توہین مذہب کا سابق ملزم شیخ یونس: گھنگریالے بال اور ٹیڑھی طنزیہ مسکان

جب تک کسی کی رحلت بارے معلوم نہ ہو تو متعلقین مطمئن رہتے ہیں کہ خیر و عافیت سے ہی ہوگا وہ شخص مگر جونہی معلوم ہو کہ وہ اس دنیا میں اب نہیں رہا تو حزن و ملال آ گھیرتا ہے۔ یہی کل میرے ساتھ ہوا جب ہمارے میڈیکل کالج کے ہم جماعت افراد کے گروپ میں اطلاع ملی کہ ڈاکٹر یونس شیخ ایک ہفتہ قبل سوئٹزرلینڈ میں اس جہان سے گزر گیا۔

دل بجھ کر کے رہ گیا۔ فوری طور پر نیدرلینڈ میں شمعون سلیم کو اس اندوہ سے آگاہ کیا جس نے جواب میں لکھا، ”چل چلا و کا دور ہے، میں تو اپنی خیر مناتا ہوں“ ۔ میڈیکل کالج کے دوران اس سے کوئی زیادہ راہ و ربط نہیں تھا۔ گھنگریالے بالوں اور زردی مائل گورے چہرے والا درمیانے قد کا یہ خوش پوش نوجوان جب بھی ملتا تو قہقہہ بار رہتا۔ منہ ٹیڑھا کر کے ہمیشہ ہاتھ ملتے اور ہنستے ہوئے کوئی طنز آمیز فقرہ کہتا، چند لمحے ٹھہر کے ردعمل دیکھتا اگر سننے والا زچ نہ ہوتا تو خدا حافظ کہہ کے چلتا بنتا مگر زچ ہونے والے کو اپنی طنزیہ اور استہزائیہ گفتگو سے مزید زچ کیے جاتا۔

پھر ہم بہت سے دوست ڈاکٹر بن کے اپنے اپنے راستوں پہ گامزن ہو گئے مگر غالباً یونس شیخ کی سپلیمنٹری آ گئی تھی یا اس نے کوئی ہاؤس جاب لے لی ہوگی، بہر حال جب ایک برس گلگت سے دور فوج میں اپنے فرائض سرانجام دینے کے بعد میرا ملتان میں تبادلہ ہوا تو شمعون سلیم سے ملنے جاتا تو اس کے ساتھ کئی بار یونس شیخ سے ملنا ہوتا۔ اس سے پہلے نہ مجھے یہ معلوم تھا کہ وہ میری اور شمعون کی طرح دہریہ تھا نہ ہی اس کی بائیں بازو کے ساتھ کسی طرح کی وابستگی بارے مجھے علم تھا کیونکہ وہ کبھی سیاست سے متعلق رہا ہی نہیں تھا۔

بعد میں ہوئی ان ملاقاتوں سے معلوم ہوا کہ یہ بزلہ سنج ہم جماعت جس کے بارے میں کم از کم مجھے یہی علم تھا کہ وہ مولانا مولوی محمد شفیع اوکاڑوی کا بھانجا ہے، بھانجا تو میں بھی مولانا مولوی ظفر قدیر ندوی صاحب کا تھا، ایک لبرل اور مذہب بیزار شخص ہے۔ تب یونس شیخ اچھا بھی لگنے لگا اور اس سے اچھی راہ و رسم بھی ہو گئی۔

میں اپنے بیاہ کے بعد میں ایک بار پھر بہت سے ہم جماعت افراد سے بچھڑ گیا تھا، کچھ لاہور میں قیام کچھ اپنی بری علتیں، شاید ہی کسی سے ربط رہا ہوں ماسوائے ڈاکٹر یمین کے جو جی سی لاہور اور نشتر میڈیکل کالج ملتان میں میرا ہم جماعت رہا تھا اور یو سی ایچ میں ملازم تھا جہاں اس کا فلم سٹار بندیا سے تعلق بنا تھا اور پھر اس کا خاوند بھی ہوا، سنا ہے کہ نیلی آنکھوں والا یمین بھی چل بسا۔

پھر میں ایران چلا گیا، ایران سے لوٹا تو کوٹ ادو میں پرائیویٹ پریکٹس کرنے لگا۔ بائیں بازو کی سیاست کے سبب اس شہر کے رجعت پسند لوگوں نے مجھے دھتکارا تو میں مریدکے منتقل ہو گیا۔ مریدکے میں مجھے یوکے سے کچھ پوسٹیں بذریعہ ڈاک محصول ہونے لگیں جن میں پمفلٹ اور چھپے ہوئے متنوع مضامین ہوتے۔ لفافے کے اوپر اور لفافوں میں بند مواد کے ہر صفحہ پر مہر لگی ہوتی جس پر انگریزی حروف میں ”آئینی بادشاہت“ لکھا ہوتا۔ مضامین اچھے بھی ہوتے اور یونہی سے بھی تاہم ان میں سے اکثر سے مجھے اتفاق نہ ہوتا۔ سوچتا کہ نا معلوم کون شخص ہے جو مجھے پاکستان میں آئینی بادشاہت کے لیے قائل کرنا چاہتا ہے۔

مریدکے میں میرا ہسپتال جی ٹی روڈ پر تھا۔ ایک کوٹھی کے چھوٹے سے گراسی لان کے ساتھ کی روش کے اوپر میرے دفتر کی شیشوں والی کھڑکی تھی جس میں سے مجھے گیٹ میں داخل ہوتا شخص، اگر میں متوجہ ہوتا دکھائی دے جاتا تھا۔ ایک روز میں نے یونس شیخ کو اس گیٹ سے اندر داخل ہوتے دیکھا جس نے مٹھائی کا ڈبہ کسی شاپنگ بیگ میں نہیں بلکہ اپنی ہتھیلی پر رکھا ہوا تھا اور وہ اندر چلا آ رہا تھا۔ وہ ہسپتال میں داخل ہوا، میرا دفتر دوسری جانب ایک بڑے کمرے میں کھلتا تھا، جہاں مریض داخل کیے جاتے، وہ کمرہ بھی مجھے اپنے شیشوں والے کیبن سے دکھائی دیتا۔ جونہی یونس شیخ اس کمرے میں داخل ہوا میں مسکراتا ہوا کرسی سے اٹھا اور اس کے لیے اپنے کیبن کا دروازہ کھولا۔

شیخ صاحب نے دعا سلام کیے بغیر مٹھائی کا ڈبہ کھولتے ہوئے کہا: لو مرزا مٹھائی کھاؤ اور ساتھ ہی ملک میں آئینی بادشاہت پہ دس پندرہ منٹ کا لیکچر دے ڈالا۔ میں سمجھ گیا کہ شیخ صاحب کی ذہنی حالت کچھ درست نہیں ہے۔ بس اتنا کہا کہ شیخ جی جب آپ ملک کے آئینی بادشاہ بن جائیں تو مجھے اپنا وزیراعظم بنا لینا یار۔ اس کے بعد ہنسی مذاق چلتا رہا اور پھر یونس رخصت ہو گیا۔

مریدکے سے میں ماسکو جا پہنچا جہاں شمعون کی زبانی معلوم ہوا کہ شیخ یونس پر نہ صرف توہین رسالت کا مقدمہ بنا بلکہ اسے اس جھوٹے مقدمے میں سزائے موت بھی سنائی گئی تھی۔ اس نے اپیل میں اپنی صفائی خود پیش کی اور رہا ہوا۔ اسے کسی یورپی ملک میں سیاسی پناہ مل گئی تھی۔

پھر خود شیخ یونس سے فیس بک پر رابطہ ہو گیا۔ وہ اپنا نام فیس بک پر بھی ہیومنسٹ رائلسٹ لکھتا تھا۔ اس نے اس واقعے کی تفصیل خود بتائی جس کے سبب اس پہ جھوٹا مقدمہ بنا کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جو روداد بتائی اس سے یہی لگا کہ اپنی آزاد خیالی کے سبب وہ جماعتی طلباء میں نفرت کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے تھے، یہ طلباء اس ہومیوپیتھک کالج کے تھے جہاں یونس شیخ صاحب بطور لیکچرر تعینات تھے۔ انہی شرارتی طلباء میں سے کسی ایک نے کوئی ایسا سوال کیا جس کا یونس شیخ صاحب نے منطقی جواب دیا مگر منطق کون سنتا ہے چنانچہ مقدمہ درج کروا دیا گیا، نمک مرچیں تھانے میں ایف آئی آر لکھنے والے منشی نے شامل کر دی تھیں۔ توہین رسالت کا اصل مقدمہ تو اس منشی پر بننا چاہیے تھا۔

شیخ یونس باوجود دوست ہونے کے اپنی جائے قیام نہیں بتاتا تھا۔ اتنا مجھے معلوم تھا کہ وہ سوئٹزرلینڈ کے ایک شہر میں ہے جو زیورخ سے قریب ہے۔ میں سوئٹزرلینڈ میں جب زیورخ گیا تو بڑی خواہش تھی کہ یونس سے ملاقات ہو مگر وہ ان دنوں فیس بک سے بھی غائب تھا اور باوجود میرے میسیجز کے جواب نہیں دیا۔ اب شیخ صاحب اپنی پوسٹس میں پکے مذہب مخالف بن چکے تھے۔ کوئی چار پانچ برس پہلے شمعون نے لکھا کہ شیخ یونس تمہیں اور مجھے اپنے پاس بلا رہا ہے۔ اس نے تین روز ہمارے قیام کا بھی بندوبست کیا ہے، چلو چلیں۔ میں چونکہ روزے رکھتا ہوں اور اس نے ماہ رمضان میں بلایا تھا چنانچہ میں نے معذرت کر لی جو ظاہر ہے انہیں اچھی نہیں لگی۔ شاید یونس شیخ بھی مجھے ملا خیال کرنے لگا تھا، اس لیے اس نے فیس بک سے بھی رابطہ کاٹ لیا تھا۔

اب اس کے جہان سے جانے کی المناک خبر ملی ہے۔ میں تو اس کے لیے مغفرت کی دعا بھی نہ کر پایا کیونکہ اسے تو پاکستان کے عدالتی نظام نے اللہ سے ہی دور کر دیا تھا۔ شیخ یونس کے بارے میں گوگل پر تفصیل درج ہے کہ کس طرح انہوں نے آئرش آزادی خواہوں کے ساتھ ہمدردی کی، کس طرح آئرلینڈ حکومت نے انہیں گرفتار کر کے ایذا پہنچائی جس سے ان کا دماغ چل پڑا تھا اور کس طرح پاکستان کی عدالت نے ان کے اس عارضہ کا خیال کیے بن انہیں سزائے موت سنا کر جیتے جی مارنے کا چارہ کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words