EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

لاہور واقعہ: چند توجیہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مدرسہ منظور الاسلامیہ لاہور کے مدرس مفتی عزیز الرحمن کے حوالے سے وائرل ویڈیو پر تبصرے اور تجزیے جاری ہے اور خود مفتی منظور نے وضاحت بیان کرتے ہوئے اسے مدرسہ منتظمین کے ساتھ چپقلش، رنجش اور ان کی طرف سے سازش قرار دیا اور کہا ہے کہ وڈیو بنانے سے پہلے ان کو چائے میں نشہ اور چیز پلائی گئی جس سے میں ہوش و حواس کھو بیٹھا اور میں نے جو کچھ کیا ہے ہوش و حواس میں نہیں کیا ہے۔ اگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ ضرور گزارش کریں گے کہ اب جبکہ انہوں نے مدرسہ کے ایک دوسرے استاد قاری سید رسول پر بد کرداری کا الزام لگایا ہے تو وفاق المدارس العربیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہمہ پہلو غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور جن پر جرم ثابت ہو جائے ان سے مدرسے کو پاک کیا جائے اور خود پرچہ درج کروا کے قانون کے مطابق انھیں سزا دلوانے کی بھرپور کوشش کر کے ایک مثال قائم کر لے۔ افراد کے مقابلے میں اداروں کے تقدس کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔

ایسے مکروہ واقعات کی کوئی صفائی پیش کرنا بھی قابل افسوس ہے جبکہ ایک آدھ واقعات کی آڑ میں اہل دین اور مدارس کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کرنا بھی قرین انصاف عمل نہیں۔

ہمارے نزدیک قابل توجہ نکات یہ ہیں۔

انسان بنیادی طور پہ کمزور ہے اور خطا کا پتلا ہے اس لئے نہ اسے خود پارسائی کے زعم میں مبتلا ہو کر تقوی کے تکبر کا شکار ہونا چاہیے اور نہ اسے فرشتوں کی صف میں لا کھڑا کر کے اس کی پوجا کرنا چاہیے۔ انسان کی حیثیت کے مطابق شیطان اس پر حملہ اور ہوتا ہے اور اسے ورغلانے اور گمراہ کرنے کی ہر ممکن جتن کر لیا کرتا ہے۔ ”تلبیس ابلیس“ میں بہت ساری چیزیں دیکھنے کو ملے گی۔ بس اللہ تعالی کی فضل وکرم ہی سے شیطان سے حفاظت ممکن ہے۔

مدارس کوئی الگ جزیرے نہیں بلکہ اس معاشرے کا حصہ ہے۔ معاشرہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو اور فحاشی و عریانی کی سیلاب جو بزور میڈیا مسلط کرنے کی کاوشیں ہیں کے سبب جنسی فرسٹریشن سے دوچار ہو تو اس کے اثرات سے اس کا بچنا مشکل ہی ہوگا۔ کوئی نہ کوئی اثر تو ضرور ہی پڑے گا۔

مدارس دراصل علم کو پھیلانے، دین کی تحفظ کرنے اور معاشرے کی اصلاح اور تعمیر جیسے اہم ترین فریضہ کی تکمیل کے آرزو مند اور ذمہ دار ہیں اور یہی اس کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ اس بنا پر اہل مدارس کو اسی اہمیت اور حساسیت کی پیش نظر اپنے ماحول کی پاکیزگی اور حیثیت کی تحفظ کا خیال بدرجہ اولی رکھنا فرض ہے۔ محض توبہ استغفار کی تلقین اور واقعات کی تاویلات، توجیہات اور صفائیاں پیش کرنے کی بجائے چیزوں کا ادراک بھی ہونا چاہیے اور بروقت تدارک اور اصلاح احوال کی منصوبہ بندی بھی کرنی چاہیے۔

اہم ترین توجہ یہاں تربیت کی جانب مبذول کرانا اور اسے ترجیح میں رکھ  کر ٹھوس منصوبہ عمل تشکیل دینا وقت کا اولین تقاضا ہے۔ علوم و فنون میں مہارت اور حفظ قرآن کی اپنی اہمیت ہے لیکن قرآن و احادیث کو بغرض تربیت نصاب کا حصہ بنانا اور معاشرتی و سماجی اقدار، آداب اور روایات اور انسانی نفسیات سے مکمل اگاہی ناگزیر ہے۔ علم کے ساتھ تربیت نہیں تو معرفت رب اور خود آگہی کہاں سے حاصل ہو پائے گی۔

ایسے ادارے جہاں دوسرے مسلک، فرقے اور فکر کے علماء تک سے بغض و کینہ کا اظہار ہو، باقاعدہ تحریف شدہ اور من گھڑت اسباق کی پڑھائی ہو اور جھوٹ، بہتان اور الزامات تک لگانے میں کوئی ہچکچاہٹ اور جھجک محسوس نہ ہو تو وہاں اخلاقی گراوٹ کے آثار کا ظاہر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوگی۔ ماہرین نفسیات اور تعلیمات کے نزدیک اخلاقیات ایک مربوط عمل ہے۔ کسی ایک لحاظ سے کمزوری پورے عمل کو خراب کرتی ہے۔ رزائل کا جمع ہونا اخلاقیات کے پناہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ تربیت کا تقاضا ہے کہ اخلاق کی ہمہ پہلو پاکیزگی ہو۔

کوئی غلط کام، کوئی گناہ اور کوئی قبیح فعل خواہ دانستہ ہے یا نادانستہ بہر حال قابل نفرت ہے اس کی کوئی توجیہ کرنا درست عمل نہیں لیکن ایسے کسی واقعے کی روشنی میں شعائر اسلام، اہل دین، مراکز دین اور اداروں کو مطعون ٹھرانا، اسے بے توقیر کرانا اور منفی پروپیگنڈا کرنا بھی کوئی خیر کا کام نہیں اور خاص کر ان لبرل اور دین بے زار لوگوں کی جانب سے جن کے نزدیک ”زنا بالرضا اور ہم جنس پرستی“ انسان کی اپنی آزادی، خود مختاری اور بنیادی انسانی حقوق ہے، اس طرح کے کسی شاذ واقعے پر آسمان سر پر اٹھانا کریہ عمل ہے اور سراسر تعصب، بغض اور نفرت کی علامت ہے۔

گناہ کو گناہ کہنا درست لیکن اس کی اڑ میں اپنی خباثت کا اظہار کرنا قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔
خاوندان جبہ و دستار سے گزارش ہے کہ علم تو ظرف عطا کر لیتا ہے، تہذیب سکھاتا ہے، پاکیزگی اور تقوی کا درس دیتا ہے اور رب سے خصوصی تعلق، سپردگی اور اس کے تقاضے پورے  کرنے کا راستہ دکھاتا ہے، لہذا اس جانب توجہ دینا رب کی رحمتوں، برکتوں، فضل وکرم اور تائید و نصرت کا یقینی ذریعہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے