نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل خط نمبر 01


خط نمبر 01

ہمارے ہاں زندگی کے بے شمار ایسے پہلو اور مسائل ہیں جن پر کبھی بات نہیں ہوتی اور اس بات نہ ہونے کے پیچھے بہت سے عناصر ہیں۔ جہاں اندھی عقیدت اور بے جا نفرت ہماری زندگی کے بے شمار پہلوؤں کو اچھی طرح سلجھائے جانے کے راستے میں آتی ہیں وہیں ہمارا مکالمے سے دور بھاگنا بھی ہمیں باتوں کی تہہ میں اترنے سے دور رکھتا ہے۔ ہمارے ہر سماجی ادارے میں مکالمے کا فقدان ہے۔ معاملات کو ڈنڈے کے زور پر یا پھر خودغرض مٹھاس کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر ڈھنگ سے بات کر کے، اس کی تہہ میں اتر کر حل تلاش کرنے کی کوشش کوئی نہیں کرتا۔

میں نے اکتوبر 2020 میں ”ہم سب“ پر اپنا پہلا بلاگ لکھا تھا جس کا عنوان ”محترم اساتذہ ایک نظر ادھر بھی“ تھا۔ یہ بلاگ اساتذہ کے عالمی دن کے حوالے سے تھا۔ ہر جگہ جہاں ہمارے روایتی اساتذہ کو عظمت کے تاج پہنانے جا رہے تھے وہیں مجھے اپنے اسکول اور کالج کے زمانے کے اساتذہ کی یاد ستا رہی تھی کہ کس طرح وہ نئے سوال کا گلا دباتے تھے اور پوری کوشش کرتے تھے کہ بچے سلیبس تک ہی رہیں اور سلیبس کو اچھے سے رٹنے والا ہیرو بن جاتا تھا اور سافٹ بورڈ پر چمکتے ستاروں میں نہ صرف اس کا نام لکھ دیا جاتا تھا بلکہ اساتذہ دوسرے بچوں کو احساس کمتری کا شکار کرنے کے لئے ہمیشہ ان اپنے بنائے ہوئے چمکتے ستاروں سے موازنے کرتے تھے۔

میرے ذہن میں فلم کی طرح سے ایک واقعہ چل رہا تھا جب میں نے اپنے ایک استاد سے پوچھا تھا کہ ”اقبال کو کتابوں میں ہمیشہ ہیرو کی طرح پڑھا ہے۔ ایک نئی تحریر میں میں نے یہ پڑھا کہ اقبال نے اپنی شاعری میں مذہبی شدت پسندی کو بھی فروغ دیا ہے۔ اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟“ اس استاد نے مجھ سے مکالمے کی بجائے مجھے آدھے گھنٹے کے لئے پوری کلاس کے سامنے کھڑا کر کے اس طرح سے احساس دلایا کہ میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کر دیا ہو اور تو اور میرا کوئز بھی نہیں لیا تھا۔

یہ فقط ایک مثال ہے کہ کس طرح ہمارے ہاں مکالمے کا قتل ثواب کا کام سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ میں نے اپنے پہلے بلاگ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور بچوں کے درمیان مکالمے کے قتل پر بات کی تھی۔ درحقیقت مکالمے کا قتل صرف ایک سنگین معاملہ اس وجہ سے نہیں کہ یہ قتل ہے بلکہ اس وجہ سے بھی ہے کہ یہ بہت سی غلیظ بیماریوں کی پیدائش کا سبب بھی ہے جن میں سے سب سے بڑی بیماری شدت پسندی ہے جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

ہم سب پر میں نے لکھنا شروع کیا تو یہاں موجود دوسرے لکھنے والوں کا کام بھی پڑھنے کو ملا۔ یوں یہاں کے ریگولر لکھاریوں کے ساتھ میری جان پہچان بڑھتی گئی۔ مجھے ہمیشہ سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں، انسان کی زندگی اور اس کی نفسیات میں گہری دلچسپی رہی ہے اور یہاں ایک ماہر نفسیات اور دانشور ڈاکٹر خالد سہیل کی تحریریں مجھے کسی تحفے کی طرح ملیں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو باقاعدگی سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کے مضامین ان کے مختلف مریضوں، ان کے نفسیاتی و سماجی مسائل وغیرہ پر ہوتے اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کے فلسفیانہ مضامین بھی میں بہت شوق سے پڑھتی۔

ایک دن میں نے ڈاکٹر صاحب کو ای۔ میل کی اور ان کے مضامین کو سراہا۔ میں نے انھیں بتایا کہ کس طرح سے ایسے مضامیں مجھ جیسے کئی دوسرے طالبعلموں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ ہم تو ایسے معاشرے میں پل رہے ہیں جہاں سوال کرنا حرام ہے اور ایسے میں علم کے دروازے کہیں پر کھلتے دکھائی نہیں دیتے۔ تعلیمی ادارے صرف کاروبار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ہمارے بزرگان کچھ اس طرز کے ہیں کہ وہ صرف ”جی جی“ کروانا چاہتے ہیں شاید انھوں نے ساری زندگی جی جی ہی کی ہے اور اب جب ان کے سر پر کوئی بڑا نہیں رہا اور وہ ہمارے سروں پر بڑے ہیں تو ہم سے بھی فقط ”جی جی“ ہی کی توقع رکھتے ہیں۔

یہ توقع نوجوانوں کی بہت سی امنگوں اور خوابوں کو مار دیتی ہے لیکن ان خوابوں کے قتل پر کوئی بات نہیں کرتا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ حال ہی میں میں نے نوجوانوں کے کم عمری کے رومانوی تعلقات پر آرٹیکل لکھا تھا یہ مسئلہ ہمارے نوجوانوں میں مقبول ہونے کے باوجود ہمارے ہاں ایک taboo ہے۔ میں نے خواہش ظاہر کی کہ میں کسی ماہر شخص کے ساتھ ایسے کئی موضوعات جو نوجوانوں کو متاثر کرتے ہیں لیکن کبھی ڈسکس نہیں کیے جاتے ان پر تفصیلاً بات کرنا چاہتی ہوں۔ میں واقف ہوں کہ ہمارے جیسے معاشروں میں ہر بات صرف سطحی طور پر ایڈریس کی جاتی ہے سو میں نے ڈاکٹر صاحب سے التماس کی کہ وہ میرے کچھ سوالات پر میری رہنمائی فرمائیں۔

ایک دن بعد ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب موصول ہوا اور انھوں نے میری کاوش کو سراہتے ہوئے مجھے بتلایا کہ وہ میرے ساتھ اس مکالمے کے لئے تیار ہیں۔ میں ان کی ای میل پڑھ کر بہت خوش ہوئی تھی۔ ای میل میں ڈاکٹر صاحب نے اپنا رابطہ نمبر بھی مینشن کیا ہوا تھا۔ پھر میری ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کال پر پوری تفصیل سے بات ہوئی۔ ہم نے بھرپور طریقے سے اپنے اس مکالمے کر پراجیکٹ کو ڈسکس کیا چونکہ ڈاکٹر صاحب کینیڈا میں مقیم ہیں اور میں یہاں پاکستان میں سو یہ مکالمے تحریری خطوط کی طرح سے ہوں گے ۔

اس مکالمے کی ایک کردار میں ہوں جو اکیس سال کی ایک پاکستانی لڑکی ہے، انڈر گریجوئیٹ اسٹوڈنٹ اور ایک نئی لکھاری ہے۔ جس کے ذہن میں زندگی کو لے کر کئی گرہیں ہیں اور کئی پہیلیاں ہیں خاص طور پر اپنے ہم عمر لوگوں کے حوالے سے۔ بدلتی ہوئی رتوں لیکن ہمارے ان رتوں کے جواب میں روایتی طرز کے حوالے سے۔ وہیں ہمارے دوسرے کردار ایک ماہر نفسیات اور ایک دانشور ہیں جو کہ نہ صرف اپنے علم میں بلکہ اپنی عمر میں بھی سینئر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اس مکالمے میں نہ صرف میری پہیلیوں کو ایڈریس کریں گے بلکہ بڑی عمر کے لوگوں کی نمائندگی بھی کریں گے۔

مجھے امید ہے کہ ہمارے ان تحریری مکالموں سے نہ صرف مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا بلکہ اور بھی بہت سے لوگ مستفید ہو سکیں گے۔ مختلف ایج گروپس کے لوگوں کے درمیان یہ تحریری تفصیلی مکالمہ پر امن اور گہرے ڈائیلاگ کو فروغ دینے کی طرف ایک خوش آئند قدم ثابت ہوگا!

Facebook Comments HS