مفتی عزیز الرحمان کو بیٹے سمیت موتی مسجد میانوالی سے گرفتار کر لیا گیا


جامعہ منظور الاسلامیہ کے سابق معلم اور فرار ملزم مفتی عزیز الرحمن کو بیٹے سمیت میانوالی سے گرفتار کر لیا گیا۔ مفتی عزیز الرحمان کئی روز سے روپوش تھے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے موتی مسجد میانوالی میں پناہ لی ہوئی تھی۔

پولیس نے پہلے ٹاؤن شپ میں ایک مدرسے میں بھی چھاپہ مارا گیا تھا لیکن مفتی عزیز وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ دس سے زیادہ چھاپے مارے گئے تھے لیکن آخر کار میانوالی میں کامیابی ہوئی۔ اب انہیں لاہور منتقل کیا جائے گا۔

لاہور میں مدرسے کے طالبعلم سے بد فعلی کرنے والا ملزم گرفتار ہو گیا، پولیس نے مفتی عزیز الرحمان کو میانوالی سے بیٹے سمیت گرفتار کیا، ملزم پر طالبعلم سے بدفعلی کا الزام ہے۔ طالب علم کی جانب سے یہ معاملہ رپورٹ کرنے پر مدرسے کی انتظامیہ نے طالب علم کو ہی جھوٹا سمجھا تھا، جس کے بعد اس نے کئی ویڈیوز بنائیں۔ یہ ویڈیوز مدرسے کی انتظامیہ اور مفتی عزیز کے بیان کے مطابق وفاق المدارس العربیہ کے مرکزی عہدیداران کو بھی دکھائی گئیں لیکن انہوں نے پھر بھی مفتی عزیز کے خلاف کارروائی نہ کی اور 15 جون تک مفتی عزیز اس مدرسے میں پڑھاتے رہے۔ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید عوامی ردعمل دکھائی دیا جس کے بعد مفتی عزیز الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس کے بعد مفتی عزیز الرحمان کو مدرسے سے نکال دیا گیا تھا جبکہ ویڈیو اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد جمعیت علما اسلام ضلع لاہور نے بھی مفتی عزیز کی رکنیت معطل کر دی تھی۔ ابھی تک دینی حلقوں کی نمایاں قیادت کی جانب سے اس واقعے پر بیان نہیں دیا گیا۔ علامہ ہشام الہی ظہیر نے مفتی عزیز الرحمان کو شعائر اللہ اور مسجد کی توہین کے جرم میں سنگسار کرنے اور لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے بعد مینار پاکستان سے نیچے پھینکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے مفتی عزیز الرحمان کے خلاف تھانہ صدر میں مقدمہ درج کیا تھا، مقدمہ طالبعلم کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس میں لگی دفعات کے تحت عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

آئی جی پنجاب انعام غنی نے اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسے ٹیسٹ کیس کے طور پر لیں گے اور سائنسی بنیاد پر پروفیشنل تفتیش کرتے ہوئے اسے عدالت سے سزا دلوائیں گے، اور وہ بچوں کو ایسے مولیسٹر سے بچانا چاہتے ہیں اور معاشرے کو اس کے مستقبل کے لیے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS