عورت کے لئے مرد ناکافی کیوں ہو گیا ہے؟


تحریم بہت دنوں بعد آنے کی وجہ ہے کہ ہم ملالہ کے کیس کی کارروائی کا مشاہدہ فرما رہے تھے۔ یوں بھی چونکہ بنیاد فکشن ہے تو ذرا رومانی کیفیات کا غلبہ شاعری یا افسانے کے ساتھ محبت پہ اکسا رہا ہے۔ یہ موضوع جس سفاکی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس کا ماحول نہیں بن رہا تھا۔ تاحال، حال دل نازک ہے۔

ہاں ملالہ کا مقدمہ دونوں فریقین نے خوب لڑا ہے۔ مگر اس میں ایک بات ثابت ہوئی کہ شادی کوئی بہت ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ جو کبھی بہت حسین خواب تھا۔ اور حسین بھی ایک عام سی عورت سے تھا۔ آج وہی عورت ڈر رہی ہے۔ ایک دستخط سے ڈر رہی ہے۔ آج وہی مرد جو اس کے لئے شہزادہ و سائبان و آ سمان تھا۔ اس کے لئے جن اور بھوت سے بڑھ کر موت کے فرشتے کے مترادف ہو گیا ہے۔ سوال تو ہے اور بہت بڑا ہے۔

سب سے مزے کی بات جو اس مقدمے میں لگی۔ وہ یہ تھی ملالہ کے حق میں ایسے ایسے لبرل بول رہے ہیں جو اپنی بہن اور بیٹیوں کے رشتے تلاش فرما رہے ہیں اور ہمیں تمہیں بھی مشورہ دے رہے ہیں کہ جناب اس لڈو کو کھا کے ہی مرنا۔ تو جناب من، ملالہ درست تو کہہ رہی ہے۔ آپ بھی اپنی تگ و دو چھوڑ دیجئے۔ اپنی بہن اور بیٹی کو اجازت دے دیجئے کہ وہ بھی بنا دستخط والے بندھن میں رہیں۔ آپ کے خیالات سے مستفید ہونے کا ان کا بھی پورا پورا اور پہلا حق ہے۔ اور ان کی سمجھ میں بھی اس طرح کے دستخط نہیں آتے۔ تو یار آپ لوگ بھی ہمت باندھیے اور عمل کا دامن تھام لیجیے۔ یوں بھی ہم نے جنت سے نکلتے ہوئے کون سے دستخط کیے تھے۔

ملالہ کی بات پہ اتنا فوکس کرنا کیوں بنتا ہے؟ قوم کا رد عمل اتنا شدید کیوں ہے۔ جہاں سے وہ پڑھی ہے۔ وہاں کا ہینڈسم تین کاغذات پہ دستخط کر کے بھول چکا ہے۔ چوتھے پہ بلا کر کروائے گئے تھے۔ بنا دستخط کے کئی کارنامے ریکارڈ پہ ہیں۔ پھر بھی اگر ایمان دار ہے تو ہمارے لئے کیا دشواری ہیں۔ کاغذ ہی بدلنے ہیں۔ معاہدے میں عمر بھر کا ساتھ تو لکھا نہیں ہوا۔ یوں بھی ہمارا ردعمل اہمیت کیسے رکھتا ہے۔ ملالہ پندرہ سال کی تھی جب سوات میں طالبان نے اسے گولی ماری۔ اور تعلیم کا نعرہ لگاتے وہ باہر چلی گئی۔ روز میرے ملک میں گھریلو طالبان اپنی بیٹیوں کو جو گالیاں مارتے ہیں۔ وہ پڑھنا چاہتی ہیں، یہ طالبان پڑھنے نہیں دیتے، وہ پسند کی شادی کرنا چاہتی ہے، یہ طالبان اپنا ولی نامہ لے کر آ جاتے ہیں۔ تب یہ ”موم بتی انکلز“ کہاں ہوتے ہیں۔

یوں بھی کیا ملالہ کو پاکستان کے قانون کا علم ہے کہ یہ نکاح نامے کا بل کب اور کیوں پیش کیا گیا تھا۔ ملالہ کو سندھ، اور پنجاب میں ہو نے والے جرائم کی خبر ہے؟ پختون سماج میں مرد پہ اور طرح کا پریشر ہے۔ سندھ میں اور پنجاب میں جہیز والے شعبے نے کیا کیا قیامتیں بپا کیں۔ ہر قیامت اور قانون کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے۔ ابھی ملالہ کو اپنے جغرافیہ کے حوالے سے اس کی خبر ویسی نہیں جیسی اس کو اس سماج کی ہے جہاں سے اس کو ڈگری ملی ہے۔ وہ ڈگری بھی تو ایک کاغذ اور دستخط کی کہانی ہے۔

سو ابھی ہمیں ملالہ کہ بات پہ اتنا سیخ پا ہونا بنتا نہیں ہے۔ جتنا یہاں کہ مظلوم بچیوں کے لئے ہو نا بنتا ہے۔ یہ ہمارا سماجی رویہ ہے کہ اپنے گھر کو دیکھتے نہیں۔ پرائے کی بیٹی پہ نظر رکھ کے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ابھی ملالہ نے ارتقا کی کئی منزلیں طے کرنا ہیں۔ ابھی اس کی سوچ میں تغیر آ نا ہے۔ ہم سب اس کی سوچ سے مطابقت پید اکر کے نجانے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اپنا ڈبہ بھی ہے۔ بہت معذرت کے ساتھ مجھے وہ بجتا سنائی دیا۔

مغرب کو نفرت کی توپوں کی سلامی کو چھوڑ کر دیکھیں کہ اب تو سعودی ولی عہد نے بھی عورت کو ولی سے آزاد کر دیا ہے۔ کیا خیال ہے؟ اب ہم نے ساتھ کس کا دینا ہے؟ ہم تو دونوں کے مقروض ہیں۔

تحریم یہ جو فردوس عاشق اعوان کا عاشقانہ تھپڑ تھا۔ یہ اصل میں ملالہ پہ غصہ تھا۔ کہ تم ہماری باری کہاں تھی؟ اور اب کوئی اور بڑا دھماکہ ہو نا ہے کہ کیونکہ سعودی اقدام سے جو بیان بنا ہے وہ بہت قاتلانہ ہے۔

شادی کے پورے کے پورے نظام پہ ضرب کاری کی وجہ کوئی تو ہو گی ناں۔ عورت کو مرد کے لئے ہی تو آزاد نہیں کیا جا رہا۔ یا مرد خود کو تو آزاد نہیں کر رہا؟ یا آزادی سے ہم کسی قید میں جانے کا خواب بن بیٹھے ہیں۔

لیکن دوسری جانب یہ کاغذ، یہ دستخط تو ہمارے پیدا ہوتے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔ جب ”ب“ فارم پہ ہماری پیدائش کا اندراج ہو تا ہے۔ اور ہم موت کے کاغذات تک دستخط کرتے چلے جاتے ہیں۔ سکول، کالج، یونیورسٹی کے کاغذوں تک پہ دستخط ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پھر نوکری یا کاروبار سب پہ دستخط ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کسی کا کسی سے کوئی معاہدہ بھی ہو تو سٹام پیپر پہ لکھا جاتا ہے گواہوں کے ساتھ دستخط ہوتے ہیں۔ گھر لیں، میٹر لگوائیں، بنک اکاؤنٹ کھلوائیں، قبر کی جگہ کے کاغذات اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ تک دستخط سے سہارے چل رہے ہیں۔

جب اور جہاں جہاں یہ قانون بنا وہاں وہاں مفاد پرستوں کے ٹولے اپنا دھندا چمکانے بیٹھے ہوئے تھے۔ سو یہ تب تب تحفظ کا قانون تھا۔ آج یہ تحفظ کیوں کھو گیا ہے۔ یہ اہم اور بہت اہم ہے۔

مگر اس اہم ملک میں موجود منافقین کی بڑی تعداد ہے۔ جو چاہتے ہیں کہ عورت بنا دستخط کے رہے۔ اور اس کے لئے موٹے موٹے دلائل بھی لاتے ہیں مگر وہ یہ دوسروں کی عورت کے لئے چاہتے ہیں۔ اپنے گھر کی عورت کے لئے کیوں نہیں چاہتے؟ اپنی بہن بیٹیوں کی تو بہت اعلی شان شادیاں کرتے ہیں۔ کیسے کیسے قلم اور مخملی نکاح نامے شاہی پلیٹوں میں رکھ کر لائے جاتے ہیں۔

