عبدالستار ایدھی سے اظہار عقیدت : محبت اور رواداری کی رواں کاریز

بلوچستان کی سرزمین کا ہماری کتابوں میں جب ذکر ہوتا ہے تو جغرافیہ کے حوالے سے، اسے عموماً ”کم زرخیز اور غیر آباد دکھایا جاتا ہے مگر آج بلوچستان کے ایک آرٹسٹ نے انسانیت کے عظیم ہیرو اور بھائی چارے اور رواداری کے علم بردار عبدالستار ایدھی کو اپنی تمام تر تخلیقی صلاحیتوں ( اور ممکنہ اور ناممکنہ وسائل ) کو بروئے کار لا کر جس طرح خراج تحسین پیش کیا ہے، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان کی زمین شاید اتنی زرخیز اور آباد نہ ہو، مگر وہاں کے فنکاروں اور تخلیق کاروں کے دل اتنے ہی آباد، زرخیز اور عقیدت سے لبریز ہیں۔

یہاں یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ہمارے خطے کے ہر شہری کے دل پر راج کرنے والے، ایدھی صاحب سے محبت، تعلق اور وابستگی کی اس دوڑ میں بلوچستان نے دوسروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

تخلیق، شاید اس کہانی کا آخری باب قرار دیا جاسکتا ہے، اس کے ابتدائی اور درمیانی مرحلے ہی دراصل، عشق کی اس روداد کا عنوان کہے جا سکتے ہیں، جس نے یہ خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا اور پھر، اس سے بڑھ کر، اسے حقیقت کا روپ دینے پر بھی اکسایا۔

فنون لطیفہ کے حوالے سے معاشرتی طرزعمل دیکھتے ہوئے یہ قیاس با آسانی کیا جا سکتا ہے کہ عقیدت ( اور عقیدت کے اظہار ) کے اس سفر میں اس فنکار کو پتھروں ہر چلنا ہی نصیب ہوا ہوگا اور کہیں کوئی کہکشاں میسر نہ آئی ہو گی، مگر باوجود اس کے، اپنے اس ( عزم ) اور عمل سے اس نے جو کہانی رقم کی ہے، وہ اپنے ہیروز سے محبت کرنے والوں اور ان کے کارناموں ہر فخر کرنے والوں کی داستان میں بلاشبہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔

دینا بھر کی تاریخ میں قومی، اجتماعی اور انفرادی سطح پر اپنے ہیروز سے اظہار تعلق کی کئی کہانیاں، جگہ جگہ نمایاں اور بکھری نظر آتی ہیں مگر ہمارا دامن، ( اگر حقیقت پسندی سے یہ مان لیا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ) اس معاملے میں بہت حد تک خالی دکھائی دیتا ہے۔

عبدالستار ایدھی کو پیش کیا جانے والا یہ خراج تحسین، اس تناظر میں، جرات مندی اور بہت حد تک روایت شکنی کی علامت بھی کہا جا سکتا ہے اور اس تخلیقی اظہار کے بعد یہ امید، بجا طور پر کی جانی چاہیے کہ یہ علامتی تعمیر، روایت شکنی کی مزید مثالوں کی ترغیب کا باعث ہوگی اور ہمارے درمیان، اپنے ہیروز سے تعلق کو، عملی طور پر مہمیز کرنے میں معاون ہوگی۔

یہ ایسا سچ ہے کہ اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ ہماری قوم، عبدالستار ایدھی کی ہر قسم کی تفریق سے بالا ہو کر، کی جانے والی شبانہ روز عملی خدمات کا قرض، صدیوں تک نہ اتار سکے گی اور اس بات پر بھی اختلاف کی قطعاً گنجائش نہیں کہ عظمت، شفقت اور خدمت کا ایسا چراغ، نہیں معلوم، اس زمین کا کب مقدر ہو، مگر اس چراغ سے روشنی سمیٹنے والے در و دیوار پر یہ ضرور لازم ہے کہ وہ داد رسی کے اس مینار کی قامت اور عظمت کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔

بے سروسامانی اور تہی دستی کے عالم میں یہ بیڑہ اٹھانے والے اور اس کار خیر کو انجام تک پہنچانے والے تخلیق کار ( اور اس کی ٹیم اور مددگاروں ) کے لئے ہمیں وہ الفاظ ڈھونڈنے ہوں گے جو ان کے ( بے مثال ) جنون اور بے لوث وارفتگی کا صحیح معنوں میں حق ادا کرسکیں۔ یہ ان ہی سر پھروں کا دم ہے کہ کہ اس مرتبہ آٹھ جولائی کو، ( جب ایدھی صاحب ہم سے منہ موڑ گئے تھے، ) شاید یہ احساس جرم اس شدت سے نہ ہو کہ ہم نے اپنے ہیرو سے تعلق کے اظہار کے لئے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔

بلاشبہ اس مجسمے کے خالق، اسحاق لہڑی، مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے خود پسندی، خود ستائشی اور خود نمائی کے اس عہد میں، اپنے ہنر مندانہ خراج عقیدت کے لئے اس ہستی کا انتخاب کیا، جو دوسروں تک خوشی اور سکون پہنچانے کے لئے اپنا آپ بھول چکا تھا کہ انسانیت کے اصول یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔

یہ مجسمہ بھی، درحقیقت، اس طرز فکر اور طرز عمل کی ہمیں یاد دلاتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words