میرے پاپا


احمد کی جیسے جیسے عمر بڑھتی جا رہی ہے وہ مجھے اپنے پاپا جیسے دکھتے ہیں، کبھی کبھی میری بہنیں بھی کہتی ہیں، احمد بھائی پاپا کی طرح لگتے ہیں۔ اچھا لگنا اور ہونا الگ الگ بات ہو سکتی ہے، لیکن ان کی عادتیں تو شروع دن سے پاپا کی طرح ہیں۔ غیر مذہبی، انسان دوست، رکھاؤ، مروت، مہمان نوازی، پلمبر، مزدور، الیکٹریشن سب کے وقت کے حساب سے چائے، پانی اور کھانے کا خیال۔

ارے بھئی یہ مضمون پاپا کے لیے لکھنے بیٹھی یا ان کے لئے، ان کو ایک طرف رکھتی ہوں۔ عام گھرانوں کی طرح پاپا بھی بیٹوں کی پیدائش پر خوش ہوتے تھے۔ بیٹیوں کو بھی چاہتے تھے، لیکن بیٹوں کی طرف ان کا لگاؤ اور جھکاؤ صاف نظر آتا تھا۔ تین بیٹیوں کے بعد جب زلفی پیدا ہوا تو سب سے چھوٹا ہونے کے ناتے امی پاپا کی ساری توجہ اس طرف مبذول ہو گئی۔ بڑی بہن نے جب اپنی چھوٹی بہنوں کو ان کی التفات نظر سے محروم ہوتے دیکھا تو اس نے اپنے بازو وا کر دیے۔ پاپا کی بے رخی نے ہمیں اپنے ننھے بھائی سے بر گشتہ کرنا شروع کر دیا۔ پاپا نے جب یہ دیکھا تو اپنے رویے میں تبدیلی لانا شروع کی، لیکن پھر نگوڑی ببلی کے آ جانے سے انہوں نے یو ٹرن لے لیا۔

اچھا ہم دس بہن بھائیوں کی پیدائش میں دو سال اور تین سال کا وقفہ ہے، یہ تو ہمارے والدین کی انکساری تھی، ورنہ بیس سالوں میں ہم، کم از کم سترہ بہن بھائی بھی ہو سکتے تھے۔ اچھا ببلی کے بعد شازی صاحبہ تشریف لے آئیں، تو یہ قصور بھی ببلی کا ہو گیا۔ بے چاری باجی ببلی کی دیکھ بھال بھوک پیاس کا خیال رکھتیں اور امی گھر بھر کا خیال رکھتیں جس میں ان کی ساس نندیں بھی شامل تھیں۔ یہ ہی وقت تھا جب پاپا کا ٹرانسفر خیر پور ہو گیا۔ انگریزوں کے زمانے کی بنی ہوئی ایک خوب صورت کالونی میں سرکاری ملازمین رہتے تھے۔ وہیں وہ بھی اپنے چھ عدد بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہو گئے۔

یہاں امی کو سسرال سے فراغت ملی لیکن مصروف رہنا اچھا لگتا ہے اس لیے ساتواں بچہ جو خیر سے بیٹا تھا، اسے دنیا میں لے آئیں، دو سال بعد پھر ایک بیٹا ہو گیا یوں قسمت کبھی غم کبھی خوشی کی طرح کبھی لڑکا کبھی لڑکی اچھالتی رہی۔ متواتر دو لڑکوں کے آنے کے بعد لگا کہ اب امی کی فیکٹری میں لڑکے تیار ہو رہے ہیں، اس زمانے میں بھی منصوبہ بندی کے اشتہارات آنے لگے تھے۔ مگر بیٹوں کی اشتہا نہ تھمی تھی۔

سو اگلی بار سب سے چھوٹی بہن ندا تشریف لے آئیں۔ ندا بہت پیاری، معصوم پیارا پیارا بولنے والی بچی تھی، پاپا کی طرح شروع میں تو ہمیں بھی اس سے نفرت آئی، پر اس کی وجہ اس کا لڑکی ہو نا نہیں بلکہ کالج میں جب ہم نے سب کو خوشی خوشی بہن کی آمد کے بارے میں بتایا تو سب نے خوب مذاق اڑایا، گھر آ کر ہم نے سارا غصہ امی پر اتارا، اور صاف کہہ دیا بس اب اور نہیں۔ اس روز کے بعد امی ایسا ایسا ڈریں ایسا ڈریں ایسا ڈریں۔

چلو دھمکی سہی پر دس بہن بھائیوں پر روک تو لگی۔ ہمیں گھر کے کام کرنا کبھی پسند نہیں رہا، ہم ان سے بچنے کے لیے کمرے میں کتابوں میں منہ دیے رہتے۔ اس چکر میں سیکنڈ ائر میں پوزیشن آ گئی۔ بچپن سے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ وکیل بننا ہے۔ سو پاپا جنہیں بیٹے اچھے لگتے تھے۔ اب ہمارے اندر انہوں نے ایک مرد مار قسم کی لڑکی دیکھی تو ہمارے شوق کو بڑھاوا دینے کے لیے سر گرم عمل ہو گئے۔ ان کی خصوصی توجہ ملی تو پڑھائی کی طرف شوق بڑھا ادھر باجی کا رشتہ طے پا گیا۔ رخصتی والے دن پاپا رخصتی کے گانوں کی کیسٹ حفظ ماتقدم کے طور پر لے آئے، کہ گانوں کے بول کو دھیان میں رکھ کر آنسوؤں کی جھڑی میں دلہن کو رخصت کر دیا جائے۔ رخصتی کا وقت قریب آیا تو پاپا نے کسی لڑکے سے کہا کہ بابل کی دعائیں لیتی جا والا گانا لگا دے۔

پاپا کے ہونٹ کپکپائے، فل جذباتی موڈ میں باجی کے قریب آئے گانا بجا۔ بریلی کے بازار میں جھمکا گرا رے۔ پاپا کو جیسے کرنٹ لگا چہرے کے ایکسپریشن اچانک تبدیل ہوئے، لبوں سے خاندانی گالی برآمد ہوئی

۔ بابل کی دعائیں۔ بابل کی دعائیں۔

ببلی، گرتی، پڑتی بابل کی دعائیں، بابل کی دعائیں کہتی ہوئی ریکارڈر بجانے والے کے پاس پہنچی۔ اس کے پیچھے پیچھے ہم دوڑے، ہم نے جاتے ہی ٹیپ ریکارڈ پر ہاتھ مار کر لتا جی کو خاموش کیا۔ اور انہیں مطلوبہ گانا بجانے کو کہا۔ اداس میوزک فضا میں گونجا، پھر محمد رفیع کی گداز آواز لہرائی بابل کی دعائیں لیتی جا پاپا کا ٹیک دوبارہ شروع ہوا۔ مگر اب آنکھ میں ایک آنسو نہیں انہوں نے اپنی آنکھیں بھینچتے ہوئے باجی کو سینے سے لگایا یہ شاید گانے کا ہی اثر تھا کہ سب لوگ رو رہے تھے۔

اگر ہم گانے کے بول پر دھیان دیتے تو شاید ہمارے بھی چند آنسو ٹپک جاتے۔ لیکن ہماری گود میں ندا تھی جو مسلسل رو رہی تھی، اور اس سب کے باوجود ہماری کوشش تھی کہ ہم جھک کر دیکھیں کہ باجی کی آنکھوں سے آنسوں بھی نکل رہے ہیں یا صرف حلق سے خالی خولی بھوں بھوں نکال رہی ہیں۔ پاپا، باجی سے الگ ہوئے تو ہمیں اشارہ کیا کہ ہم بھی ان سے گلے مل لیں لیکن سچی بات ہے ان کے کپڑے، کمرہ، پرس اور جوتے ملنے کے خیال سے دل اتنا خوش تھا کہ آج جو کبھی ہم یہ مصرع گنگنا بھی دیں تو آنسو چھلک پڑتے ہیں، اس وقت بہت ساری باتوں کا خیال دل میں گدگدیاں کر رہا تھا۔

سب سے بڑھا کر یہ کہ صبح سپارہ پڑھے بغیر بھی پراٹھے ملا کریں گے۔ خیر فل فلمی سین میں باجی رخصت ہو گئیں۔ اور جب صبح کو جب ہمیں خود پراٹھے بنا نے پڑے تو سوچا، اتنے سارے پراٹھے بنا نے سے ایک سپارہ پڑھنا زیادہ بہتر تھا۔

لیکن باجی کے بعد کیوں کہ ہمارا ہی نمبر تھا اس لیے ہم نے بڑے ہونے کا فائدہ اٹھایا، سب بہنوں کو ذمہ داریاں سونپیں، خود کو مشیر برائے امور خانہ داری تک جیسے اہم منصب پر رکھا۔ پڑھائی میں کیوں کہ اچھے تھے اس لیے پاپا سمیت سبھی ہمارے رعب میں تھے ہم ناصرف اپنے بہن بھائیوں کے تعلیمی معاملات دیکھتے بلکہ محلے کیا کالونی کے لوگ اپنے نکھٹو بچوں کے لیے ہمارے پاس مشورے کے لیے آتے۔

وقت گزرا، ایل ایل بی کرنے کے بعد پاپا سے ضد کی ہم کراچی میں وکالت کریں گے یہاں سارے مرد وکیل ہیں ایک بھی لڑکی نہیں۔ کہنے لگے نہیں تمہیں جو کرنا اسی شہر میں کرنا ہے۔ کسی کو تو قدم اٹھانا ہو گا۔

ہم نے کہا، لوگ کیا کہیں گے، باتیں بنائیں گے۔ آپ کو پتہ تو ہے کیسے گھورتے ہیں یہاں کے مرد۔

کہنے لگے شروع میں تمہیں اور انہیں عجیب لگے گا پھر عادت ہو جائے گی۔ کسی کو تو قدم اٹھانا ہے۔ تم اوروں کے لیے راستہ بناؤ۔

چھان بین شروع کر دی کہ کون سے سینیئر وکیل کے ماتحت کیا جائے، علی اسلم جعفری صاحب ایک معتبر وکیل تھے، ان کے پاس لے گئے۔ اسلم صاحب نے پاپا کے اس قدم کو بہت سراہا۔ پاپا ان سے مل کر مطمئن ہو گئے۔

آفس سے کبھی کبھی سائٹ پر چلے جاتے لیکن شدید تھکن کے باوجود ہمیں کیسز کی تیاری کے لیے روزانہ اپنی کالونی سے اسلم صاحب کے چیمبر چھوڑ کر آتے، پھر وقت مقررہ پر لینے پہنچ جاتے۔ کبھی کسی کیس کی اسٹڈی میں دیر ہو جاتی تو چیمبر میں بیٹھے انتظار کرتے رہتے۔

چھوٹے سے شہر کی عدالت میں دو سو وکیلوں کے درمیان اکیلی لڑکی کیسز لڑ رہی تھی۔ پاپا اپنے آفیسرز، ماتحتوں، دوستوں سب کو بتاتے کہ عفت زمان ایڈوکیٹ ان کی بیٹی ہے۔ ہر کام میں ہم سے مشورہ کیا جا تا۔ ہمیں لیبر لاز کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، ہم صرف کرمنل، فیملی اور سول کیسز ڈیل کرتے تھے۔ لیکن آئے روز پاپا محض اپنے باس اور ماتحتوں کو رعب میں لینے کی خاطر ان سے کہتے میری بیٹی وکیل ہے چلو اس سے مشورہ کرتے ہیں۔

ہمیں بیٹھک سے ہی آواز دیتے۔ ہم دوپٹہ سر پر رکھ کر تمیز سے جاکر بیٹھ جاتے۔ پاپا ہمیں کیس کی نوعیت سمجھانے کے بعد ہم سے پوچھتے کہ کیا کرنا چاہیے، ہم جو بھی سمجھ آتا انہیں سمجھاتے۔ دل تو چاہتا تھا کہ کہہ دیں کہ ہمیں لیبر لاز کا کچھ علم نہیں، لیکن پاپا کا فخر ٹوٹ جاتا۔ پھر ہم نے ایک دو ہفتے لگا کر لیبر لاز کے متعلق چیدہ چیدہ باتیں سمجھ لیں۔

پھپھیاں طنز کرتیں، ہمیں تو دروازے پر کھڑا نہیں ہو نے دیتے تھے، بیٹی کو مردوں میں چھوڑا ہوا ہے۔ پاپا ہنس کر کہتے، یہ بیٹی نہیں بیٹا ہے میرا۔

روزے بہت شوق سے رکھتے تھے، لیکن دس بجے ہی شفو سے کہتے لاؤ بھئی چائے لاؤ، شفو تین کپ بنا کر لاتی، امی کہتیں یہ دو کپ کیوں۔ ہم دونوں پاپا کے ساتھ دس بجے روزہ کھول لیا کرتے۔ لیکن ایسا نہیں جمعے کا روزہ ضرور رکھتے۔ لیکن دس بجے کے بعد سے امی پاپا کی نوک جھونک شروع ہو جاتی۔ امی انہیں چڑانے کے لیے کہتیں، روزہ لگ رہا ہے، ان کے لیے چائے بنا دو، انہیں سگریٹ دے دو، لیکن جمعے کا روزہ و وہ گزار ہی دیتے۔

تبلیغی جماعت والے دروازے پر آتے تو بہت غصہ ہوتے۔ کہتے ہمیں سب پتہ ہے، روزہ رکھنا چاہیے نماز پڑھنی چاہیے۔ جاؤ گوٹھوں میں جاؤ۔ دیکھو وہاں غریبوں پر کیا ظلم ہو رہا ہے۔ جاؤ وہاں کی مسجدیں آباد کرو۔ تاکہ غریب بے چارے نماز کے بہانے مسجد میں دو گھڑی آرام کر سکیں۔ انہیں خدا کا پتہ بتاؤ۔ جنت کے باغ دکھاؤ۔ تاکہ تصور میں ہی سہی دو گھڑی خوش ہو لیں۔

وسیع ذہن کے مالک، سندھی زبان سیکھنے پر سختی، ہندو، کرسچن سب دوستوں کے گھر آنا جانا لگا رہتا لیکن انہیں کبھی ایمان اور دین کی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نظر نہیں آیا۔ آدھی رات کے وقت کسی کو اسپتال جانے کی ضرورت پڑتی تو فوراً گاڑی نکال لیتے، اور امی سے بھی کہتے کہ وہ بھی چلیں۔ وکالت کا امتحان پاس کرنے یا کسی انٹرویو کے لیے اچانک کراچی آنا ہوتا، تو سیٹ نہ ملنے پر کسی نہ کسی کی منت کر کے ہمیں تو سیٹ پر بٹھا دیتے اور خود زمین پر بیٹھ جاتے۔

لسانی فسادات ہوئے تو ہم کراچی چلے آئے، تین بہن بھائیوں کو بھی ہمارے پاس بھیج دیا۔ اور جب احمد کی طرف سے رشتہ آیا تو انہیں ان کے شیعہ ہو نے پر تو کیا اعتراض ہوتا، وہ ان کے گھر کی ویرانی اور زبوں حالی پر بھی معترض نہ ہوئے خوش تھے کہ اعلی اخلاق و نصب کا خاندان ہے۔ احمد کی شاعری سے باقاعدہ متاثر تھے۔ ایک روز آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے۔ میں تمہیں وہاں دیکھنا چاہتا ہوں۔

شادی کی تاریخ طے ہوئی تو کراچی آ کر جہیز کی ایک ایک چیز خریدی۔ ہم حسب معمول انہیں سمجھاتے رہے کہ آپ نے ہمیں اتنا پڑھایا لکھایا ہے، یہ بہت ہے۔ ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔ احمد کے گھر والوں نے بھی جہیز کو منع کر دیا تھا۔ مگر باپ تھے، سمجھتے تھے کہ بیٹی کو گھر میں چند بنیا دی چیزوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بارات کا شاندار استقبال، شاندار کھانا اور موقع کی مناسبت سے گیتوں کے انتخاب کی کیسٹ بھی تیار کر رکھی تھی۔ کچھ رسموں کے بعد رخصتی کا وقت آ پہنچا۔

بہنوں نے اس بار کوئی گڑ بڑ نہ ہو، بابل کی دعا والا گا نا اسٹینڈ بائی رکھا ہوا تھا۔ زلفی قرآن شریف ہمارے سر کے اوپر رکھ کر کھڑا ہو گیا، ہم احمد کے ساتھ آگے بڑھے، امی بہنیں سب ایک ایک کر کے گلے ملتی رہیں۔ آخر میں پاپا ہماری طرف بڑھے۔ جسے ہی پاپا کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ آگے بڑھے شفو نے مجھے ہنسانے کے لیے میرے کان میں کہا، پاپا کی ایکٹنگ شروع۔

پاپا نے ہمیں گلے لگا لیا۔ اور بلک بلک کر رونے لگے۔ احمد نے پاپا کو الگ کیا۔ پاپا ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ شفو پاپا کو ایک طرف لے گئی۔

رفیع صاحب کاکا گانا بج رہا تھا۔
بیتیں تیرے جیون کی گھڑیاں آرام کی ٹھنڈی چھاؤں میں
کانٹا بھی نہ چبھنے پائے کبھی میری لاڈلی تیرے پاؤں میں
اس دوار سے بھی دکھ دور رہے جس دوار سے تیرا دوار ملے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال سے اتنا پیار ملے

Facebook Comments HS