EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

یونیورسٹی میں نوجوان کا مبینہ گینگ ریپ: پولیس اب تک ملزمان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر پائی؟

سارہ عتیق - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ریپ

Getty Images

اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں 24 سالہ طالب علم کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کے واقعے کو تین دن گزر جانے کے بعد بھی وفاقی پولیس ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج سمیت کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اگرچہ یونیورسٹی انتظامیہ بھی اس واقعے کی تصدیق کر چکی، میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی اس سے متعلق بات ہو رہی ہے اور اسلام آباد پولیس کے مطابق یہ معاملہ ان کے علم میں بھی ہے، مگر ابھی تک اس واقعے کی کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی ہے۔

یاد رہے کہ متاثرہ طالبعلم کے مطابق اُن کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کا واقعہ سنیچر کی شام اُس وقت پیش آیا تھا جب متاثرہ نوجوان دیگر طلبا کے ساتھ اسلامی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رات گزارنے کے لیے آیا تھا۔

مبینہ گینگ ریپ کی ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی گئی؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایس پی انڈسٹریل ایریا زون فدا حسین ستی کا کہنا ہے کہ متاثرہ طالب علم کو جب طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تو انھوں نے وہاں پر طبی عملے کو لکھ کر دیا کہ وہ ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کروانا چاہتے۔

انھوں نے کہا کہ متعلقہ پولیس سٹیشن کا عملہ ابھی بھی متاثرہ طالب علم کے ساتھ رابطے کی کوشش کر رہا ہے اور ان کی معلومات کے مطابق ابھی تک متاثرہ طالب علم سے رابطہ نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’پولیس نے روزنامچے میں اس واقعے کو رپورٹ کیا گیا ہے مگر مقدمہ اس لیے درج نہیں کیا گیا کیونکہ متاثرہ طالب علم نے لکھ کر دیا ہے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں چاہتے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ایس پی فدا ستی کا کہنا ہے کہ پولیس اپنے تیئں اس واقعے کا مقدمہ درج نہیں کر سکتی کیونکہ ’یہ جرم ایک شخص کے خلاف ہوا ہے اور اگر متاثرہ شخص درخواست دے تب ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے میں مدعی نہیں بن سکتی۔

جب بی بی سی نے پمز ہسپتال کے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر ارشاد اور ایمرجنسی کے سربراہ ڈاکٹر فرخ کمال سے رابطہ کیا اور پوچھا گیا کہ ان کی جانب سے کوئی میڈیکل رپورٹ کیوں نہیں مرتب کی گئی تو ڈاکٹر فرخ کا کہنا تھا کہ ’ریپ کیس میں تفصیلی میڈیکل معائنہ اور پھر اس کی رپورٹ کے لیے متاثرہ شخص کی اجازت لازمی ہے۔ ڈاکٹر اس شخص کی مرضی کے بغیر اس کا معائنہ نہیں کر سکتا۔‘

یونیورسٹی کا کیا کہنا ہے؟

یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق تھانہ سبزی منڈی کے ایس ایچ او نے یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا تاہم یہ جاننے کے بعد کہ متاثرہ نوجوان ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں چاہتا، پولیس نے مزید کارروائی نہیں کی۔

یونیورسٹی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے نہ تو جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور نہ ہی کسی قسم کے شواہد اکھٹے کیے گئے۔‘

ترجمان کے مطابق یونیورسٹی نے بھی واقعے کی ایف آر درج نہیں کروائی کیونکہ متاثرہ نوجوان ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ متاثرہ نوجوان کی ویڈیو کس نے سوشل میڈیا پر جاری کی۔

ناصر فرید کے مطابق جب یونیورسٹی کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کروائی گئی تو معلوم ہوا کہ متاثرہ نوجوان کا تعلق اس یونیورسٹی سے نہیں ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کے بیان کے مطابق وہ اپنے دوستوں کے ساتھ رات گزارنے کے لیے یونیورسٹی ہاسٹل آیا تھا اور اس نے اپنے ابتدائی بیان میں ملوث افراد کو اپنا دوست بتایا تھا۔

ترجمان کے مطابق واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ایک شخص یونیورسٹی کے ملازم کا بھائی ہے۔

’یونیورسٹی ملازم نے اپنے بھائی کو غیر قانونی طور پر ہاسٹل کے کمرے میں رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ دو اور یونیورسٹی کے طلبا غیر قانونی طور پر وہاں رہائش پزیر تھے جبکہ انھیں بھی یہ کمرہ انتظامیہ کی جانب سے نہیں دیا گیا تھا۔‘

ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح ہی یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ڈسپلن کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا جس نے یونیورسٹی ملازم کو فوری طور پر نوکری سے برطرف کر دیا جبکہ دو طلبا کا داخلہ معطل کر دیا اور اس کے علاوہ کوتاہی برتنے پر تین سکیورٹی گارڈز کو بھی معطل کر دیا گیا۔

موبائل

BBC

یونیورسٹی ترجمان کے مطابق انھوں نے ’متاثرہ نوجوان کو ایف آئی آر درج کروانے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی اور اس کے لیے پولیس کی ہیلپ لائن ون فائیو پر بھی کال کی تاہم نوجوان نے کوئی بھی قانونی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا۔‘

کیا متاثرہ شخص کا لکھ کر دینا کوئی کارروائی نہ کرنے کے لیے کافی ہے؟

قانونی ماہرین اور وکلا اس بات سے متفق نہیں ہیں۔

ماہر قانون فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ریپ کو ریاست کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے جس کے لیے متاثرہ شخص کا خود ایف آئی آر درج کروانا لازمی نہیں بلکہ پولیس یا یونیورسٹی انتظامیہ خود اپنی مدعیت میں بھی اس کے خلاف مقدمہ درج کروا سکتی تھی۔

ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ضیا اعوان کا کہنا ہے کہ ’اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ متاثرہ شخص نے کیا لکھ کر دیا ہے۔ اگر ایک ایسا فعل ہوا ہے جسے ریاست پاکستان ایک جرم مانتی ہے تو اس کی ایف آئی آر درج ہونا لازمی ہے۔ بظاہر یہ اس علاقے کے ایس ایچ او کی غفلت ہے کہ اس نے نہ تو اس کی ایف آر درج کی اور نہ ہی اس جرم کی تحقیقات کے لیے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور لوگوں سے تفتیش کی۔‘

ماہر قانون فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ متعدد کیسز میں عدالت یہ بات کہہ چکی ہے کہ جرم کی تحقیقات کرنا پولیس کا فرض ہے اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی مدعی کے سامنے آنے کا انتظار کرے کیونکہ دیر اور شواہد ضائع ہونے کے صورت میں ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور: مدرسے میں طالب علم کا مبینہ ریپ کرنے والا ملزم استاد گرفتار

خاتون کانسٹیبل سمیت 20 سے زیادہ خواتین کو ریپ کرنے والا ’سیریئل ریپسٹ‘ گرفتار

اسلام آباد میں ریپ کی وارداتوں کے الزام میں باپ بیٹا ٹیکسی ڈرائیور گرفتار

ملوث افراد اگر پھر ایسا جرم کرتے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں قانون کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مشتاق احمد کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے واقعے میں ملوث افراد کو یونیورسٹی سے نکال دینا کافی نہیں کیونکہ یہ مبینہ جرم یونیورسٹی حدود میں پیش آیا ہے جس کی مکمل پولیس تحقیقات ہونی چاہیے اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ اکثر ریپ کا شکار ہونے والا شخص شرم یا صدمے میں ہونے اور دیگر وجوہات کی بنا پر پولیس رپورٹ درج کروانے سے کتراتا ہے لہذا اس کی ذمہ داری پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس واقعے کا مقدمہ درج کروائے۔

مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں متعدد مبینہ جرائم سرزد ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’پاکستان کے قانون کے تحت ریپ کا شکار ہونے والے شخص کی شناخت ظاہر کرنا جرم ہے جبکہ اس واقعے میں متاثرہ شخص کی مرضی کے بغیر اس کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے سوشل میڈیا میں لیک کیا گیا اس کی تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔‘

طالب علم کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کا واقعہ کب پیش آیا؟

سنیچر 19 جون کی شام سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں ایک نوجوان یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ گینگ ریپ کی تفصیلات بتا رہا ہے۔

یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق یہ واقعہ جمعرات 18 جون کی رات کو پیش آیا جب متاثرہ نوجوان یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ ہاسٹل میں آیا۔

ناصر فرید کے مطابق متاثرہ نوجوان نے یونیورسٹی انتظامیہ کو بتایا کہ تین سے چار افراد نے ہاسٹل کے ایک کمرے میں اس کے ساتھ ریپ کیا اور جمعہ کی صبح سکیورٹی گارڈز کو متاثرہ نوجوان کمرے کے باہر ملا اور اُس نے گارڈز کو بتایا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں جس پر سکیورٹی اہلکار اسے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے گئے۔

تاہم متاثرہ شخص نے ڈاکٹر کو میڈیکو لیگل رپورٹ بنانے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ وہ واقعے کے خلاف کارروائی نہیں کروانا چاہتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19940 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp