EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

رہبر کا منتظر انقلاب

عاصمہ شیرازی - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 2002 میں پارلیمنٹ کی رپورٹنگ شروع کی تو سیاسی افق پر جنرل مشرف کا سایہ تھا۔ بہت مضبوط، طاقت ور حکومت اور بظاہر تعداد میں بڑی اپوزیشن۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ 16 نومبر 2002 کو اسمبلی کی حلف برداری کی تقریب میں دائیں ہاتھ کی پہلی نشستوں پر حروف تہجی کے اعتبار سے عمران خان بیٹھے تھے۔

قومی اسمبلی میں ان کی صرف ایک نشست تھی۔ کبھی پارلیمنٹ میں آتے تو ہم جیسے رپورٹر ان کے ارد گرد ہوتے اور مختلف موضوعات پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کرتے۔ اس کے علاوہ ان کی قومی اسمبلی میں کوئی خاص شرکت نہ تھی۔ نہ ہی کبھی کوئی بل، نہ کسی قسم کا کوئی احتجاج۔۔ بس کبھی کبھار کوئی ایک تقریر اور وہ بھی مہینوں بعد۔

پیپلز پارٹی میں سے پیٹریاٹ وجود میں آ چکی تھی۔ مخدوم امین فہیم مرحوم پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میں تھے۔ پیپلز پارٹی کو توڑ دیا گیا اور راؤ سکندر اقبال کی سربراہی میں پیٹریاٹ نے الگ گروہ بنا لیا جس کی حمایت سے میر ظفراللہ جمالی کی کمزور حکومت اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی الگ الگ نظریات اور روایتی حریف ہونے کے باوجود نوابزادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں بحالی جمہوریت کی تحریک میں شامل تھیں۔ ایک نکاتی ایجنڈا صرف جمہوریت کی بحالی تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اے آر ڈی بھرپور احتجاج کرتی۔ اعتزاز احسن اور چوہدری نثار سب ایک صفحے پر تھے۔۔ نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان اور قومی اسمبلی میں کمی ضرور محسوس ہوتی تاہم ان کے رہنما اپنا اپنا حصہ ضرور اور بھرپور ڈالتے۔

ایک طرف خواجہ آصف، اعتزاز احسن، حافظ حسین احمد، محمود خان اچکزئی جیسے سینئر سیاستدان تو دوسری جانب شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور، خواجہ سعد رفیق اورحیدر عباس رضوی جیسے نوخیز سیاست دان خطیب مکمل تیاری کے ساتھ پارلیمان آتے۔

پریس گیلری میں بیٹھ کر ہم نہ صرف ان سے سیکھتے بلکہ فخر محسوس کرتے کہ ہمارے پاس اجتماعی دانش کے کیا کیا دماغ موجود ہیں۔

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بجٹ سیشن میں بحث کا آغاز ہوا ہو اور قائد حزب اختلاف کو تقریر کرنے سے روک دیا گیا ہو اور اتنی بڑی اپوزیشن خاموشی سے اٹھ کر چلی جائے۔ نہ ایوان میں آواز، نہ لابی میں احتجاج، نہ پارلیمان سے باہر کوئی شور، نہ پریس کانفرنس۔

اسی دور میں آج یہ بھی ہوا کہ شہباز شریف کی تقریر خود سپیکر قومی اسمبلی نے یہ کہہ کر روک دی کہ آئیے پہلے ایوان کا ضابطہ اخلاق طے کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ کسی زمانے میں قومی اسمبلی اجلاس سے پہلے ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں یہ معاملات طے پایا کرتے تھے۔ اجلاس مؤخر ہونے سے ملتوی ہونے تک کیا کیا طے پایا کسی کو معلوم نہیں۔

تعداد میں بڑی اپوزیشن مگر منقسم ایسی کہ گنتی میں ہی نہیں۔ اپوزیشن کی تقسیم کا انتظام پارلیمان سے باہر بیٹھے رہنماؤں نے کیا تو تدفین کا کام اندر بیٹھے رہبرین کر رہے ہیں۔

بار بار ذہن جنرل مشرف کی ایل ایف او پر چلنے والی اسمبلی پر جاتا ہے کہ ڈبیٹنگ کلب ہی سہی کم از کم پارلیمان میں تقریریں تو ہو جاتی تھیں اور اپوزیشن کا بحالی جمہوریت کا کم از کم ’ایک بیانیہ‘ تو تھا۔

پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم وہ اہم مقام ہے جس کی آواز پوری دُنیا میں گونجتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی خوش نصیبی کہیں یا اُن کی کم از کم اپنے بیانیے پر سچائی سے ثابت قدمی کہ روزانہ کی بنیادوں پر اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا میں ناقدانہ آوازوں کو زیر کرنا اب تک اُن کی سب سے اہم اور کامیاب پالیسی ہے۔

کمال تو یہ ہے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے پاس بیانیے کے لیے اب دو چار الفاظ بھی نہیں رہے۔ جماعت کے اندر کی تقسیم کے باعث اہم معاملات پر متفقہ موقف کیا ہے کسی کو معلوم نہیں۔

امریکی اڈوں کے بارے بحث ہو یا اوورسیز پاکستانیوں کے حق رائے دہی کا معاملہ، کشمیر پالیسی کی بات ہو یا حکومت کے جانب سے غیر اعلانیہ اور اچانک قانون سازی۔۔۔ پارلیمان میں قانون سازی کو روکنے کا لائحہ عمل ہو یا آٹھ بجے سے بارہ بجے کے ٹاک شوز یا پھر پارلیمان کی راہداریاں۔۔۔ مسلم لیگ ن کے رہنما صحافیوں سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ ان کی جماعت میں ہو کیا رہا ہے۔

الگ الگ موقف اور منقسم لائحہ عمل نے جہاں اپوزیشن کو کمزور کیا ہے وہیں عوام بھی کنفیوژن کا شکار ہیں کہ ان کی آواز ہے کہاں؟ ٹف ٹائم دینے والی اپوزیشن اب بھی سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت ہے اور چاہے تو من مانی قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے مگر فروعی اختلافات بڑے مقاصد کی راہ میں حائل۔

طاقت کے مراکز سے قربت کی کوشش پیپلزپارٹی کرتی ہے تو نواز لیگ بھی کم کوششوں میں نہیں۔۔۔یوں انقلاب کہیں رہبر کے انتظار میں ہے۔

مختلف مسائل پر مسلم لیگ ن کی سرسری مخالفت کہیں کسی ’ڈیل‘ کا حصہ تو نہیں؟ پی ڈی ایم کو غیر ضروری طعنوں کے باعث جس طرح توڑا گیا اب شہباز شریف کوشش کر بھی لیں تو بھی شاید بہت دیر ہو چکی۔ پی ڈی ایم کے اتحاد نے جس طرح حکومت کو ٹف ٹائم دیا اب اُس وقت کا واپس لوٹنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

جمہوری پارلیمانی نظام میں حزب مخالف کا کردار متبادل حکومت کا ہوتا ہے۔ حکومت سے باہر سیاسی جماعتیں حکومتی پالیسیوں کے مخالف لائحہ عمل وضع کرتی ہیں اور عوام کو اپنے پروگرام سے آگاہ کرتی ہیں۔

جب سے پی ڈی ایم کی موت ہوئی ہے کیا پارلیمان کے اندر یا باہر کوئی احتجاجی پروگرام سامنے آیا ہے؟ کیا کسی احتجاجی تحریک کی تیاری ہے؟ کیا کسی موقع پر طلبا تنظیموں، مزدور یونینوں، سول سوسائٹی، وکلا اور میڈیا تنظیموں سے رابطہ کیا گیا ہے؟ عوامی رابطہ مہم کے لیے حالات سازگار نہیں تو پارلیمنٹ کے اندر عوامی نمائندگی کی کیا پالیسی اختیار کی گئی ہے؟

شدید دباؤ کا شکار پارلیمانی نظام اور دن بہ دن کمزور ہوتی سیاسی جماعتوں نے آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کا تحفظ نہ کیا تو آنے والا وقت کسی صورت کسی کو معاف نہیں کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •