یہ پانچ لوگ ایک مثال بن سکتے ہیں
پانچوں سینیئر ترین افسروں کی کارکردگی اور ایمانداری پر کبھی کوئی انگلی تک نہیں اٹھا سکا تھا حالانکہ جس محکمے (افغان ریفیوجیز کمشنریٹ پشاور ) سے ان کا تعلق ہے وہاں کرپشن تو کیا بلکہ اخلاقی معاملات تک کی صورتحال نا گفتہ بہ ہے جس کا ذکر آگے آئے گا
پچھلے سال ستمبر میں ان پانچوں افسران (جن میں دو خواتین افسر بھی تھیں ) نے محکمے کے سربراہ کو فنانس افسر عطاء اللہ کی کرپشن اور اس سے منسلک بعض اخلاقی مسائل کے حوالے سے ایک ذمہ دارانہ خط لکھا جس میں یہ نکتہ تک بھی اٹھایا گیا تھا کہ فنانس افسر کس طرح بعض خواتین کے بل روک کر انہیں ایک دوسرے افسر کے ذریعے کام نکالنے کے لئے حد درجہ قابل اعتراض پیغامات بھجواتا ہے۔
لیکن حیرت انگیز طور پر ایک غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خط کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ جاننے والوں کو معلوم ہے کہ UN کی طرف سے پانچ پراجیکٹس کے لئے آنے والا بھاری بھرکم بجٹ اسی فنانس افسر کے ہاتھ میں ہے جس کی بنیاد پر انتظامی معاملات سے لے کر افسران بالا پر اثر و رسوخ تک کہیں بھی اس کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑ رہی ہے۔ سو محکمے کے اندر اس پر ہاتھ ڈالنا اتنا سہل بھی نہیں اسی لئے خط لکھنے پر کمشنر افغان ریفیوجیز نے اصل مجرم پر ہاتھ ڈالنے اور انکوائری کرانے اور شکایت کنندگان کی بات سننے کی بجائے الٹا ان مظلوموں پر ہاتھ ڈال دیا جنہوں نے ایک طاقتور افسر کے مالی اور اخلاقی مسائل کے حوالے سے خوفناک حقائق کی نشاندہی کی تھی۔
محکمے کے سربراہ کی ”انتظامی صلاحیت“ ملاحظہ ہو کہ اس نے انتہائی سینیئر افسران میں سے دو افسروں کو نہ صرف فوری طور پر نوکری سے برطرف کر دیا بلکہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر سرکاری گھروں کو بھی خالی کرنے کا حکم دیا جبکہ باقی تین افسروں کو دور افتادہ علاقوں میں ٹرانسفر کر دیا گیا لیکن یہ پانچ افسر بھی لو ہے کے چنے ثابت ہوئے اس لئے اگلے چند دنوں میں انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی جبکہ فنانس افسر عطاء اللہ کی جنسی ہراسانی کے خلاف بھی وفاقی محتسب کو اس نشاندہی کے ساتھ درخواست دے دی کہ محکمے کے سربراہ نے انکوائری کرانے اور ہمیں تحفظ فراہم کرنے کی بجائے الٹا ہمیں ہی ٹارگٹ کیا۔
محتسب عدالت نے چیف فنانس افسر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کو پیش ہونے کا حکم دیا لیکن سرکشی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ دونوں افسروں نے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے بھی انکار کیا جس کی پاداش میں محتسب عدالت نے ان پر باقاعدہ جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ اگلی پیشی پر حاضر ہونے کا حکم بھی دیا۔
10 جون کو پشاور ہائی کورٹ کے عزت ماب چیف جسٹس نے پانچ میں سے دو سینیئر افسران کے اس رٹ پٹیشن کو سنا جو انہوں نے اپنی انتقامی ٹرانسفر اور تنخواہوں کی بندش کے خلاف دائر کی تھی اور جب تمام حقائق معزز عدالت کے علم میں لائے گئے تو بنچ میں موجود دونوں قابل احترام ججز ( چیف جسٹس قیصر رشید اور جسٹس اعجاز انور ) کی برہمی قابل دید تھی۔
معزز عدالت نے پہلے تو تنخواہوں کی فوری ادائیگی اور ٹرانسفر کے احکامات کو معطل کیا اور پھر ایک گھنٹے کے اندر اندر کمشنر افغان ریفیوجیز کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا
کمشنر کی غیر موجودگی کے سبب ایک اور افسر پیش ہونے تو معزز عدالت نے اس کی بھی خوب ”عزت افزائی“ کرنے کے بعد اس کا تعلیمی ریکارڈ اور موجودہ عہدے پر تعیناتی کا پس منظر جانچنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ معزز عدالت کو بتایا جائے کہ کمشنر کو اس عہدے پر کس نے تعینات کیا ہے۔
پانچ دن بعد کمشنر کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم بھی دیا گیا۔
16 جون کو کانپتا ہوا کمشنر افغان ریفیوجیز محترم چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی عدالت میں پیش ہوا تو معافی مانگنے کے بعد خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جس کے بعد عدالت نے روکے گئے تنخواہوں کے بارے دریافت کیا تو کمشنر نے فوری طور پر دونوں چیک عدالت کے روبرو افسروں کے حوالے کیے بلکہ یہ بھی کہا کہ سر یہ چیک تو میں کئی دن پہلے جاری کر چکا ہوں حالانکہ متاثرہ افسر پوچھ سکتے تھے کہ معزز عدالت ہمارے اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ منگوانے کا حکم جاری کرے لیکن عدالت کے سامنے کھڑے افسر نے مروت اور لحاظ سے کام لیا اسی دوران چیف جسٹس کی معزز عدالت نے غیر قانونی اور انتقام پر مبنی احکامات معطل کرنے کا حکم بھی جاری کیا دلچسپ بات یہ ہے کہ معزز چیف جسٹس کے علم میں یہ بات بھی لائی گئی کہ یہ سب کچھ کرپشن اور جنسی ہراسانی کے ان کیسز کے ردعمل میں ہو رہا ہے جس کا آخری سرا ایک کرپٹ اور جنسی درندے اکاؤنٹنٹ سے جا ملتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ باقی دو افسروں کی برطرفی اور اس سے متعلق جنسی ہراسانی کا معاملہ عدالتی راہداریوں سے صحافتی دفاتر تک زیر بحث بھی ہے اور زیر سماعت بھی۔ یعنی کورٹ رپورٹرز پیشہ ورانہ حوالے سے چوکنا رہیں گے۔ پشاور کے اخبارات تو پہلے سے ہی اس کیس کا تعاقب کرتے ہوئے بڑی بڑی سرخیاں جما رہے ہیں خصوصاً DAWN میں اگلے دن ممتاز صحافی وسیم احمد کی شائع شدہ رپورٹ کمال کی تھی۔
بعض ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اور نیب کرپشن کی میگا سکینڈل کی تحقیقات کر رہے ہیں لیکن ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ نیب کو جعلی ریکارڈ کے ساتھ ساتھ کچھ ”خدمات“ کے عوض رام کر لیا گیا ہے اس لئے نیب خاموش ہے تا ہم ایف آئی اے کسی طور قابو نہیں آ رہا ہے بلکہ بہت سے معاملات تک ان کی رسائی بھی ہو چکی ہے۔
اس ساری حقیقت بیانی کا مقصد یہی ہے کہ ابھی اس ملک میں انصاف کے ایوان ایسے بانجھ بھی نہیں ہوئے بلکہ عدالتی منصبوں پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید جیسے دلیر اور حق گو منصف بھی بیٹھے ہیں ابھی اس ملک میں ماوٴں نے بہادر اور اور ایماندار بچوں کو جننا بھی ترک نہیں کیا جو طاقت اور درندگی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کرپشن بد انتظامی اور ظلم کے خلاف محض زبانی احتجاج سے کچھ نہیں بنتا بلکہ عملی طور پر وہی کچھ کرنا چاہیے جو ایک محکمے کے چند ملازمین نے کیا اور یہی وہ راستہ ہے جو طاقت کو قانون کے دائرے میں لا سکتا ہے۔
اور ویسے بھی یہ ساٹھ اور ستر کے پسماندہ اور بے خبر عشرے تو نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے باشعور لوگ اور برق رفتار ترقی کا زمانہ ہے۔


