سات بہادر خواتین

ہو سکتا ہے آپ ان سات خواتین سے واقف نہ ہوں، نہ آپ کو ان کے کام کا علم ہو نہ نام کا، نہ تحریر نظر سے گزری ہو نہ تصویر سے شناسائی ہو، نہ آواز سنی ہو نہ آہنگ سے واقفیت ہو لیکن اس کے باوجود میری اس بات پر یقین کیجیے کہ ابصار فاطمہ، ثروت نجیب، سمیرا ناز، صفیہ شاہد، فاطمہ عثمان، فرحین خالد اور معافیہ شیخ اس دور کی سات بہادر خواتین ہیں۔ ان کی دلیری کی دلیل ان کی تحریریں ہیں۔ اس دور تاریک میں جہاں قدم قدم پر نت نئے فتوے عورت کی راہ میں حائل ہیں، جہاں نسواں کا مصرف صرف ایک ہی بیان کیا جاتا ہے، جہاں برابری کا حق تو کجا زندگی کا حق میسر نہیں ہے، ایسے ماحول میں ”چپ“ کو توڑنا، حرف سے احتجاج کرنا، لفظ سے اپنے آپ کو تسلیم کروانا شجاعت کا ایک کارنامہ ہی تو ہے۔

میری لائبریری میں روز بہ روز ان کتابوں کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن پر منصفین کرام کی خواہش ہے کہ میں ریویو لکھوں۔ یہ خواہش بہت جائز خواہش ہے اس لیے کہ اس دور میں کتاب لکھنا بہت جان جوکھوں کا کام ہے، کتاب پڑھوانا اس سے بھی مشکل ہے، ایسے میں اگر آپ کسی کتاب پر کچھ لکھ دیں اور اس تحریر سے اس کتاب کی طرف لوگوں کا میلان ہو جائے تو اس میں قطعاً کوئی بری بات نہیں ہے۔ طیش اس بات پر آتا ہے کہ کچھ کتابیں صرف اس لیے لکھی جاتی ہیں کہ ان پر ریویو کی فرمائش کی جا سکے ایسے میں مصنف کا دل بھی نہیں توڑا جا سکتا ہے اور قلم سے غلط بیانی بھی نہیں کی جا سکتی۔ ہر روز ڈاکیہ مختلف شہروں کے لکھاریوں کی کتابوں کا ایک ڈھیر گھر پر چھوڑ جاتا ہے، اس انبار میں اضافے سے کاندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور بسا اوقات تو کتاب محکمہ ڈاک کے خلاف تادیبی کارروائی کا خیال بھی آتا ہے۔ آج اس انبوہ بے وجہ میں ایک ایسی نادر کتاب ملی جس پر لکھنے کا دل چاہا، اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں سارا کمال مصنفین کا ہے۔

”گونجتی سرگوشیاں“ خیال سے لے کر تحریر تک ایک منفرد تجربہ ہے۔ اس میں سات خواتین افسانہ نگاروں کے پینتیس نئے افسانے پیش کیے گئے ہیں۔ اس کو فرحین خالد اور صفیہ شاہد نے بڑے اہتمام سے مرتب کیا ہے۔ ان سات گم نام افسانہ نگاروں کا تعلق مختلف علاقوں سے ہے لیکن ان سب میں دکھ کو محسوس کرنے کی اہلیت ایک سی ہے۔ انسانی جذبات کی جزئیات کی طرف ان افسانوں میں جس طرح نشاندہی کی گئی ہے وہ بہت واضح اعلان ہے کہ اس دور کی عورت اظہار میں کسی سے کم نہیں، نہ وہ خوف زدہ ہے، نہ مرعوب ہے، نہ بہکی ہوئی ہے، نہ بھٹکی ہوئی ہے، نہ کم عقل ہے، نہ خود کو کم تر سمجھتی ہے ؛ وہ فطین بھی ہے اور ذہین بھی، اظہار بھی کرنا جانتی ہے، حرف کی شناخت بھی اسے عطا ہوئی ہے، محبت کا جذبہ بھی ملا ہے، نفرت کے خلاف احتجاج کی صلاحیت بھی ودیعت ہوئی ہے۔

کہانی بہت عجیب کیفیت کا نام ہے، یہ کاوش سے نہیں ملتی بس عطا ہوتی ہے۔ ان پینتیس کہانیوں میں موضوعات کی ندرت بھی ہے اور زبان و بیان کی خوبی بھی۔

میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اس مختصر تحریر میں ہر کہانی کا تعارف کروا پاؤں لیکن کہانیوں کے تعارف سے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ”گونجتی سرگوشیاں“ وہ کتاب ہے جس پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، یہ مجموعہ اس دور کی شناخت ہے، تاریخ ہے، اس عہد پر تبصرہ ہے، اس زمانے کی کہانی ہے۔

ابصار فاطمہ کا تعلق سکھر سے ہے، ان کا افسانہ ”کنوار دلہن“ نسوانیت کی توہین کے موضوع پر روح کو جھنجوڑ دینے والا افسانہ ہے، یہ بیان کرتا ہے اس سوچ کو جو جہالت، لالچ اور ہوس میں رشتوں کی دھجیاں بھی اڑا دیتی ہے، جہان ننھی منی کونپلوں کو نکاح کے نام پر بوڑھوں کے ہاتھ بیچ دیا جاتا ہے، اس رسم کو گوٹھ میں پراجیکٹ کا نام دیا جاتا ہے۔

ثروت نجیب کا تعلق افغانستان سے ہے، ان کے لہجے میں فارسی کی جھلک ان کی تحریر کے لطف کو دوبالا کر دیتی ہے، ان کا افسانہ ”ایلے سارینا“ ایک نمائندہ افسانہ ہے، افغانستان اور کابل جو عرصہ دراز سے بڑی طاقتوں کی ہوس کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، وہاں آگ اور خون سے لتھڑی ہوئی کہانیوں نے جنم لیا ہے، ماؤں کے سینے میں اولاد کے دل دھڑکتے ہیں اور ان کا اپنا دل اولاد کی مٹھی میں ہوتا ہے جیسے ایلے کی ماں حماسہ کا دل۔ خانم سرینا جان ( ایک رقاصہ ) اور ایلے کے کرداروں سے افغانستان کے بارود سے اڑتے ہوئے بچوں، بکھرے انسانی اعضاء، کھنڈر بنتی بستیوں اور ناکام عشق و محبت کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔

سمیرا ناز کا تعلق اسلام آباد سے ہے، ان کا افسانہ ”سوڈے کی بوتل“ ایک عام سی بات سے شروع ہو کر ایسے خونچکاں موڑ پر قاری کو لے جاتا ہے کہ جہاں انجام پر سب الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں۔

صفیہ شاہد کا افسانہ ”طیب“ اس بے معنی دو رخی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اب ہمارے لیے معمول ہے، مرد کی سرشت اور عورت کی فطرت کا اظہار اس مختصر افسانے میں بہت خوبی سے ہوتا ہے۔

فاطمہ عثمان کا تعلق اسلام آباد سے ہے، ان کا فسانہ ”اجالوں کا اندھیرا“ ایک بہت منفرد کہانی ہے۔ یہ وہ بے باک موضوع ہے جس پر تحریر کی جرات کم ہی لوگوں کو ہوتی ہے۔ فاطمہ عثمان نے اس موضوع کو جس سہولت سے نبھایا، اس سے ان کے ایک افسانہ نگار کے طور پر تابناک مستقبل کی نشاندہی ہوتی ہے۔

فرحین خالد کا افسانہ ”در زنداں نہ کھلا“ اس تکلیف دہ کیفیت کو بیان کرتا ہے جس میں زندگی موت سے ہمکنار ہونے سے پہلے کی اذیت میں دو چار ہوتی ہے، اس مرحلے کی اذیت اگر طویل ہو جائے تو زندہ رہنے والے بھی مر جاتے ہیں۔

معافیہ شیخ افسانے کی دنیا میں ایک نیا نام ہے لیکن ان کی تحریر میں جو پختگی ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ ان کا افسانہ ”رقص“ اس عورت کی کہانی ہے جو زرق برق لباس میں رقص کرتی ہے مگر بھوک اس کی ہر جنبش میں عیاں ہوتی ہے۔ یہ ایک نادر کہانی ہے۔

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ”گونجتی سرگوشیاں“ میں سرگوشی کی راز داری کم اور گونج کی دھمک زیادہ ہے۔ یہ کتاب نہیں آج کی عورت کی طرف سے اظہار کا اور بے باکانہ اظہار کا اعلان ہے۔ آنے والے وقتوں میں اس کتاب کو، ان کہانیوں کو، اس دور کی تاریخ کے طور پر جانا جائے گا، ان سات بہادر خواتین کی ہمت کا ثبوت مانا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words