کا لیبل لگا دیتے ہیں، دائرے میں رہیں جس میں آپ کو قدرت رہنے کا حکم دیتی ہے، اس سے محبت بھر بڑھتی ہے اور زندگی بھی بڑھتی ہے، والدین کے حقوق اسی صورت پورے ہوں گے جب وہ اولاد کو ان کا جائز حق دے گی، ورنہ نفسیاتی دباؤ کی شکار اولاد بغاوت کرے گی،

”جو نہ والدین کے لئے اچھا ہے نہ اولاد کے لئے“


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments