پیارے ابو

پیارے ابو

میں کئی دن سے آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہوں، آپ اکثر خوابوں میں آ کر کبھی مجھے میوے دے کر جاتے ہیں تو کبھی میری روح کے شہر پنڈی میں میرے لئے خوبصورت سا گھر خرید کر اس کی چابیاں اور فائل دے کر خود مختار بننے کی نصیحت کر کے جاتے ہیں، تو کبھی 23 مارچ کی پڑیڈ دیکھا نے پنڈی لے جاتے ہیں، ارے یوم پاکستان کے حوالے سے یاد آیا، ابو آپ کی حب الوطنی کی تو میری آنکھیں گواہ ہیں، پیارے ابو آپ تو 23 مارچ، 14 اگست، چھ ستمبر، قائداعظم ڈے یعنی مذہبی سے لے کر ان قومی تہواروں کو بھی بہت جوش و جذبے سے منایا کرتے تھے۔

آپ نمازوں میں پاکستان کے استحکام، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی مغفرت اور افواج پاکستان کی سر بلندی کی دعائیں کیا کرتے تھے، ابو آپ اتنے پاکباز تھے کہ کبھی اپنی بھاوج کو گلے سے بے حد قریب لگا کر بوسے نہیں لیا کرتے تھے، ابو آپ اتنے نیک تھے کہ کبھی اپنی کسی بھاوج یا کسی سالی کے ساتھ عالم تنہائی میں نہیں پائے گئے، ابو آپ نے آج تک اپنی کسی سالی کو نہ گلے سے چمٹایا نہ اس کے ماتھے، گال اور پاؤں کے بوسے لئے، ابو آپ اتنے پر وقار تھے کہ میں نے کبھی آپ کی بہنوں نے کبھی آپ کی نگاہوں کو کسی خاتون کے لئے للچایا ہوا نہیں پایا۔

ابو آپ اتنے اعلی تھے کہ آپ نے اپنے بیوی بچوں کو اپنی محنت کی کمائی کے گھر میں رکھا جبکہ ہماری دادی کا گھر بھی تھا مگر آپ نے اپنی بیوی اور بچوں کی عزت کو مجروح ہونے سے بچانے کے لئے اپنا گھر لیا جو اتنا بڑا تھا کہ دو حصوں کا کرایہ بھی آتا تھا، ابو آپ نے کبھی اپنے باپ کی کمائی پر اپنے بیوی بچوں کو نہیں پالا، پیارے ابو آپ گاہے بگاہے اپنی بہنوں، بہنوئیوں اور ان کے بچوں کی بھی دیکھ بھال کرتے تھے، اچھے ابو آپ کبھی اپنے بھائیوں سے بھی غافل نہیں رہے۔

آپ اپنی بہنوں کو اتنا چاہا کرتے تھے کہ کبھی انہیں غیر مردوں کے سامنے کپڑے اتارنے والی نہیں کہا، کبھی اپنی بہنوں کو ناجائز تعلقات والی نہیں کہا، مجھے یاد ہے جب دادا دادی کی زمین اور باغ فروخت ہوا آپ نے اپنی بہنوں کو ان کا حصہ دیا آپ نے ہرگز نہ تو خود کہا نہ اپنی ماں سے کہلایا کہ ان سے بولو یہ اپنا حق میرے بیٹے کو سونپ دیں، ابو آپ نے کبھی اپنی پھوپھی کو گالیاں نہیں دیں۔

ابو آپ نے کبھی اپنی کسی پھوپھی کا برقعہ پھینک کر اسے گھر سے نکال جانے کا نہیں کہا، ابو آپ بہت اچھے تھے، ہر رشتے کو اس کا مان دینے والے ہر معیار پر پورا اترنے والے، جب ہی آپ کی شخصیت میں وقار تھا دبدبہ تھا، ابو آج جب چھپکی جیسی شخصیت کے مالک کے منہ سے بانی پاکستان، ریاست و افواج پاکستان کو گالیاں اور بددعائیں دیتے، غیر عورتوں کو دبا دبا کر گلے لگاتے، پھوپھی کو سخت الفاظ اور باپ کی دشمن کا بے بنیاد طعنہ دیتے، اسے گھر سے نکالنے کا کہنے والے، بھائی کے گھر کا دروازہ بہن پر بند کرنے والے سے، بھائی کی عزت کو بھائی کی غیر موجودگی میں خود سے لپٹانے والے۔

سالیوں کے بوسے لینے والے، باپ کی جائیداد پر مکمل قابض اور بہن پر کو غیر مردوں کے سامنے کپڑے اتارنے اور ناجائز تعلقات قائم کرنے والی جیسے غیر اخلاقی اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے والے کے منہ سے جب یہ سنتی ہوں کہ وہ آپ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اللہ کی قسم دل پاش پاش ہوجاتا ہے، ابو آپ تو صاحب کردار تھے یہ کیسے گندے لوگ آپ سے اپنے کو جوڑ رہے ہیں۔

ابو آپ نے مجھے بہت آسائش بھری زند گی سے مزین کیا تھا ابو میں آپ کی اکلوتی بیٹی تھی اور ہوں آپ کہا کرتے تھے کنول کا مجھ پر حق بیٹوں جیسا ہے، کاش آپ میرا گھر بساتے جاتے یا پھر کبھی مار لیا کرتے، کبھی گندی گالیاں دے لیا کرتے کیونکہ ابو بیٹی صرف باپ کی شہزادی ہوتی ہے باپ کے بعد اس کا راج تاراج ہوجاتا ہے، ابو باپ کے بعد باپ کا بیٹا اس شہزادی کو بہت مارتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ جو وہ کہہ رہا ہے اسے درست کہا جائے۔

باپ کے گھر میں بہن کو ایسے رکھا جائے جسے وہ باپ کے بیٹے کے گھر میں ہے مگر باپ کی لاڈلی اپنے باپ کے بتائے اصولوں کے مطابق با اصول اور نڈر ہوتی ہے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غلط کو غلط کہتی ہے، ابو پھر وہ بہت پٹتی ہے، ابو باپ کے بیٹے کی اولادیں اس کی شادی نہ ہونے کو اس کی بد اعمالی کی سزا کہتی ہیں، اس کی لاش روڈ پر رکھنے کفن اور فاتحہ نہ پڑھنے کی بد دعائیں دیتی ہیں، گندی عورت کہتی ہیں، باپ کے پوتی، پوتا غرا کر آستینیں چڑھا کر آتے ہیں، گھور کر دیکھتے ہیں۔

تجھے میں مار دوں گی کی دھمکیاں دیتی ہیں، ابو اس باپ کے بیٹے کی بیوی جس کے کردار کے جھول کے بارے میں باپ کی شہزادی جانتی ہے کہ وہ کتنی بار اپنے شوہر کو دھوکا دے کر اپنے مرد دوستوں کے ساتھ وقت گزار چکی ہے، شوہر کی غیر موجودگی میں کتنے گرم انڈے کھلا چکی ہے، شوہر کی کمائی سے کتنے تحائف دے چکی ہے ابو وہ عورت تک، اسے روڈ پر بیٹھنے کی بددعا دیتی ہے اپنے لے پالک بچوں سے حسد کرنے والی کہتی ہے ابو حیرت ہوتی ہے اس عورت کو یہ خیال نہیں آیا کہ جس پر میں چڑھ رہی ہوں وہ لڑکی میرا سارا ماضی جانتی ہے۔

ابو شاید اسی خوف سے وہ عورت ایک بار باپ کی لاڈلی کا گلہ دبانے کی بھی کوشش کرتی ہے، پیارے ابو، اس ساری صورتحال سے نبرد آزما ہو کر باپ کی شہزادی ہراساں ہوجاتی ہے، گھبرا جاتی ہے، پریشان ہوجاتی ہے، اپنے گھر کی چھت پر بیٹھ کر بہت روتی ہے ہے، سسکتی ہے، ابو، باپ کی شہزادی کا باپ تو اسے پھول بھی نہیں مارتا، باپ کے بعد جب اسے جوتے پڑتے ہیں، اس کے بال نوچے جاتے ہیں، اس کا بازو موڑا جاتا ہے، اس کا گلہ دبا جاتا ہے، اس کی کمر پر مکے مارے جاتے ہیں تو اس کا جسم بہت دن تک درد کرتا ہے۔

ابو بس آپ دعا کرنا جو باپ اپنی بیٹی کا گھر بسانے سے قبل دنیا سے چلے جاتے ہیں رب کریم ان لڑکیوں کا نصیب جلد از جلد کھولے وہ شاد و آ باد رہیں، ابو اپنے باپ کے گھر میں اپنے کی باپ کے بیٹے سے مار کھانا اس کے گندے الزامات سنا اس کی اولادوں اور بیگمات کے طعنے، بددعائیں اور دھمکیاں سنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے، اچھے ابو آپ دعا کرنا اللہ باپ کی شہزادی کے من پسند شہزادے کو اس کے حق میں بہترین کردے تاکہ اس کا وہ راج اسے مل جائے جو 18 سال قبل تاراج ہو گیا تھا الہی آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words