EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اولمپکس کی تاریخ میں پہلی بار ٹرانس جینڈر ایتھلیٹ کا انتخاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویٹ لفٹر لوریل ہبارڈ سن 2018 میں گولڈ کوسٹ، آسٹریلیا میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز کے مقابلوں میں حصہ لیتے ہوئے۔

نیوزی لینڈ نے ٹوکیو اولمپکس میں خواتین کے ویٹ لفٹنگ مقابلوں کے لیے ویلنگٹن کی نامور کھلاڑی لوریل ہبارڈ کو نامزد کیا ہے۔ وہ پہلی ٹرانس جینڈر ایتھلیٹ ہیں جو اولمپکس مقابلے میں حصہ لیں گی۔ یہ فیصلہ برابری کی بنیاد پر کھیلوں میں شرکت کے ضوابط کے تحت کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق ہبارڈ 87 کلو گرام کی ہیوی ویٹ کیٹیگری میں حصہ لیں گی۔ ان کا انتخاب یقینی بنانے کے لیے کوالی فائنگ کے ضابطوں میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔

تینتالیس سالہ ویٹ لفٹر نے 2013 سے قبل ہونے والے مردوں کی ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں حصہ لیا تھا جس کے بعد اُن کی جنسی تبدیلی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

نیوزی لینڈ کی اولمپک کمیٹی نے پیر کو لوریل ہبارڈ کی ٹوکیو اولمپکس کے لیے نامزدگی کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹوکیو اولمپکس کا آغاز 23 جولائی سے ہو گا اور ایونٹ آٹھ اگست تک جاری رہے گا۔

ٹوکیو اولمپکس کے لیے منتخب ہونے کے بعد ایک بیان میں ہبارڈ نے کہا کہ ”نیوزی لینڈ کے باشندوں کی کثیر تعداد کی جانب سے مجھے ملنے والی حمایت اور ہمدردی پر میں تہہ دل سے سب کی مشکور ہوں۔”

سن 2015 میں ہبارڈ کو عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے ایک ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خاتون کے طور پر حصہ لینے کی اجازت دی تھی، جس کی بنیاد جنس کی سائنسی تشریح کو مدِنظر رکھ کر کی گئی تھی۔

چند سائنس دان اس تشریح سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ سن بلوغت کو پہنچتے وقت اگر کوئی مرد ہے تو اس کا شمار مرد کے طور پر ہی کیا جانا چاہیے جس میں ہڈیوں کی ساخت اور پٹھوں کی مضبوطی کے عنصر کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے۔

اولمپک قواعد و ضوابط کے تحت مقابلے سے 12 ماہ قبل تک ٹرانس جینڈر ایتھلیٹ کا ‘ٹیسٹس ٹرون’ لیول 10 نینو مول فی لٹر سے کم ہونا چاہیے۔

‘ٹیسٹس ٹرون’ ہارمونز مردوں میں پائے جانے والے ہارمونز کی ایک قسم ہے جس میں جنسی خصوصیات کے علاوہ ہڈیوں اور پٹھوں کی طاقت کا بھی دار و مدار ہوتا ہے۔

نیوزی لینڈ اولمپک کمیٹی کی سربراہ کیرن اسمتھ کا کہنا ہے کہ ہبارڈ بین الاقوامی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی شرائط پر پورا اترتی ہیں۔

اسمتھ کا کہنا تھا کہ ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ کھیلوں میں جنس کی شناخت اور تعین انتہائی حساس اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے، جس کے تعین کے دوران انسانی حقوق اور کھیل کے میدان میں توازن کے معیار کو مدِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا تعین کرتے وقت ہم ثقافتی تقاضوں کا پورا خیال کرتے ہیں جس میں سب کی حرمت کا پہلو بھی شامل ہوتا ہے۔

ہبارڈ کے انتخاب پر تنقید

دریں اثنا خواتین ایتھلیٹس کی حامیوں کے ایک گروپ ‘سیو ویمن اسپورٹ آسٹریلیشیا’ نے ہبارڈ کے انتخاب پر نکتہ چینی کی ہے۔

ایک بیان میں گروپ نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی پالیسی غلط ہے جس میں 43 برس کے جسمانی طور پر ایک مرد کو خاتون قرار دے کر خواتین کی کیٹیگری میں شمار کیا گیا ہے۔

ویٹ لفٹنگ کے میدان میں ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کے خواتین کے ساتھ مقابلے کا معاملہ مباحثے کا مرکز بنا رہا ہے جس میں انصاف کے تقاضوں پر سوالیہ نشان اٹھائے جاتے ہیں۔ اسی لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹوکیو اولمپکس میں ہبارڈ کی موجودگی سوچ میں تقسیم کا باعث بن سکتی ہے۔

یاد رہے کہ سن 2019 میں ہبارڈ نے سمووا میں پیسیفک گیمز کے دوران طلائی تمغہ جیتا تھا جہاں انہوں نے سمووا کامن ویلتھ گیمز کی چیمپئن فیگائگا سٹوورز کو ہرایا تھا۔ میزبان ملک نے اسے ناانصافی قرار دیا تھا۔

سمووا ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے سربراہ نے کہا تھا کہ ٹوکیو مقابلوں میں ہبارڈ کا انتخاب انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرے گا۔

اُنہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ اس طرح کا فیصلہ پیسیفک کے چھوٹے سے ملک سے طلائی تمغہ چھیننے کے مترادف ہو گا۔

گزشتہ ماہ بیلجیم کی ویٹ لفٹر اینا وان بیلنگھن نے کہا تھا کہ ہبارڈ کو ٹوکیو مقابلوں میں شرکت کی اجازت دینا غیر منصفانہ اقدام ہو گا۔

ادھر، آسٹریلیا کی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن نے 2018ء کے کامن ویلتھ گیمز میں ہبارڈ کی شرکت پر قدغن لگانے کا مطالبہ کیا تھا جو گولڈ کوسٹ میں منعقد ہوئے تھے۔ لیکن منتظمیں نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ مقابلوں کے دوران زخمی ہونے کی وجہ سے ہبارڈ کو مقابلے سے باہر رکھا گیا تھا جس کے بعد عام تاثر یہ تھا کہ اب ان کا کریئر تمام ہو چکا ہے۔

ہبارڈ نے پیر کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ "تین برس قبل کامن ویلتھ گیمز میں میرا بازو ٹوٹا تو مجھے کہا گیا کہ شاید اب کھیلوں کی دنیا میں میرا مستقبل ختم ہو چکا ہے۔ لیکن آپ کی حمایت، ہمت افزائی اور محبت کے نتیجے میں یہ تاریکی کا دور ختم ہوا ہے۔”

نیوزی لینڈ اولمپک ویٹ لفٹنگ کے صدر رچی پیٹرسن نے کہا ہے کہ ہبارڈ ایک پرعزم کھلاڑی ہیں جو زخمی ہونے کے بعد اعتماد کے ساتھ پھر سے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔

ان کے بقول ٹوکیو مقابلوں میں شرکت کی حتمی تیاری کے دوران ہم ہبارڈ کو درکار مدد فراہم کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2570 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے