آج کیا پکائیں


صبح ناشتے سے فارغ ہو کر یا بغیر ناشتے کہ جب بچے اور ’وہ‘ گھر سے نکلنے والے ہوتے تو یہ ملین ڈالر سوال خاتون خانہ ( یعنی کہ ہم) کے منہ سے جونہی برآمد ہوتا سب اپنے اپنے فون، چابیاں اور بیگز سنبھال کر گرتے پڑتے نکلنے لگتے اور جواب ہوتا

جو دل چاہے پکا لیں
اس وقت ہے یہ سوال کرنے والا
روز آپ کب ہماری پسند سے پکاتی ہیں

اور نو دو گیارہ ہو جاتے۔ ایک بجے دوپہر کے بعد سب کا گھر سے رابطہ ہونے لگتا ہے تو ہیر پھیر کر ایک ہی سوال سب کے منہ سے نکلتا کہ

کیا پکا رہیں ہیں اماں
پلیز کچھ بہت اچھا سا پکائیں
ہاں بھئی کیا کھلا رہی ہیں

جی آلو گوشت، چکن کڑاہی، چپل کباب، قیمہ پلاؤ، رشین سلاد اور کولڈ ڈرنکس، میٹھے میں فالودہ اور فروٹ ہے

خاتون خانہ اطمینان سے جواب دیتیں
واقعی!

سب کی خوشی سے چیخیں نکل جاتیں اور ہماری صدمے سے نکلتیں تھیں کہ شام کو سب کی مایوس شکلیں کیسے دیکھیں گے حالانکہ یہ دھوکا ہم دیتے رہتے تھے مگر پھر بھی بچارے ہمارا یقین کر لیتے تھے۔ شام کو ڈنر ٹیبل پر ہم دال چاول رکھتے اور ساتھ میں سلاد اور اچار تو ردعمل کافی جان لیوا ہوتا بس ٹیبل الٹانے کی کسر رہ جاتی۔

میری جان اتنے ہیوی کھانے صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہوتے ہیں اور اچھے بچے اور بے حد نیک ’وہ‘ کھانے کے وقت ضد نہیں کرتے۔

ہم مکاری سے پچکارتے اور بہلاتے
چلو کل جو آپ سب بتائیں گے وہی پکے گا

آج کیا پکائیں یا کھانے میں کیا ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جو مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب ہر گورے کالے اور براؤن کے گھر میں پوچھا جاتا ہے مگر ڈھنگ کا جواب ملنا مشکل ہے۔

ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ ( اللہ تعالی پلیز معاف کر دیں ) اس سوال کی بنیاد شاید حضرت آدم (علیہ السلام) نے رکھی ہو اور کھانے میں کیا ہے کے جواب میں اماں حوا (ان پر سلام) نے گندم کا گرما گرم پھلکا پکا دیا ہو اور پھر چل سو چل دنیا ایک کھانے کے نتیجے میں وجود میں آ گئی۔

ویسے ہمارا خیال ہے کہ اگر مقابلے کے امتحان کے وائیوا میں پوچھا جائے کہ آج کیا پکائیں تو بڑے بڑے بزرجمہر باوقار طریقے سے فیل ہو جائیں گے کیونکہ انھوں نے شاید ہی کبھی اپنے گھروں میں اس سوال کا جواب دیا ہوگا۔ یہ سوال دنیا کے ہر گھر میں پوچھا جاتا رہا یہاں تک کے کووڈ 19 نے آن واحد میں سب کچھ تہہ و بالا کر دیا اور ہر چیز بدل کر رکھ دی۔ جس طرح زندگی کے تمام اصول بدل گئے اسی طرح اس سوال کے ریت و رواج بھی بدل گئے۔ مرد حضرات ملازمت پیشہ خواتین اور سکول و کالج جانے والے بچوں نے گھروں میں ڈیرے ڈال دیے تھے۔ ایک عجیب سا chaos تھا۔ گھروں سے کام کا تجربہ اتنا غیر مانوس تو نہیں تھا مگر غیر معینہ مدت کے لئے گھر پر رہنا گویا عقل سے بالا تر ضرور تھا۔

ورک فرام ہوم یا کلاسز فرام ہوم کا انقلاب کیا آیا اس نے خواتین خانہ کا شیڈول سب سے زیادہ متاثر کیا۔ وہ تو ایک ویک اینڈ طوعاً کرہاً برداشت کرتی تھیں اور اکثر اس میں بھی کہیں نا کہیں آنے جانے اور اپنے گھر یا کسی فرینڈ کی طرف لنچ یا ڈنر کی مصروفیت بھی نکل آتی تھی۔ روزمرہ کے دوران اپنے مشاغل کے لیے بھی وقت مل جا تا تھا اور گھر ایک ڈگر پر بھی چلتا رہتا تھا۔

شروع کے دو تین ہفتے سکول یونیورسٹیاں تو بند رہے مگر جابز وغیرہ کا طریقہ کار جلد ہی وضع ہو نے لگا اور سچی بات ہے کہ سب کچھ کافی پگلانے والا تھا۔ شروع کے کچھ دن ہم بھولتے رہے اور سب کو جابز اور سکول کے لئے دیوانہ وار صبح سب کا سکون دھرم بھرم کرتے ہوئے انھیں جگاتے رہے۔ سٹوڈنٹس کے تو جوں بھی نا رینگتی لیکن جابز والے بڑبڑاتے ہوئے اٹھ جاتے تھے۔ اب ہمیں اس بھیانک حقیقت کا ادراک ہوا کہ نئی سیچوئیشن سے نمٹنا مشکل تو ضرور ہوگا۔

”وہ“ جب ریگولر آفس جاتے تھے تو ہم ناشتہ ٹھیک آٹھ بجے لگا دیتے تھے اور وہ ساڑھے آٹھ بجے تک گھر سے نکلتے اور ہم ”آج کیا پکائیں“ کے سوال کے بعد منہ کی کھا کر چائے کے بڑے بڑے گھونٹ پیتے اور انتقاماً کوئی مشروم آلو ٹائپ ڈش بنانے کی سوچتے تھے۔

اب آفس ٹائمنگز تو وہی تھیں سو ہم نے ٹھیک آٹھ بجے ناشتہ لگا دیا کہ ساڑھے آٹھ بجے تک وہ اپنے آفس میں بیٹھ جائیں گے اور اپنے کمپیوٹر، کیلنڈر اور دن بھر کی میٹنگز شروع کا ایجنڈا وغیرہ دیکھیں گے۔

کوئی اچھی چیز ناشتے میں کھلاؤ یار، یہ کیا ہے؟
دو گھنٹوں کے بعد ”وہ“ نمودار ہوئے اور خستہ حال فرائی انڈوں کی طرف اشارہ کیا
اور آپ کو تو خوش ہو کر ہماری خاطر کرنی چاہیے کہ اب ہم گھر پر رہیں گے،
”ان“ کا لہجہ کچھ فخریہ سا تھا

دل تو چاہ رہا تھا کہ خاطر کریں مگر پھر مجازی خدا کا رتبہ یاد آ گیا تو آنکھوں میں نمی لے کر نیا ناشتہ بنانے لگے مگر اس سے پہلے ٹھنڈے انڈے نگلنا نا بھولے کہ رزق برباد نہیں کرتے۔

گیارہ بجے کے قریب صاحبزادے اٹھ کر نیچے تشریف لے آئے اور صوفے پر نیم دراز فون دیکھنے لگے پھر اٹھ کر ڈائیننگ چئیر پر بیٹھ گئے اور جمائیاں لینے لگے۔ ہم نے مشکل سے طیش کو کنٹرول کیا ہوا تھا۔

ماں ناشتے میں کیا ہے
بیٹا اب بارہ بج گئے ہیں، سیریل وغیرہ کھا لو
نو اماں، پلیز میک فرنچ ٹوسٹ، آئی وانٹ ٹو انجوائے مائے آف ڈیز ناؤ
اور حکم دے کر تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا، پتہ نہیں کیوں اور ایک گھنٹے کے بعد نیچے آیا
یہ کیا ہے؟
فالج زدہ فرنچ ٹوسٹ اپنی ہئیت پر کچھ نہیں کہہ سکتے تھے
یہ فرنچ ٹوسٹ ہیں مگر ڈیڑھ گھنٹے میں ٹھنڈے ہو گئے ہیں، اس لئے ان کو مائیکرو ویو کرو اور کھاؤ
نو میں نہیں کھاؤں گا

اور پھر ٹپ ٹپ سیڑھیاں چڑھ گیا۔ ہم نے بے بسی سے ٹوسٹوں کو دیکھا اور رغبت سے نبیڑ نے لگے کہ رزق کی بے حرمتی ہم کیسے کریں، ان لوگوں کی آنکھوں پر تو چربی چڑھی ہوئی ہے۔ دو بجے تک چائے کا مگ بھی ایک گھنٹے کے وقفے سے ”ان“ کو پہنچانا فرائض میں خود بخود ہی شامل ہو گیا تھا۔

ہاں بھئی لنچ دے دو مگر ذرا جلدی کیونکہ اگلی میٹنگ شروع ہو نے والی ہے
فرینچ ٹوسٹ کا آخری لقمہ مونہہ میں تھا جب ”وہ“ ایک شان بے نیازی سے نمودار ہوئے، نظریں فون پر تھیں
فی الحال کچھ نہیں ہے مگر دونوں باپ بیٹا بتا دیں تو اچھا ہوگا کہ آج کیا پکاؤں
ھم نے اپنے غیض و غضب کو کنٹرول کرتے ہوئے بلا کے شیریں لہجے میں کہا
مطلب، واٹ
دونوں کے منہ سے بے اختیار نکلا
جی ہاں!
اوکے اماں آپ میرے لئے تو بے شک کچھ چائینز بنا لیں، اف یہ میٹنگز!
بیٹی بھی آ کر قافلے میں شامل ہو گئی تھی اور سر دبا رہی تھی (اپنا)

میں چائینز نہیں کھاؤں گا، مجھے پیزا بنا کر دیں، آپ کے پاس فریزر میں ریڈی میڈ پیزا بریڈ ہے، میں نے دیکھی ہے،

سارے فاسٹ فوڈ اور ریسٹورنٹ اگر بند ہیں تو کیا تاوان ہم ادا کریں گے
ہماری آنکھوں میں شاید خون اتر رہا تھا
میں تو کچھ بھی کھا لوں گا، چکن کی کوئی بھی ڈش بنا لو، کوئی پریفرنس نہیں ہے (موصوف گوشت نہیں کھاتے )

مختلف لنچز کا انتطام کرتے ہوئے چار بج گئے اور سب فارغ ہو کر پانچ بجے کھانے پر جو ٹوٹے تو بس کیا کہیں

اف!

ہم نے پسینہ پونچھا اور اطمینان کا سانس لیا کہ یہ بندوبست ٹھیک ہے بس لنچ اور ڈنر ملا کر ”لنر“ ہو جایا کرے گا کیونکہ ورکنگ لوگ دفتروں سے لوٹ کر چھ بجے تک ڈنر کرتے ہیں اور آٹھ بجے تک لائٹس آف کر کے سونے کی تیاری ہوتی ہے بلکہ سو ہی جاتے ہیں۔

سات بجے تک چائے کافی کے راؤنڈ سے فارغ سب ٹی وی کے سامنے بیٹھے خوش گپیاں کر رہے تھے۔ ہم نے اطمینان سے آٹھ بجے لائیٹس آف کرنا شروع کر دیں۔

اماں ہم سب گھر پر ہیں اب، کیوں لائیٹس آف کر رہی ہیں، سونا تھوڑی ہے ابھی
بیٹی نے با آواز بلند احتجاج کیا
ہمیں بے حد شرمندگی ہوئی اس لئے پھر ہم بھی آ کر گفتگو میں شامل کیا ہوئے وقت گزرنے کا پتہ ہی نا چلا۔

نو بجنے والے ہیں اب تو میرا خیال ہے ڈنر کی تیاری ہو تاکہ دس بجے تک فارغ ہوں، اس سے زیادہ دیر مناسب نہیں ہے۔ صبح بہت بزی دن ہے۔

”انھوں“ نے ایک آسودہ انگڑائی لے کر کہا

ہم نے سب کی طرف دیکھا، اصل میں سارا دن ایسے رولر کوسٹر پر گزرا تھا کہ جسمانی تھکاوٹ کے ساتھ ہمیں ایموشنل تھکاوٹ ہو گئی تھی۔

ڈنر مطلب؟
یوں لگا کہ گویا کسی نے ڈنڈا رسید کیا ہو
ٹھیک ہے سب اپنے لیفٹ او ور گرم کریں اور کھا لیں

ہمارے لہجے میں رکھائی اور بے رحمی تھی اور ساتھ ہی ہم نے اٹھنے کوشش کی مگر بیٹی نے گلے میں باہیں ڈال دیں (ہمارے ) جو اس وقت تو ایک پھندا لگ رہا تھا

دال چاول سلاد اچار پلیز اماں اور آپ کے پاس تو دو انسٹا پاٹ ہیں دس منٹ بھی نہیں لگیں گے
سلاد میں بناؤں گی پلیز پلیز
میں آملیٹ روٹی کھاؤں گا
بیٹے نے اعلان کیا
چلو پھر میں بھی دال اور آملیٹ روٹی کھا لوں گا، اب میرے لئے الگ سے کیا بناؤ گی
”انھوں“ نے گویا رحم کھاتے ہوئے کہا۔

وہ دن ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ختم ہوا اور یہ بات ہم پر اچھی طرح واضح ہو گئی تھی کہ کووڈ 19 ہمیں سبق سکھانے والا تھا۔

مگر ایسے نہیں چلے گا اور ہمیں بہر حال کوئی لائحہ عمل بنانا تھا اور پھر دس بارہ دن میں ہم نے اس بحران پر قابو پانا شروع کر دیا۔ ناشتہ اسی وقت بنتا جب متعلقہ امیدوار پہنچتا ورنہ ہر روز رزق کو بے حرمتی سے بچاتے چار ناشتے کرتے ہم نے جلد ہارٹ اٹیک کا شکار ہو جانا تھا (بس اسی بیماری کی کسر باقی ہے ) ۔ فرداً فرداً یہ پوچھنا کہ ”آج کیا پکائیں“ چھوڑ دیا کیونکہ یہ سوال اپنی اہمیت ویسے ہی کھو چکا تھا جب بھلے دنوں میں پوچھنے پر کوئی نہیں بتاتا تھا اور ہم اپنی مرضی کرتے تھے تو بھلا اب کیوں نہیں؟ مگر مشکل یہ تھی کہ اب اس سوال کی نوعیت بدل گئی تھی۔

”آج کیا پکائیں“ کے بجائے اب ”آج کیا پکا رہی ہیں“ یا ”آج کیا کھلا رہی ہیں“ ہو گیا تھا۔

بہت دل چاہتا تھا کہ ایک کورا اور طوطا چشم جواب دیں مگر یہ اپنے پیارے اور جگر کے ٹکڑے جب بھی یہ پوچھتے اور ہم ان کی طرف دیکھتے تو ایک ہی بات مونہہ سے نکلتی

جو آپ کہیں!

اب تو الحمدللہ صورتحال تقریباً نارمل ہے لیکن ورک فرام ہوم اور کلاسز فرام ہوم ابھی اسی طرح ہیں اور ہم خود اس ڈیڑھ سال میں ساری صورتحال سے اس قدر مانوس ہو گئے ہیں کہ لگتا ہے

اب رہائی ملی تو کدھر جائیں گے!

Facebook Comments HS