حافظ آباد کا پیلو والا پہلوان


                 

یوں تو ہمارے گھر سے سکول کا گلیوں سے ہوتے سیدھا راستہ پیدل دس منٹ کا ہی ہوگا۔ مگر انیس سو انچاس میں جب ہمارے گھر نیا بائیسکل آ گیا تو یہ فاصلہ ہمیں بہت لمبا لگنے لگ گیا۔ اور ہم تینوں بھائی تقریباً دوگنا سفر کرتے سکول جانا آنا شروع ہو گئے۔ کہ چنیوٹ کی گلیوں میں اس زمانہ میں نالیاں گلی کے درمیان ہوتیں اور ہر گھر سے نکلی نالی اس میں درمیان میں آ ملتی۔ اب ایک تو گلیاں ویسے ہی ہمارے بچپن کے کھیل شٹاپو کا نقشہ پیش کرتیں۔ دوسرے عموماً گلی کے چھوٹے بچے انہیں نالیوں میں حوائج ضروریہ سے نہ صرف فارغ ہوتے نظر آتے۔ بلکہ گھیسی کرتے بھی نظر آتے۔ اور یہ گھیسی کیا ہوتی ہے یا ہوتی تھی۔ اپنے بزرگوں سے پوچھ لیجیے گا۔ بس یہی کافی کہ ان گلیوں میں سائیکل نہیں چل سکتا تھا۔

ہاں تو بائیسکل پر میں آگے ڈنڈے پہ براجمان ہوتا بڑے بھائی چلاتے اور تیسرے اچک کے کیریر پر بیٹھنے کی مہارت کا مظاہرہ کرتے۔ تو اس دن جب سکول سے واپسی پر ابھی چوک جتو تھان سے کچھ دور ہی تھے کہ سامنے سے آتے تانگے کا گھوڑا بدکا۔ سائیکل کو توازن بگڑا اور ہم تینوں بھائی تانگے والی سائیڈ پہ جا گرے۔ تانگہ بان صورت حال دیکھ بڑی مہارت سے ہمیں کچلے جانے سے تو بچا گیا۔ مگر جب میں اٹھا تو دایاں بازو کہنی سے آگے نیچے لٹک رہا تھا۔ گو زخم کوئی نہیں تھا۔

اب تیسری جماعت کے طالب علم کا اس وقت جو حال ہوگا وہ تو تھا۔ مگر چند منٹ میں ارد گرد جمع ہو گئے دائرہ بنا کھڑے مجمع میں سے ماہر ڈاکٹر نکل میری کہنی ٹٹول آگے پیچھے دبا دیکھ یہ تشخیص تو کر چکے کہ بظاہر ہڈی نہیں نہیں ٹوٹی۔ مگر کہنی سے جوڑ نکل گیا ہے۔ فوراً وہیں سے شہر کے تین چار اکھاڑوں اور پہلوانوں کے نام بھائی کو یاد کرائے گئے جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے۔ گھر پہنچتے ہی والدہ نے ہمارے لٹکتے بازو کو پٹی سلنگ بنا گلے سے لٹکایا۔

اور اپنے شٹل کاک برقع میں بڑے بھائی کو ساتھ لے چنیوٹ شہر کے اپنی دانست میں سب سے مشہور ہڈیوں کے ہسپتال عرف اکھاڑا پہلوان فلاں میں پہنچایا۔ استاد پہلوان نے اپنے دو تین پٹھے ساتھ بٹھائے۔ اور دو تین گھنٹے بعد پہلوانوں کے داؤ پیچ میں جکڑے (مسکن یا درد دور کرنے کی دوا بھول جائیں ) چیختے چلاتے بازو کی کھینچا تانی کرواتے کہنی کا جوڑ اپنی جگہ بٹھوا بانس کی لمبی لمبی چپٹیاں کہ پلستر کی پیش رو تھیں۔ کندھے کے قریب سے ہتھیلیوں کے اوپر تک بندھی پٹی کے اوپر بندھوا گرم۔ ”میٹھے اور تارے میرے“ کے تیلوں کو پٹی کے اوپر گرا تارے دکھا دینے والی بو اور جلن پورے بازو کی جلد تک پہنچانے کی ہدایات کے ساتھ ہم گھر واپس پہنچ چکے تھے۔ زمانہ بعد آٹو پارٹس ڈیلر بن کر جب مکینک حضرات کو ٹائی راڈ اینڈ بال جوائنٹ اور کاروں کے گوڈے فٹ یا مرمت کرتے دیکھتا تو پہلوان جی کا بازو کا بال جوائنٹ فٹ کرنا یاد آ جاتا ۔

جب آخری بار بانس کی چپٹیاں اتار صرف تیل کی مالش کا علاج باقی رہنے کی نوید سنائی تو ساتھ ہی سوتے جاگتے سرزد ہوئی کسی بے احتیاطی کا نتیجہ۔ کہنی کے جوڑ کے قریب ذرا سا خم اور کندھے پہ لے جاتے انگلیاں کندھے کو چھونے کی بجائے ایک دو انچ اوپر رہ جانے کا نقص آشکارا ہو چکا تھا۔ پہلوان صاحب کی رائے تھی۔ کہ معمولی نقص ہوا ہے اور اب چھیڑنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مگر ماں کو چین کہاں۔ کلکتہ لاہور کانپور امرتسر جیسے بڑے شہر گھوم چکی ہماری ماں بیٹے کے بازو کے علاج کے لئے سرگرداں ہو چکی تھی۔

اب یہ وہ زمانہ تھا جب ہڈی جوڑ اور جسمانی ورزش کے ماہر پہلوانوں کے اکھاڑوں میں ملتے۔ پھوڑے پھنسی کے علاج یا معمولی جراحی۔ اور ختنے اور جھنڈ اتارنے کے علاوہ شادی بیاہ سوگ پہ پکوائی کے ماہر کبھی کبھار کسی دکان کے علاوہ عموماً سڑک کنارے کسی درخت کے نیچے ٹوٹی میز کرسی پہ شیشہ سجائے یا چٹائی بچھائے بلکہ پستول کی گولیوں کی کمر کے گرد یا کندھے سے لٹکتی بیلٹ کی طرح کے استرے قینچیاں کنگھے وغیرہ سے مزین بیلٹ لگائے ہاتھ میں اوزاروں اور مرہموں والی صندوقچیاں اٹھائے جنہیں چنیوٹ کی بولی میں رچھانی کہتے، گھومتے پھرتے نائی یا حجام نظر آتے اور گاہک ملنے پر ہم جہاں بیٹھ کے پڑھ لیں وہیں کالج ہو جائے کے مصداق وہیں کہیں ڈیرہ لگا لیتے۔ اس زمانے کے ٹاک شو سیاسی بحثوں اور خبر نامے بھی ان ہی کی سرپرستی میں ہوتے۔ کہ ان کی حیثیت ماڈریٹر کی بھی ہوتی اور ثقہ رپورٹر کی بھی۔ دانتوں کے علاج کے ماہر مجمع لگائے یا بسوں میں اپنی چرب زبانی سے منجن بیچنے سے لے انگلی لگا کیڑا لگا دانت باہر کردینے والے ہوتے۔

جو سڑک کنارے زنبور سے دانت کھینچتے مریض کی بلبلا ہٹ کا مزا لیتے۔ البتہ آج کے سی پیک کے ساتھ آنے والے چینی بھائیوں کی طرح اس زمانے میں چینی دندان ساز اور چینی جوتا ساز کے بورڈ لگی دکانیں واقعی اپنے فن میں بہترین شہرت رکھتیں۔ سڑک پہ بیٹھے موچی۔ اور تیل مالش کا نعرہ لگاتے سر جو تیرا چکرائے قسم کے گانے گاتے آج کے مساج پارلرز ہاتھ میں تیل کی شیشیاں پکڑے آپ کی تھکاوٹ دور کرنے کسی مصروف چوک میں اپنے قریب بیٹھے لال رنگ کی پگڑی میں پتلی لمبی تیلیوں جیسے کانوں کے نقائص کی تشخیص اور صفائی کرنے والے کن میلئے سے گپ شپ کرتے ملتے۔

انہی چوکوں سڑکوں کنارے لمبی سی آگے پیچھے ہونے والی نالی میں لگے عدسے کے ساتھ عبارت پڑھا عینکوں کے نمبر بتاتے ساتھ پڑی عینکوں کو بیچنے والے ملتے۔ تو ہر دیوار پر زنانہ مردانہ بیماریوں کے علاوہ ناسور بھگندر کچھرالی۔ گلہڑ۔ کاربنکل وغیرہ کے علاوہ ہر باقی بیماری کی علاج گاہوں کا بھی چراغ روشنائی اور امرت دھارا اور دوسری اشیاء کے اشتہاروں کے ساتھ چونے سے بنائے چوکھٹوں میں لکھا ملتا۔ اور یہ سب کچھ بڑے شہروں میں بھی بڑے اداروں دکانوں کے موجود ہوتے بھی اپنا مقام رکھتے تھے۔

میو ہسپتال لاہور جیسے اداروں سے معائنہ کروانے اور اپنے دلی اطمینان نہ ہو سکنے پر پھر کسی دیسی آرتھوپیڈک ماہر کی تین چار ماہ کی تلاش کے بعد اماں مایوس مریضوں کی آخری علاج گاہ کے طور پر حافظ آباد کے بہت ہی مشہور ہڈی جوڑ ماہر جو غلط جڑے جوڑ ٹھیک کرنے کا بھی ماہر تھا حافظ آباد کے پیلو والے پہلوان کا پتہ لگا چکی تھیں کہ وہاں کا ہر باشندہ اس کا پتہ جانتا ہے۔ یہی اس کا ایڈریس تھا۔ اور چند روز بعد اپنے شٹل کاک برقعہ میں ملبوس ہماری ماں مجھے اور بڑے بھائی اور ایک ہمارے کزن کو ساتھ لئے صبح صبح حافظ آباد سٹیشن پر گاڑی سے اتر سٹیشن کے باہر کھلی جگہ درخت کے نیچے ڈیرہ لگا چکی تھیں۔ اور کلکتہ سے ابا جان کے بھیجے جنگ کے بعد بکتے ہندوستان چھوڑ کے جاتے وقت نیلام کردہ سامان میں سے خریدی اشیاء کے ساتھ خریدا پور ٹیبل فولڈنگ چولہا جسے کھول درمیاں ایک ٹکیا رکھ آگ لگا استعمال کیا جاتا۔ جلا چائے بنانے میں مشغول تھیں۔

یہ ٹکیا کیرم بورڈ کے سٹرائکر کے سائز اور شکل مگر ذرا موٹی ہوتی۔ اتنی دیر میں بھائی اور کزن حافظ آباد سٹیشن اور ارد گرد میں نظر آنے والے ہر باشندے سے مشہور و شہر بھر معروف پیلو والے پہلوان کا اتا پتہ معلوم کرنے میں ناکام واپس آ چائے رس بسکٹ سے ناشتہ کرتے شہر کے اس معروف پہلوان کا شہر کے اندر پتہ ڈھونڈنے جا چکے تھے۔

اور کوئی تین گھنٹے خجل ہونے کے بعد کسی کو اس کے نام تک نہ پتہ ہونے کی خبر کے ساتھ حافظ آباد کے ایک اور مشہور ماہر پہلوان کا پتہ ملتے اس سے ملاقات کرنے بعد آ چکے تھے۔ اب ہم ایک کھلے میدان کے گرد آبادی میں ایک گلی کی نکڑ والے گھر میں پہلوان صاحب سے معائنہ کروا رہے تھے۔ جنہوں نے مکمل یقین دلایا کہ کوئی تین ہفتہ روزانہ دن میں چار مرتبہ مالش سے جوڑ کچا ہو جائے گا اور ہلا کر صحیح جگہ بٹھا دیا جائے گا۔ چنانچہ پہلوان صاحب کو ایڈوانس آنے کا کرایہ اور کچھ ہدیہ دے شام کی گاڑی سے ہم واپس آ گئے اور چند دن بعد پہلوان صاحب محلہ گڑھا چنیوٹ کے ہمارے گھر کی بیٹھک میں وی آئی پی مہمان کی حیثیت سے مقیم دن میں چار پانچ مرتبہ کبھی میٹھا تیل کبھی تارے میرے کا تیل کبھی کوئی مرہم لگا مالش کر ہلکا یا سخت کبھی کبھار کہنی کے جوڑ کر بل دے اس جوڑ کو کچا کرنے میں مصروف ہو گئے۔

آخر وہ دن آیا جب جوڑ کچا ہو جانے کا یقین ہو جانے پر دو تین گھنٹے لگاتار مالش اور جوڑ کو ہلاتے رہنے کے بعد گلی کے تین چار طاقتور ہمسائے اوپر کی منزل کے صحن میں مجھے درمیان لئے بیٹھے تھی ایک کمر کو جکڑے کہنی سے اوپر بازو کو کندھے کا جوڑ بچانے پکڑے ایک پاؤں ٹانگوں کو پکڑے اور دو بازو کو کھینچنے لگ گئے تا جوڑ سے ہڈی کھسکے تو پہلوان جی صحیح جگہ رکھ سکیں۔ میری چیخیں کون سنتا۔ جب کافی تگ و دو کے بعد بھی جوڑ نہ ہلا اور زیادہ قوت سے کھینچنے کا کہا گیا۔

تو اچانک ماں چیخ پڑی۔ رک جاؤ۔ اور کہا کہ اس طرح تو بازو کی باقی رگیں کھنچنے اور بازو بیکار ہونے یا کسی اور نقصان کا خدشہ ہے، بس جیسا ہے رہنے دو۔ اور یوں یہ آپریشن ”جوڑ ہلائی سیدھا لگائی“ انجام کو پہنچ چکا تھا اور اگلی صبح پہلوان صاحب کو پورے اعزازیہ کی ادائیگی کے ساتھ سٹیشن پر الوداع کہا جا رہا تھا۔

بہتر سال گزر گئے۔ الحمدللٰہ بازو ہلکا سا ٹیڑھا ( غور سے دیکھنے سے ) نظر آنے کے علاوہ کسی کام میں کوئی رکاوٹ نہیں محسوس ہوئی۔ ہاں جوانی میں تلاش رشتہ کے دوران محسوس ہوا کہ لڑکی والوں کی اول ترجیح فوجی افسر کی ہوتی ہے تو اپنے فوج میں بھرتی کے نا اہل ہونے کا پچھتاوا جھلکی دکھا گیا۔

آج بھی جب کبھی شیشے آگے کھڑے کہنی پہ ہلکے خم پہ دھیان چلا جائے تو ماں کے دل کا وہ درد وہ شفقت اور وہ در در گھوم علاج کے رستے تلاش کرنا ان کے لئے ہر ممکن دعا نکلواتا ہے۔ اور ساتھ ہی فیصل آباد کے مکینک کی ڈھیلے بال جوائنٹ یا ٹائی راڈ کی مرمت کے بعد گولی کو ٹکانے بٹھانے اور اپنی کہنی کے جوڑ کی ہڈی کھسکا ٹھکانے بٹھانے کے نظارے کی مماثلت یاد آ جاتی ہے۔ مگر سب سے زیادہ حافظ آباد کا وہ پیلو والا پہلوان یاد آتا ہے۔ جسے شہر کا بچہ بچہ جانتا تھا مگر ہمیں نہ مل سکا

ہاں حافظ آباد کی کسی حاضر یا سابقہ باشندے کو اس پیلو والے پہلوان کی کوئی سن گن ملے۔ تو ضرور مطلع فرمائے۔ کہ ہماری تلاش اس گوہر مقصود کی خبر پا سکے

Facebook Comments HS