اگر یہ اچھا اور اہم قدم ہے تو اسے سب کو یکساں فائدہ ہو نا چاہیے۔ مگر یہاں سب میں اپنے گھر والوں کو نکال کر بات کیوں کی جا رہی ہے؟ مجھے ایک سوال موصول ہوا تھا جس کا الگ سے جواب دینے کا سوچ رکھا ہے۔ سوال تھا کہ ”آ خر عورت مرد کو کیوں بتا رہی ہے کہ اس کے لئے ایک مرد ناکافی ہے۔ وہ اتنی مضبوط ہے۔ آخر صدیوں اس نے ایک مرد کے ساتھ ہی گزارا کیا ہے؟“

سوال بہت منفی انداز میں پو چھا گیا تھا۔ مگر جواب بہت مثبت ہے کہ وہ یہی بتا رہی ہے ناں کہ اس نے صدیوں گلہ نہیں کیا۔ وہ آج بھی آدھے مرد کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ مگر وہ ایک آدھا مرد بھی کہاں گیا؟ اس لئے اس نے سوچا کہ یار اکیلے ہی رہنا ہے تو علانیہ کیوں نا رہے۔

جب اس نے زندگی ساتھی کے ساتھ بھی تنہا گزارنی ہے تو اسے بتانا پڑ گیا ہے کہ یار میں تھک چکی ہوں۔ میرا مسئلہ جسم ہو تا تو تم کو کیوں بتاتی کہ بنانے والے نے مجھے تم سے قوی بنایا ہے۔ میرا مسئلہ تو احساس ہے۔ جو تم کو نہیں ہے۔ احساس کی بہت سی اقسام ہیں۔ اگر میں بتا نہیں پائی تو تم نے سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ جب احساس مر رہا ہے تو ساتھ کا کیا کرنا ہے۔ جب ساتھ میں تنہائی ہے تو ساتھ کے کیا معنی رہ جاتے ہیں۔ یہ تو بہنے اور جذب کے رشتوں والا تعلق تھا۔ جب دونوں کیفیات نے منہ موڑ لیا ہے۔ کاغذ کیا کر لیں گے۔

اس منفی سوال کا جواب بھی اتنا سا ہی کافی ہے اور تمہارے سوال کا جواب بھی یہی ہے کہ محبت ہو یا رشتہ احساس، کیئر اور مستقل ساتھ اس کو مضبوط بناتے ہیں۔ بنا کہے یہ سمجھ جانا کہ اب میرے ساتھی کو کاندھے کی ضرورت ہے اور اب سہارے کی تمنا ہے، اب آزادی کی آرزو ہے، اب فاصلے سے رنگ بھرنا ہے۔ اب جسم متقاضی ہیں تو دوری میں راحت ہے۔

خرابی آئی ہے حاکمیت سے، غلامی بہت خوف زدہ کیف بھی ہے تو اتنا ہی بے خوف بھی۔ اگر دونوں رستے موت کو جاتے ہوں تو انسان کو فرق نہیں پڑتا کہ وہ دائیں جائے یا بائیں جائے۔ بس پھر وہ چلا جاتا ہے۔ اور صرف اتنا ہی ہوا ہے۔

اب کچھ افراد انسان اور انسانیت کو بچانے کے لئے کسی نئی سوچ سے نیا تجربہ کرنا چاہ رہے ہیں۔ کچھ پرانی سوچ کو مضبوط پل قرار دے رہے ہیں۔ لیکن مقصد اگر مثبت ہو جائے تو کوئی بھی قانون کام کر سکتا ہے۔ جبکہ منفی مقاصد سے کشتی میں چھید خود ہی ہو جاتا ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےگولڈن گرلز: دور کیوں جانا، چینی مردوں کو ہی دیکھ لوگولڈن گرلز: ہا ہائے، کتنی بولڈ ہے

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم

گولڈن گرلز کے عنوان کے تحت رابعہ الربا اور تحریم عظیم بتا رہی ہیں کہ ایک عورت اصل میں کیا چاہتی ہے، مرد اسے کیا سمجھتا ہے، معاشرہ اس کی راہ میں کیسے رکاوٹیں کھڑا کرتا ہے اور وہ عورت کیسے ان مصائب کا سامنا کر کے سونا بنتی ہے۔ ایسا سونا جس کی پہچان صرف سنار کو ہوتی ہے۔

golden-girls has 28 posts and counting.See all posts by golden-girls

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments