EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

آپ اپنا ستائیس روپے بچاس پیسے حق مہر اپنے پاس رکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی دل و جان سے عزیز سہیلیوں کے حق مہر کی رقوم کا وعظ سنتے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے شدید آندھی آئی ہو اور سب اڑا کے لے جانے کے بعد تھم گئی ہو۔ دل جیسے زور دار دھماکوں سے پھٹتا جا رہا ہو یا ایک نظام کا لادا ہوا بوجھ ہے جو اٹھانے پر زبردستی مجبور کر دیا گیا ہو۔ غضب خدا کا، نکاح نامہ ہے کوئی طلاق نامہ تو نہیں جس کو لے کر ابہام ہوں۔ حق مہر ہے، قارون کا خزانہ تو نہیں جو زمیں نگل لے گی۔

ہمارے یہاں جیسے خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگہی بڑھ رہی ہے، حقوق نسواں کے موضوعات پر کھل کر گفتگو بھی عام کی جاتی ہے، کم از کم خواتین کی محافل کی حد تک سہی جو کہ خوشگوار ہے۔ اگر خواتین ان امور پر مبحث ہیں گویا یہ بھی کامیابی ہے کیونکہ خود خواتین ہی ان موضوعات پر گفتگو کرنا معیوب سمجھتی ہیں، جس کے بے شمار سماجی اور اخلاقی جواز گڑھے جاتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کی میلاد یا خاص مذہبی ایام کی محافل میں خواتین کو خواتین عالمہ اور ذاکرہ شوہروں کی فرمانبرداری اور تابعداری کے غیر انسانی نسخے دیتی آئی ہیں۔

ان محافل میں ناک کان بال کیسے چھپانے ہیں تو بتایا جاتا رہا ہے مگر کبھی کسی عورت کو یہ نہیں بتایا گیا کہ زندگی بہتر کرنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہیے، ناخنوں پر رنگ تو لگانا حرام بتلایا گیا مگر متشدد شوہر سے زندگی محفوظ کیسے رکھی جائے کوئی بتانے کو تیار نہ تھا۔ ظلم پر صبر و شکر کی تلقین جنت کی آس میں تو سکھائی گئی، مگر ظلم و ستم کی نفی کبھی نہیں بتائی، شوہر کے حقوق بتائے گئے مگر عورت کے حقوق پر خاموشی کو مسیحا گردانا گیا۔

دنیا میں اسلام کا ترقی پسند چہرہ دکھانے کے لئے حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ کی امثال تو دی گئیں مگر مقامی مسلمان عورت کو حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ جیسا بننے سے ہر طرح سے روکا گیا، نہ وہ دین اور دنیا کے امور کی تشریح کے قابل سمجھی گئیں، البتہ مسلمان عورت کو ہی نالائق اور کم عقل ثابت کرنے کی خاطر ہر کہانی بنی گئی جس سے اس کی آواز کو ختم کیا جانا آسان ٹھہرا۔ اسلامی تجارت اور معیشت میں حضرت خدیجہ کا حوالہ تو دیا گیا مگر کسی بھی ایسی عورت جو اپنے پیروں پر کھڑی ہونے کی خواہاں ہوئی کو نفرت، تشدد اور بد کرداری کے دشنام سے شرمایا گیا۔

جن محافل کو عورت کی ترقی اور کامیابی کا ذریعہ بننا تھا، ان کو ہی مسلمان عورت کی سماجی پستی کے لئے استعمال کیا گیا۔ ایسی محافل میں عالمہ سمیت سب خواتین ہی گھریلو تشدد اور سماجی ظلم کی متاثرہ ہوتی ہیں مگر افسوس کا مقام کہ ان محافل کو جو عورتوں کے لئے شعور اور آگہی کا مستند ذریعہ بن سکتی تھیں کو عورت کو مزید لاعلم اور خوف میں مبتلا کرنے کے کام میں لائی گئیں۔ اس معاشرے کی ہر عورت نے ہی جنسی، معاشی، اور گھریلو تشدد اور امتیاز سہا ہے مگر مجال ہے ان محافل میں ان پر بات بھی ہو سکے۔ نکاح، حق مہر اور طلاق جیسے موضوعات پر کبھی ان محافل میں گفتگو نہیں کی گئی اس پیرائے سے جس سے عورت با اختیار ہو سکے، اس کے برعکس عورتوں کو مزید جھکانا اور تشدد سہنا سکھایا جاتا ہے۔ آپ کو اعتراض ہو سکتا ہے مگر حقیقت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

اب چونکہ نوجوان خواتین کے مابین کچھ حد تک حقوق نسواں پر گفتگو ہوتی ہے، نکاح نامے، حق مہر پر معلومات بھی عام کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لڑکیاں اٹھارہ اٹھارہ سال اور کہیں پر پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیمی اسناد حاصل کرنے کے باوجود اپنے ان حقوق بارے کچھ نہیں کر سکتی جن پر ان کو آگہی مل رہی ہے۔ گھر والے بے حد محبت اور رائے کا احترام کرنے والے بھی ہوں گے، مگر بیٹی کو اس کا نکاح نامہ پڑھنے، اس میں ترامیم کرنے کی اجازت تو دور دستخط کرانے کے علاوہ نکاح نامے کا کوئی ورق تلک پلٹنے کی مہلت نہیں دیتے۔

نکاح کے وقت اتنی جلدی نکاح ہو جانے کی نہیں ہوتی جتنی دلہن کے ہاتھوں سے نکاح نامہ نوچنے کی ہوتی ہے۔ عین نکاح کے قریب نکاح نامہ کھنچنے والے مرد حضرات ضرور موجود رہتے ہیں، جو فوراً سے نکاح نامہ لے کر غائب ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی عورت اپنے دینی اور آئینی حقوق کا استعمال نہ کر بیٹھے۔ میرے تجربے کے قریب یہ بہت عام سے سرگرمی ہے جو میں نے متعدد بار دیکھی ہے۔ آخر نکاح نامے میں ایسا کیا درج کیا جاتا ہے جو دلہن کے دیکھنے، پڑھنے اور سمجھنے کے بعد آپ کی اصلیت اس پر کھول کر رکھ دے گی؟

مجھے معلوم ہے سب باپ یا بھائی ایسے نہیں بھی کرتے ہوں گے، مگر مجھے یہ بھی علم ہے کہ یہ زیادتی بہت عام ہے۔ اسی کی وجہ سے اس ملک میں لاکھوں شادی شدہ خواتین نے نکاح سے پہلے، نکاح کے وقت اور نکاح کے بعد اپنا نکاح نامہ دیکھا تک نہیں ہوتا۔ اول تو کسی کم عمر لڑکی یعنی کھلونوں سے کھیلنے والی عمر کی بچیوں کی شادی (جنسی و سماجی زیادتی) سے پہلے نکاح نامے پر عمر ہی سیدھا اٹھارہ برس لکھ دی جاتی ہے۔ جس کو دنیا کی سمجھ بوجھ نہ ہو اس کو بھی ایک کم عمر بچی اور اٹھارہ سالہ بچی میں فرق نظر آتا ہے۔ اٹھارہ سالہ لڑکی کو بچی کہنے کا مطلب یہی ہے کہ اس عمر کے لڑکے لڑکیاں بچے اور بچیاں ہی ہوا کرتے ہیں۔ اس عمر کے اطفال گیارہویں بارہویں کے امتحان کی فکر کرتے اچھے لگتے ہیں نا کہ شادی کی۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ نوجوان لڑکیاں جن کو ان کے حقوق سے مکمل آشنائی ہے، جو مناسب کماتی بھی ہیں، خود کو آزاد اور با اختیار سمجھتی ہیں، مگر ایسا کیا ہے جو اپنا نکاح نامہ اور حق مہر خود طے کرنے کی آزادی نہیں رکھتی؟ اس نظام میں جو کہ حقیقتاً عورت کے خون اور جسم کے ریشوں پر پلتا ہے، ہرگز اپنی بیٹی اور بہن کو ایسے فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دے گا جس سے ان کی خود مختاری اور شخصی آزادی کا شبہ ان کے ہونے والے شوہر یا سسرال پر ہو۔

اس خوف سے بھی کہ بیٹی کی رضا کے مطابق حق مہر مختص کرنا یا نکاح نامے میں ترمیم کرنے سے بارات ناراض نہ ہو جائے؟ سوال تو یہ ہے کہ جو انسان اور خاندان ایسی بات پر ناراض ہو سکتا ہے تو زندگی بھر ایسے لوگ اس لڑکی سے کیسا رویہ روا رکھ سکتے ہیں کوئی کیوں نہیں سوچتا؟ ایسی جگہ بیٹی کی شادی کرنا جہاں دلہا یا سسرال حق مہر کی پانچ دس ہزار کی کمی بیشی پر شادی کا پنڈال چھوڑ کر جا سکتے ہیں وہاں بیٹی کو عمر بھر کے لئے رخصت کرنا کہاں کی محبت اور عقل مندی ہوئی؟ لیکن ٹھہریے، ایسا بے مثال قدم وہ لوگ اٹھائیں گے جو خود اس گناہ سے آلودہ نہ ہوں گے۔

کل کو یہی لوگ کسی اور لڑکی کے ساتھ بھی نکاح اور طلاق کے حقوق پر نکاح نامے میں لکیریں کھینچیں گے۔ یہ ایک ایسی زنجیر ہے جو توڑنے نہیں دی جاتی۔ آج جو ساس ہے، ماضی قریب میں وہ بھی ایک ایسی ہی حقوق سے لاعلم دلہن تھی جس کو اس کی امنگوں کی مطابق حق مہر ملا نہ ہی اپنا نکاح نامہ دیکھنے تک کی آزادی۔ یہ وہ معاشرتی ڈھیل ہے جو پدرشاہی نظام میں افراد ایک دوجے کو دیتے ہیں، جس کی بلی بیٹی بہن کی صورت میں عورت چڑھتی ہے، آج ان کے گھر کی عورت ہے تو کل کو کوئی ان کو اپنے گھر کی عورت قربان کر کے دے گا۔

پھر یہ لوگ تشدد اور صنفی امتیاز پر خوشی کے ڈھول پیٹنے والے سر عام یہ وعظ دیتے ہیں کہ حق مہر مانگنے والی لالچی ہے، لاکھوں کا جہیز نوچنے والے حق مہر کو انا کا مسئلہ بناتے شرم سے ڈوبتے غوطے نہیں لگاتے۔ شروع سے عورتوں کی مذہبی محافل میں عورت کو یہ کہہ کر چپ کرایا جاتا ہے کہ اس کے بہت حقوق ہیں، اور جب رہی سہی تخصیص اور جبر کی زندگی گزارنے کے بعد واحد حق جس کا ان محافل میں خوب پرچار کیا جاتا ہے کو استعمال کرنے کا موقع آتا ہے وہاں دلہن کا حق دلہے اور سسرال کی خواہش کے مطابق طے کر کے عورتوں کے بہت حقوق ہیں کے قالین سے مٹی جھاڑ دی جاتی ہے۔

لاکھوں کا جہیز لینے والا مرد، لاکھوں کمانے والا اتنی غیرت نہیں کھاتا کہ بیوی سے پلنگ اور بستر سمیت سینکڑوں استعمال کی اشیاء نہ لے۔ کہاں جاتی ہے مرد ذات کی غیرت جب سسر کے پیسے اور ساس کی بچت کے خریدے ہوئے پلنگ پر سسر اور ساس کو گالی دے کر لیٹتا ہے؟ خیر یہ نکات تو بہت بوسیدہ ہو چکے، اتنی غیرت اس سماج میں ہوتی تو جہیز کی اشیاء کے بازار ہی آباد نہ ہوتے۔ گریبان چاک تو ان انا پرستوں، دروغ اور خام خیالی کے فرسودہ لحاف اوڑھے لوگوں کا ہونا چاہیے جن کی غیرت ٹھوکریں کھانے کے لائق ہے، جو ہونے والی بیوی سے جہیز تو لاکھوں کا بٹورتے ہیں مگر حق مہر دیتے ان کو سفید پوشی یاد آتی ہے۔ جو حق مہر کو ہی ہتھیار بنا کر اس معاشرے میں عورت کو پیسے کی پجاری اور لالچی ثابت کرتے ہیں۔ بظاہر کچھ عاشق محبت کی شادی تو کر رہے ہوتے ہیں مگر محبوبہ سے حق مہر پر اس لئے الجھ پڑتے ہیں کہ ان سے نا انصافی روا رکھی جا رہی ہے، جیسے مرضی کا حق مہر لکھوانے والی غلط ہو۔

مذہب کے نام پر محبوبہ پر اپنے عقائد کا بوجھ تو ڈالتے ہیں مگر اسی مذہب کے تحت ہونے والی بیوی کو اس کی آرزو کے تحت مہر لینے نہیں دیتے۔ دو لاکھ کا جوڑا پہنے دلہن کو پانچ دس ہزار حق مہر دینے والوں اور لکھوانے والے عزیزوں کو شرم بھی نہیں آتی، انا اور خود پرستی کی بس اونگھ آتی ہے۔ یہ شادیوں پر حق مہر لکھوانے کا ناٹک اگر بند ہو جائے تو دلہن کی توہین کم ہو جائے گی۔ پچاس ہزار کا صرف بناؤ سنگھار کرنے والی دلہن، جس کے پیروں میں جوتے دس دس ہزار مالیت کے ہوں، جس کو فقط سہیلیوں سے سلامی پچاس ہزار اکٹھی ہو اس کو پانچ دس ہزار کا حق مہر دینا اس کے منہ پر تھپڑ رسید کرنے کے علاوہ کچھ نہیں، جس جرم میں اس کے اپنے گھر کے مرد برابر کے ملوث ہوتے ہیں۔ بس بیٹی کا بوجھ سر سے اتر جائے، بیٹی چاہے شادی کے نام پر جہنم میں جائے، مگر جائے سہی۔

آخر میں وہ تمام خود ساختہ مردانگی اور حمیت کے جھروکوں کے مقید افراد جو عورت کے طلاق دینے اور لینے پر حق مہر کی مرد کو واپسی مرد اور پدر شاہی کی جیت سمجھتے ہیں ان کے لئے اتنا ہی عرض ہے کہ جو عورت صرف ایک مرد سے جان چھڑوانے کے لئے وکیل کو لاکھوں دینے پر تیار ہے، وہ ایسے انسان کو نکاح میں دیے گئے حق مہر نما تھپڑ کے پانچ ہزار بآسانی دے دے گی تو اس کی زندگی میں کوئی معاشی روگ نہیں لگے گا۔ آپ اپنا ستائیس روپے پچاس پیسے سے لے کر پانچ ہزار کا حق مہر اپنی جیب میں واپس رکھ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “آپ اپنا ستائیس روپے بچاس پیسے حق مہر اپنے پاس رکھیں

  • 17/06/2021 at 1:42 صبح
    Permalink

    ایک پیر صاحب کا اسی نکاح طلاق اور حق مہر کے موضوع پر تحریر کیا گیا مضمون نظر سے گزرا تھا اس کا ایک پیرا گراف ملاحظہ فرمائیے
    سورة النساء میں ارشاد ہوتا ہے ترجمہ: ” اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں اور صلح خوب ہے ۔“ یعنی ایک عورت اگر اپنے سے اپنے شوہر کو پھرا ہوا دیکھے کہ اس سے علیحدہ رہتا ہے یا کھانے پینے کو نہیں دیتا یا نان نفقہ میں کمی کرتا ہے یا مارتا یا بدزبانی سے پیش آتا ہے اور اس سے دور دور رہتا ہے تو طلاق و جدائی اختیار کرنے سے یہ بات کہیں بہتر ہے کہ عورت اپنے حقوق کا کچھ حصہ شوہر پر معاف کردے ۔ اسے خوش کرنے کے لئے اپنے حق میں سے کچھ چھوڑ دے مثلاً اپنا مہر معاف کر دے ۔ یا اس میں کمی کر دے ۔اپنی باری کا دن دوسری بیوی کو دیدے ۔اپنے مصارف کا بوجھ ہلکا کر دے اور اس طرح باہمی مصالحت اور میل ملاپ کے بعد عورت اسی شوہر کے ساتھ رہے جس کے ساتھ وہ عمر کا ایک حصہ گزار چکی ہے ۔ ازدواجی تعلقات میں تلخی دور کرنے کے لئے یہ ایک ایسا نسخہ ہے جسے شریعت مطہرہ نے عورت کے اختیار اور تصرف میں دیا ۔
    ہم نے یہ سب پڑھنے کے بعد وہاں لکھا کہ مصنف نے سورہء نساء کی ایک آیت کا ترجمہ اور اسکے ذیل میں جو تشریح بیان کی ہے تو دونوں کا آپس میں کوئی ربط نظر نہیں آتا ۔ آیت کچھ اور کہہ رہی ہے اور اس کی تشریح بالکل کچھ اور ۔ یہ سراسر ایک بگڑے مرد کی حوصلہ افزائی اور عورت کو ظلم و زیادتی برداشت کئے جانے پر مجبور کرنے والی بات ہے ۔ ناسازگار و دشوار حالات میں عورت کے معاشی لحاظ سے مستحکم اور خود کفیل ہونے کی ضرورت کو ضروری نہیں سمجھا گیا ۔ بلکہ اس کے لئے ایک کم ظرف شخص کی محتاجی کو ہر قیمت پر قبول کرنے پر زور دیا گیا ۔ ایسی ہی تشریحات و تفاسیر نے عوام الناس میں گمراہی پھیلائی ہے ۔ اگر کوئی شخص کمینے پن پر اُتر ہی آیا ہے تو اب عورت کی کوئی قربانی اور اپنے شریعت کے عطا کردہ حقوق سے دستبرداری بھی اس کو راہ راست پر نہیں لا سکتی ۔ خصوصاً مہر معاف کئے جانے کے بعد تو وہ کسی بھی لمحے اسے طلاق کا تمغہ عطا فرما کے چلتا کر دے گا ۔ بعض حالات میں مہر ہی مرد کے پیروں کی زنجیر بنتا ہے اور اگر وہ طلاق کے ساتھ مہر کی بھی ادائیگی پر قدرت رکھتا ہے تو ایسی صورت میں کم از کم ایک مالی حد تک تو عورت کی اشک شوئی ہو ہی جاتی ہے ۔ اور ہمارے معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں عورت کا شوہر سے مہر طلب کرنا کسی گالی سے کم نہیں سمجھا جاتا ۔ بلکہ فرض کر لیا گیا ہے کہ مرد پر بیوی کے مہر کی ادائیگی صرف طلاق ہی کی صورت میں ضروری ہے ۔ عام حالات میں مرد بیوی کے اس حق کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔ اور بہت سے خبیث فطرت لوگ بیوی سے جان مفت میں چھڑانے کے لئے جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ وہ عاجز ہو کر خلع حاصل کر لے اور یہ بےغیرت اس کا مہر ادا کرنے سے بچ جائیں ۔ اور جہاں شادی کے موقعے پر مہر صرف رسمی طور پر بہت ہی قلیل مقدار میں مقرر کیا جاتا ہے تو آپس میں نبھاؤ نہ ہونے کی صورت میں طلاق عورت کو کسی حلوے کی طرح تھالی میں رکھ کر ملتی ہے ۔ کچھ مشہور زمانہ دینی کتب میں مردوں کی بھی کچھ تربیت سے زیادہ صرف عورت کو غلام بن کر رہنے کے طریقے درج ہیں ۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اچھی بیٹیاں کبھی مہر کا لفظ بھی زبان تک نہیں لاتیں ۔ جناب جو اچھے بیٹے ہوتے ہیں وہ انہیں اتنا موقع ہی نہیں دیتے وہ بیوی کو عزت اور محبت دینے کے ساتھ ساتھ ان کا حق مہر ان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی خوشدلی سے ادا کرتے ہیں ۔ اور یہی تصویر کا دوسرا رخ ہے ۔
    پیر صاحب نے ہماری بات کا کوئی جواب نہیں دیا جو یقیناً ان کی اخلاقی ذمہ داری تھی اس سے باقی لوگوں کی بھی تشفی ہوتی اور ان کا بھی اشکال دور ہوتا ۔ ابھی ہمارے لیے یہ ستائیس روپے پچاس پیسے حق مہر والی بات بالکل نئی ہے ورنہ اب تک تو سوا بتیس روپے ہی سنتے آئے تھے خیر جو بھی ہو شریعت نے مرد پر عورت کا یہ حق اسے عزت اور تحفظ دینے کے لئے رکھا نا کہ اسے سوا بتیس روپے میں دو کوڑی کا کر کے رکھنے کے لئے ۔ پتہ نہیں برصغیر میں کون لایا تھا یہ دور کی کوڑی؟ باقی شادی کے موقع پر بارات والے دن دلہن کا پچاس ہزار کا میکپ والدین کی طرف سے ہوتا ہے تو لاکھوں کا جوڑا زیور اور دیگر لوازمات دولہا والوں کی طرف سے ہوتے ہیں ۔ پھر ولیمے کا جوڑا اور کھانا ۔ اسی طرح لڑکی کے والدین پر جہیز اور بارات کے کھانے کا خرچہ ، غرض بوجھ تو دونوں ہی طرف تقریباً یکساں ہی پڑتا ہے پھر طرح طرح کی رسومات و خرافات پر اندھا دھند خرچہ کرنے کے بعد ساری شریعت کی تان حق مہر پر آ کر ٹوٹتی ہے ۔
    (رعنا تبسم پاشا)

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے